
1۔میں نے سنا ہےمرحومین کا اپنے گھر والوں سے چالیس سال تک رابطہ رہتاہے،کیا یہ بات درست ہے؟
2۔کیا مرحومین کی روح اپنے عزیزواقارب سے ملنے آتی ہے؟
3۔مرحومین جو خواب میں آتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟جبکہ ان کے انتقال کو چالیس سال پچاس سال اورساٹھ سال ہوچکے ہیں ۔
1۔مرحومین کا اپنے گھر والوں کے ساتھ چالیس سال تک رابطہ رہنے کی صراحت کسی حدیث میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی ،البتہ صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہےکہ اللہ رب العزت گاہے بگاہے مرحومین کوان کےعزیز واقارب کے اعمال سے باخبر رکھتاہے، جس کےنتیجہ مرحومین اپنے رشتہ داروں کے نیک اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔
2۔مردوں کی ارواح کا عزیز واقارب سے ملنے آناکسی حدیث سے ثابت نہیں،بلکہ یہ فاسد عقیدہ ہے،جوکہ موجب کفر ہے، لہٰذا ایساعقیدہ رکھنے سےاجتناب لازم ہے۔
3۔خواب میں مرحومین کا دکھنا ممکن ہے،چاہے انتقال کو طویل عرصہ کیوں نہ گذر چکا ہو،پس جس حالت وکیفیت میں دیکھا ہو،اس کی تعبیر کسی ماہر تعبیردان سے معلوم کرلی جائے۔
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
جمعرات کو روح کا گھر میں آنا تحقیقی بات نہیں
"(سوال ٣٢٠٤) بہت سے علماء کی زبانی سنا ہے کہ جمعرات کو روح اپنے اقرباء کے گھر آتی ہے اور ثواب کی امیدوار ہوتی ہے اور جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتی ہے۔ یہ صحیح ہے یا نہیں۔
(الجواب) یہ کچھ تحقیقی بات نہیں۔ فقط ۔
(کتاب الجنائز، ج:5، ص:315، ط:دارالاشاعت کراچی)
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
مومنین کی روحوں کا شب جمعہ کو اپنے گھر آنا
(سوال) ارواح مومنین ہر جمعہ کے شب کو اپنے اہل و عیال میں آتی ہیں یہ صحیح ہے یا نہیں اس طرح کا عقیدہ رکھنا درست ہے یا نہیں۔
( جواب ) ارواح مومنین کا شب جمعہ وغیرہ کو اپنے گھر میں آنا کہیں ثابت نہیں ہوا۔
یہ روایات واہیہ ہیں۔ اس پر عقیدہ کرنا ہر گز نہیں چاہئے ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲ کتبہ الراجی رحمۃ ربہ رشید احمد گنگوہی
الاجوبة صحيحةابوالخیرات سید احمد علی عفی عنه،الاجوبة صحية محمد یعقوب النانوتوی عفی عنہ
مدرس دوم مدرسہ عالیہ دیوبند،مدرس اول مدرسہ عالیہ دیوبند
(کتاب الجنائز،ص:281،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی)
تفسیر مظہری میں ہے:
"أن مقر أرواح المؤمنين فى عليين او فى السماء السابعة ونحو ذلك كما مر ومقر أرواح الكفار فى سجين ومع ذلك لكل روح منها اتصال لجسده فى قبره لا يدرك كنهه الا الله تعالى."
(سورة المطففين، آية:26،ج:10، ص:225، ط:مكتبة الرشدية - الباكستان)
مسند احمد میں ہے:
"حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عمن سمع أنس بن مالك يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إن أعمالكم تعرض على أقاربكم وعشائركم من الأموات، فإن كان خيرا، استبشروا به، وإن كان غير ذلك، قالوا: اللهم لا تمتهم حتى تهديهم كما هديتنا."
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اعمال مردہ میں سے تمہارے رشتہ داروں اور قبیلوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں،اگر یہ اچھےہوں تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، اور اگر اچھے نہ ہوں تو کہتے ہیں: اے اللہ ان کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ تو ان کی رہنمائی نہ کردے جیسا کہ تو نے ہماری رہنمائی کی ہے۔"
(مسند عبد الله بن عمرو بن العاص، حديث أبي رمثة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، ج:20، ص: 114، ط: مؤسسة الرسالة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويجب إكفار الروافض في قولهم برجعة الأموات إلى الدنيا."
(كتاب السير، الباب التاسع فى احكام المرتدين، ج: 2، ص: 264، ط: دار الفكر بيروت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100723
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن