
(1) کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے گھر والوں کے لیے جو کھانا تیار کیا جاتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کن لوگوں کو یہ کھانا تیار کرناچاہیے اور کتنے دن تک اس کا اہتمام کیا جانا چاہیے ؟اور اس کھانے کے مستحق کون ہیں صرف میت کے گھر والے یا آنے والے مہمان بھی کھا سکتے ہیں ؟
(2) اگر گاؤں میں کوئی رشتہ دار وفات پا جائے تو دوسرے شہروں مثلا کراچی میں اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی اس طرح کھانے کا انتظام اورتین دن تک تعزیت کا سلسلہ کیا جاتاہےاس کا کیا حکم ہے ؟
(3) اگر نابالغ بچے کا انتقال ہو جائے تو کیا اس کے گھر والوں سے بھی تعزیت اور ان کے لیے تین دن کھانا تیار کرنا چاہیے ؟
(4) شہر میں بعض اوقات میت کے رشتہ دار یا کمیٹی والے راستہ بند کر کے تعزیت کے لیے بیٹھ جاتے ہیں جس سے عام لوگوں خصوصاً گاڑیوں والوں کومشکلات پیش آتی ہیں، کیا ایسا کر نادرست ہے ؟
(1) جس گھر میں میت ہو جائے، تو میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے، اگر ضرورت ہو تو تین دن تک بھی کھانا کھلایا جا سکتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر فرمایا تھا: "جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا صدمہ آیا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے"۔
یہ کھانا صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہے، نہ کہ تمام برادری یا آنے والے مہمانوں کے لیے، جو لوگ تعزیت کے لیے آئیں، ان کو اپنے گھروں کو واپس لوٹ جانا چاہیے اور میت کے گھر میں قیام سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ جو مہمان دور دراز سے آئیں اور فوری طور پر واپس جانا ممکن نہ ہو، اور جن کے پاس کھانے کا متبادل انتظام نہ ہو، ان کے لیےاسے کھانے کی اجازت ہے۔
(2) جس گھر میں کسی کا انتقال ہو، تو صرف اسی گھر کے افراد کے لیے مذکورہ طریقے پر کھانے کا انتظام کرنا مستحب ہے، میت کے دیگر رشتہ دار جو مختلف جگہوں پر رہتے ہوں، ان کے لیےوہاں کھانے کا انتظام کرنے کا حکم نہیں ، البتہ ان سے نفس تعزیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
(3) میت خواہ کوئی مرد ہو یا بچہ ، اس کے گھر والوں کے لیے ایک دن اور ایک رات کا کھانا تیار کرنا اور ان سے تعزیت کرنامستحب ہے۔
(4) کسی مسلمان کے انتقال پر اس کے لواحقین سے تعزیت کرنا (یعنی تسلی دینا، صبر کی تلقین کرنا) سنت سے ثابت ہے،تاہم میت کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے ایسی جگہ اختیار کرنی چاہیے جہاں دوسروں کو تکلیف نہ ہو، راستوں یا گلیوں کو بند کرکے بیٹھناجس سے عوام الناس کو دشواری پیش آئے درست نہیں، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت.
وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لايريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه - عليه الصلاة والسلام - دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام» . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2 ،ص: 240 ، ط: سعید)
فتح القدیر میں ہے:
"و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم."
(کتاب الصلاۃ،قبیل باب الشہید، ج:2،ص:102 ، ط: رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100546
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن