بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد تلقین کرنے کا حکم،اس روایت کا حکم جس سے تلقین پر استدلال کیا جاتا ہے


سوال

  آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے ،مردے کو تلقین کرنے کا طریقہ کہ اس کا نام لیکر، والدہ کا نام لیا جائے تلقین کی جائے، کیا اس طرح قبر پر تلقین کی جاتی ہےکہتے ہیں کہ اس طرح مردے کو آسانی ہوتی ہے سوال و جواب میں ، قبر پر تلقین کا صحیح طریقہ کونسا ہے ؟ اور جو روایت پیش کی جا رہی ہے وہ المعجم الکبیر میں ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں احنافؒ کے نزدیک( ظاہر الروایہ کے مطابق) میت کو دفن کرنے کے بعدتلقین  کرنےکی اجازت نہیں ہے، خصوصاً  اس دور میں اعتقادی خرابی اور روافض کا شعار بن جانے کی وجہ سے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

 تدفین کے بعد تلقین کرنے پر "المعجم الکبیر"کی جس روایت سےاستدلال کیا جاتا ہے، وہ سند کے اعتبار سے کمزور ہے۔علامہ ابن الصلاحؒ نے "فتاویٰ ابن الصلاح" میں، امام نوویؒ نے"الأذكار للنووي اور المجموع شرح المھذب" میں،علامہ ابن قیمؒ نے" تہذیب السنن" میں،علامہ نور الدین الھیثمیؒ نے "مجمع الزوائد" میں ،اورعلامہ ابن حجر عسقلانیؒ  نے ’’نتائج الأفکار‘‘ میں اس روایت کی تضعیف کی ہے۔

المعجم الکبیر میں ہے:

"عن سعيد بن عبد الله الأودي، قال: شهدت أبا أمامة وهو في النزع، فقال: إذا أنا مت، فاصنعوا بي كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصنع بموتانا، أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " إذا مات أحد من إخوانكم، فسويتم التراب على قبره، فليقم أحدكم على رأس قبره، ثم ليقل: يا فلان بن فلانة، فإنه يسمعه ولا يجيب، ثم يقول: يا فلان بن فلانة، فإنه يستوي قاعدا، ثم يقول: يا فلان بن فلانة، فإنه يقول: أرشدنا رحمك الله، ولكن لا تشعرون. فليقل: ‌اذكر ‌ما ‌خرجت ‌عليه ‌من ‌الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، وأنك رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، وبالقرآن إماما، فإن منكرا ونكيرا يأخذ واحد منهما بيد صاحبه ويقول: انطلق بنا ما نقعد عند من قد لقن حجته، فيكون الله حجيجه دونهما ". فقال رجل: يا رسول الله، فإن لم يعرف أمه؟ قال: «فينسبه إلى حواء، يا فلان بن حواء."

ترجمہ:سعيد بن عبد الله الأودی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ حالتِ نزع میں تھے، کہنے لگے: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ اسی طرح کرنا جس طرح ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے، آپ نے ہمیں حکم فرمایا تھا، جب تم میں سے کوئی فوت ہوجائے اور تم اس کی قبر پر مٹی برابر کرچکو تو تم میں سے ایک اس کی قبر کے سر کی جانب کھڑا ہو کر کہے، اے فلاں عورت کے بیٹے فلاں! جب وہ یہ کہے گا تو مردہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا، پھر وہ کہے کہ اے فلاں عورت کے بیٹے فلاں! وہ کہے گا، اللہ تجھ پر رحم کرے، ہماری رہنمائی کر، لیکن تم یہ باتیں سمجھ نہیں سکتے، پھر کہے کہ تو اس بات کو یاد کر جس پر دنیا سے رخصت ہوا ہے، اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، تو اللہ کے رب ہونے، محمد ﷺ کے نبی ہونے، اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا، منکر اور نکیر میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے، چلو، جس آدمی کو اس کی حجت تلقین کردی گئی ہے، اس کے پاس ہم نہیں بیٹھتے، چنانچہ دونوں کے سامنے اللہ تعالیٰ اس کا حامی بن جائے گا، ایک آدمی نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! اگر وہ (تلقین کرنے والا ) اس (مرنے والے) کی ماں کو نہ جانتا ہو تو( کیا کرے )؟ فرمایا: وہ اسے حوّاء کی طرف منسوب کرکے کہے، اے حواء کے فلاں بیٹے."

(‌‌سعيد بن عبد الله الأودي، عن أبي أمامة،ج:8، ص:249،الرقم:7979، ط:مكتبة ابن تيمية - القاهرة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: ولا يلقن بعد تلحيده) ذكر في المعراج أنه ظاهر الرواية....ثم قال: وإنما لا ينهى عن التلقين بعد الدفن لأنه لا ضرر فيه بل نفع فإن الميت يستأنس بالذكر على ما ورد في الآثار إلخ.

قلت: وما في ط عن الزيلعي لم أره فيه وإنما الذي فيه قيل يلقن لظاهر ما رويناه وقيل: لا، وقيل لا يؤمر به ولا ينهى عنه اهـ وظاهر استدلاله للأول اختياره فافهم."

(‌‌باب صلاة الجنازة،مطلب في ‌التلقين ‌بعد ‌الموت، ج:1 ص:191، ط: سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما ‌التلقين ‌بعد ‌الموت فلا يلقن عندنا في ظاهر الرواية، كذا في العيني شرح الهداية ومعراج الدراية."

(الباب الحادي والعشرون في الجنائز،الفصل الأول في المحتضر، ج:1، ص:157، ط: رشیدیة)

امداد الفتاویٰ میں ہے:

"( ولا يلقن بعد تلحيده) ذكر في المعراج أنه ظاهر الرواية)"اور ترجیح ظاہرالروایہ کو ہوتی ہے، تو اس کے بعد جو تلقین کی مشروعیت کو نقل کیا ہے، سو اول تو اس کے دلائل ضعیف ہے، بعض ثبوتاً اور بعض دلالۃً، پھر اس پر سب متفق ہیں کہ ضروری نہیں، اور غیر ضروری میں جب کوئی مفسدہ ہو متروک ہو جاتا ہے، اور اس میں تشبہ بالروافض بھی ہے؛ اس لیے قابل ترک ہوا ۔واللہ اعلم۔

(باب الجنائز، ج:1، ص:577، ط: دار العلوم کراچی)

فتاویٰ ابن الصلاح میں ہے:

"وقد روينا حديثا من ‌حديث ‌أبي ‌أمامة ‌ليس ‌بالقائم ‌إسناده ولكن اعتضد بشواهد وبعمل أهل الشام به قديما."

(القسم الرابع، ج:1، ص:261، الرقم:105، ط:عالم الكتب - بيروت)

الاذکارللنووی میں ہے:

"‌ليس ‌بالقائم ‌إسناده، ‌ولكن ‌اعتضد ‌بشواهد، وبعمل أهل الشام به قديما."

(‌‌كتاب أذكار المرض والموت وما يتعلق بهما،‌‌باب ما يقوله بعد الدفن، ص:290، ط:دار ابن حزم للطباعة والنشر)

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں ہے:

" ‌وفي ‌إسناده ‌جماعة ‌لم ‌أعرفهم."

(كتاب الجنائز،باب خطاب القبر،ج:3، ص:45، ط:مكتبة القدسي، القاهرة)

 تهذيب سنن أبي داود میں ہے:

"ولكن هذا الحديث متفق على ضعفه فلا تقوم به حجة فضلا عن أن يعارض به ما هو أصح منه. "

(‌‌كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء،ج:3، ص:373، ط:دار ابن حزم بيروت)

 نتائج الأفکار میں ہے:

"أخرجه الطبراني في الكبير وفي الدعاء من طريق إسماعيل بن عياش، عن عبد الله بن محمد القرشي، عن يحيى بن كثير بنحوه، وزاد في آخره: فقال رجل: يا رسول الله فإن لم يعرف اسم أمه، قال: (فلينسبه إلى حواء).وسند الحديث من الطريقين ضعيف جدًا، والله أعلم."

(كتاب أذكار المرض والموت وما يتعلق بهما،‌‌باب ما يقوله بعد الدفن، ج:4، ص:428، ط:دار ابن كثير)

اعلاء السنن میں ہے:

"وبالجملة فالتلقين بعد الدفن يستحب في نفسه لوروده بصيغة الأمر في الحديث، ولكن الآن قد صار شعار الروافض، وتركه أهل السنة، ففيه خوف التهمة، فلا يلقن."

(کتاب الجنائز، ج:8، ص:211، ط: ادارة القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100581

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں