بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کمیٹی کا حکم


سوال

ہمارے بزرگوں نے قبرستان کے لیے تقریباً ایک ایکڑ زمین خریدی،  اپنی برادری کے ساتھ ساتھ علاقے کی دوسری برادریوں کے افراد بھی  شامل کرکے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے باہمی مشورہ سے زمین کی لاگت ادا کرنے کے لیے فی گھرانہ 2000 روپے ممبر شپ طے کی، اور قبرستان کے اخراجات چلانے کے لیے فی گھرانہ 50 روپے ماہوار طے کیا گیا، جو کہ مہنگائی کی وجہ سے بڑھانا پڑا، اور اس وقت ماہانہ چندہ 150 روپے ماہوار کے حساب سے وصول کیا جاتا ہے، اس چندہ کی مد میں وصول شدہ رقم سے قبرستان کمیٹی کسی بھی ممبر کے گھر پر میت ہونے کی صورت میں قبر کی جگہ، چنائی، بلاک سلپ اور دو عدد میت بسیں فراہم کرتی ہے، اس کے علاوہ وہاں کے چوکیدار کی تنخواہ، بجلی کا بل اور مینٹنینس وغیرہ کے دیگر اخراجات بھی اسی چندہ کی رقم سے ادا کیے جاتے ہیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ماہانہ چندہ لینا جائز نہیں ہے، اور ماہانہ چندہ ختم کرکے مخیر حضرات کے تعاون سے قبرستان کے اخراجات پورے کیے جائیں، محتاط اندازہ کے مطابق تقریباً 60000 روپے ماہانہ قبرستان کا خرچہ ہے، اب کمیٹی کے ذمہ دار افراد جوکہ محض اللہ کی رضا کے لیے اس کارِ خیر میں خدمت کررہے ہیں وہ ہر ماہ کیسے مخیرحضرات تلاش کریں گے؟ اگر ہم چندہ جمع کرنا بند کردیں اور کہیں سے ہمیں امداد نہ ملے تو یہ کارِ خیر کا ایک منظم سلسلہ جو کہ تقریباً 17 سال سے چلا آرہا ہے، اور تقریباً 700 گھرانوں کی خدمت (میت ہونے کی صورت میں) ہورہی ہےانتشار کا شکار ہوجائے گا، ممبران کی زیادہ تر تعداد غریب لوگوں پر مشتمل ہے، لہذا آپ جناب سے درخواست ہے کہ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں، تاکہ ہم شریعت کے خلاف نہ چلیں اور اپنی قوم کی خدمت بھی کرتے رہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ میت کمیٹی کا یہ طریقہ   کہ ماہانہ ہر ایک ممبر سے 150 روپے لیتی ہے، اور اس کے بدلے اس  کے میت کے تمام اخراجات اٹھاتی ہے، اس کے علاوہ  چوکیدار کی تنخواہ، بجلی کا بل اور مینٹنینس وغیرہ کے دیگر اخراجات بھی اسی چندہ کی رقم سے ادا کرتی ہے تو یہ  شرعی اعتبار سے کئی قباحتوں کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے، کیوں کہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات  فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں،لہذا یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا)کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، البتہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فردکوچندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار ، غریب و نادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگریہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز و تکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے تو یہ درست ہے۔ تاہم  اس بارے میں تفصیلی فتوی جامعہ  کی ویب سائٹ پر موجود ہے درج ذیل لنک کے ذریعے اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

لنک: میت کمیٹی کی شرعی حیثیت

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

 (كتاب الحظر والإباحة، 6 / 403، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101621

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں