بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مذاقاً ست سری اکال، جے شری رام اور بھگوان کی جے ہو کہنا


سوال

میں اپنے چاچو کے ساتھ فون پہ بات کر رہا تھا، انہوں نے فون اٹھاتے ہی ”ست سری اکال“ بولا جس کے جواب میں میں نے بھی”ست سری اکال، جے شری رام اور بھگوان کی جے ہو“ بولا، یہ سارے الفاظ مذاقاً کہے تھے، شرعاً ایسے الفاظ بولنے کا کیا حکم ہے؟ میرے پاس اس وقت میرے والد بیٹھےتھے، انہوں نہ بولا ایسا بولنے سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ”ست“ کا معنی ہے”سچ،صحیح،درست“ اور”سری“ کا لفظ ادب کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا معنی ہے”صاحب،جناب“ اور ”اکال“ سکھ مذہب میں ان کا معبود مانا جاتا ہے، جس کے معنی ہے”بلا موت،بےزمانہ،لازوال“؛ لہٰذا اس پورے جملے کا معنی ہوا”سچ ہے لازوال دیوتا“ اور یہ سکھوں کا مذہبی نعرہ اور مذہبی شعار ہے۔ اسی طرح”جے“کامعنی ہے”زندہ باد،یعنی جیتے رہو“ اور”رام“ ہندو مذہب میں ان کامعبود اور بھگوان مانا جاتا ہے،لہذا”جے شری رام “کا معنی ہوا”رام بھگوان جی جیتے رہے“، یہ نعرہ ہندؤں کا ایک مذہبی نعرہ اور مذہبی شعار ہے۔اسی طرح”بھگوان کی جے ہو“ ہندؤں کا مذہبی نعرہ ہے جس کا معنی ہے”ان کا معبود زندہ باد یعنی وہ جیتا رہے“، وہ لوگ اپنی دیوتا کی تعریف یا عقیدت کا اظہار کرتے وقت اس طرح بولتے ہیں۔اور بلا ضرورت غیر مسلم کا مذہبی شعار اختیار کرنا کفر تک پہنچا دیتا ہے چاہے وہ مذاقاً ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے چاچو نے استفتاء میں مذکور جو الفاظ ادا کیے تو اگرچہ اعتقاداً نہیں کہے ہیں بلکہ مذاقاً کہے ہیں اس کے باوجود دونوں کواحتیاطاً تجدید ایمان ونکاح کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے ایسی باتوں سے پختہ توبہ کرنا ضروری ہے۔

فیروز اللغات میں ہے:

”ست:(صف)سچ-صحیح-درست-سچا-کھرا/کال:موت-زمانہ۔“

(س، ص:524،413، ط:فیروز سنز)

وفیہ ایضاً:

”(جے):زندہ باد۔(شری):جناب ،صاحب۔“

(ص:841،540،ط:فیروز سنز)

و فیہ ایضاً: 

"(وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لايعقل وسكران ومكره عليها، وأما البلوغ والذكورة فليسا بشرط بدائع".

(قوله والطوع) أي الاختيار احترازا عن الإكراه ودخل فيه الهازل كما مر لأنه يعد مستخفا لتعمده التلفظ به، وإن لم يقصد معناه وفي البحر عن الجامع الأصغر: إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا، لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا: لا يكفر لأن الكفر يتعلق بالضمير ولم يعقد الضمير على الكفر، وقال بعضهم: يكفر وهو الصحيح عندي لأنه استخف بدينه. اهـ. ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ."

(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج:4، ص: 224، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر وقال بعضهم: يكفر، وهو الصحيح عندي كذا في البحر الرائق. ومن أتى بلفظة الكفر، وهو لم يعلم أنها كفر إلا أنه أتى بها عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض، ولا يعذر بالجهل كذا في الخلاصة.الهازل، أو المستهزئ إذا تكلم بكفر استخفافا واستهزاء ومزاحا يكون كفرا عند الكل، وإن كان اعتقاده خلاف ذلك."

(کتاب السیر، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج:2، ص:276، ط:دار الفکر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال:”کیا کسی ہندو کو را م رام کرنے یا لینے سے کفر عائد ہوجاتا ہے یا جے رام کرنے سے؟

جواب:اسلامی شعائر السلام علیکم ہے ، غیر اسلامی شعار کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے پھر اگروہ غیر کا شعار ہو تو اس کو اختیار کرنا معصیت ہے اگر مذہبی شعار ہو تو کفر تک نوبت پہنچنے کا خطرہ ہے ۔“

(باب السلام و المصافحۃ و المعانقۃ، ج:19، ص:96، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

وفیہ ایضاً:

”غیر مسلم کے شعارِ قومی کو اختیار کرناگناہِ کبیرہ ہے اور شعارِ مذہبی کو اختیار کرنا بلاضرورتِ معتبرہ عند الشرع کفر ہے“۔

(باب الموالات مع الکفار والفسقۃ، الفصل الاول فی التشبہ بالکفار، ج:19،ص:553،ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط و اللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144406101248

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں