
جب كوئی شخص فوت ہوجاتا ہے تو بعض لوگ اس كے لیے تابوت ( صندوق) تيار كرتے ہيں اور اس تابوت میں میت کو دفن کرتے ہیں، اس عمل کا شرعی حکم کیا ہے؟
مسلمان میت کو دفن کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کو کفن دے کر قبر میں زمین پر لٹا دیں اور تختے لگا کر مٹی ڈال دیں، صندوق میں بند کرکے دفن کرنا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے، لهذا کسی معقول عذر کے بغیر میت کو تابوت میں بند کر کے دفن کرنا مکروہ ہے، تاہم اگر عذر ہو مثلاً زمین نرم ہو، يا اس ميں نمي ہو اور زمين كے گرنے كا خطره ہو یا میت دور دراز علاقہ سے مثلا بیرون ملک سے تابوت میں لائی گئی ہو وغیرہ تو میت کو تابوت میں رکھ کر دفن کرنے کی گنجائش ہے۔ اور ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ تابوت میں نیچے کچھ مٹی بچھالی جائے اور میت کے دونوں طرف کچی اینٹیں لگادی جائیں اور ڈھکن کے اندر کی طرف مٹی لیپ دی جائے تو یہ مسنون طریقہ کےقریب ہوجائے گا۔
الدرالمختار مع ردالمحتار میں ہے:
"ولا بأس باتخاذ تابوت له عند الحاجة) كرخاوة الأرض.
(قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره كما قدمناه آنفا. قال في الحلية: نقل غير واحد عن الإمام ابن الفضل أنه جوزه في أراضيهم لرخاوتها: وقال: لكن ينبغي أن يفرش فيه التراب، وتطين الطبقة العليا مما يلي الميت، ويجعل اللبن الخفيف على يمين الميت ويساره ليصير بمنزلة اللحد، والمراد بقوله ينبغي يسن كما أفصح به فخر الإسلام وغيره، بل في الينابيع: والسنة أن يفرش في القبر التراب، ثم لم يتعقبوا الرخصة في اتخاذه من حديد بشيء، ولا شك في كراهته كما هو ظاهر الوجه اهـ أي لأنه لا يعمل إلا بالنار فيكون كالآجر المطبوخ بها كما يأتي."
(کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ الجنائز، 2 / 234، 235، ط: سعید)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"وحكي عن الشيخ الإمام أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - أنه جوز اتخاذ التابوت في بلادنا لرخاوة الأرض قال: ولو اتخذ تابوت من حديد لا بأس به."
(کتاب الصلوۃ، الباب الحادی والعشرون، 1 / 166، ط: رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100418
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن