بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مذاق میں کہناکہ تجھے جنت میں جانے سے پہلے بھی بابُ الکذّاب سے گزرنا پڑے گا اور اس پر ہنسنا


سوال

میرا نام محمد احمد ہے۔ کچھ روز قبل ہم دوست آپس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک دوست نے کسی بات پر جھوٹ بولا تو ہم سب ہنسنے لگ گئے۔ میں نے اسے مذاق میں یہ کہہ دیا کہ "تجھے جنت میں جانے سے پہلے بھی بابُ الکذّاب سے گزرنا پڑے گا"۔ اس پر سب مزید ہنسنے لگے۔ لیکن فوراً ہی میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں میں نے جنت کا مذاق تو نہیں اڑا دیا۔ حالانکہ میری نیت ہرگز ایسی نہیں تھی کہ اسلام یا شعائرِ اسلام کا مذاق اڑایا جائے۔ پھر بھی میں نے توبہ استغفار کیا اور کلمہ پڑھ لیا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس بات سے کہیں میرا ایمان تو نہیں چلا گیا؟ اور کیا نکاح کی تجدید کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ  میں مذکور جملہ کہ "تجھے جنت میں جانے سے پہلے بھی بابُ الکذّاب سے گزرنا پڑے گا"۔کہنے سے(جب کہ کہنے والی  کی نیت ہرگزمذاق واستخفاف کی نہیں تھی)   کفر یا تجدیدنکاح تو  لازم نہیں آئے گا،  تاہم مذکورہ جملہ  اور طرزِ عمل درست نہیں ہے،   اس لیے  ایسی باتوں سے اجتناب  لازم ہے،اور اس پر خوب استغفار کرناچاہیے   ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، وعزاه في الأشباه إلى الصغرى. وفي الدرر وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه.

"أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط".

(کتاب الجهاد ، باب المرتدج: 4 ص: 229 / 230 ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"ووجهه أن السنة أحد الأحكام الشرعية المتفق على مشروعيتها عند علماء ‌الدين، فإذا أنكر ذلك ولم يرها شيئا ثابتا ومعتبرا ثابتا في ‌الدين يكون قد استخف بها واستهانها وذلك ‌كفر تأمل".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ج: 1 ص: 474 ط: سعید)

مجمع الأنہر میں ہے :

"ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها ‌كفر".

(باب المرتد ، ‌‌ألفاظ الكفر أنواع ج: 1 ص: 695 ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم".

(کتاب الجهاد ، باب المرتد ج: 4 ص: 224 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101619

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں