بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے ترکہ کا مصرف


سوال

میرے والد صاحب کا انتقال 2 شوال 1447ء کو ہوا ، میراث کے حوالے سے میرےذہن میں کچھ سوالات تھے ۔

میرے والد صاحب کی کوئی وصیت نہیں۔

ان کی ملکیت میں کیش رقم تقریبا 20 لاکھ روپے موجود تھے، نیز ایک فلیٹ جس میں وہ رہتےتھے اور میں بھی ان کے ساتھ شروع سے رہ رہا ہوں ، اور ابھی بھی میری رہائش اسی میں ہے ، البتہ یہ فلیٹ کاغذات میں میری والدہ کے نام پر ہے ، البتہ خریدا والد صاحب نے تھا۔ اب ہمیں یہ نہیں معلوم کہ والد صاحب نے صرف کاغذات میں ان کے نام پر رکھا تھااور مالک  ہمارے والد صاحب تھے یاپھر  ہماری والدہ تھیں۔( ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی قیمت پونے تین کروڑ ہوگی)۔ ایسی صورت حال میں یہ گھر کس کا ہوگا ۔( والدہ کاانتقال 2017ءمیں ہوا ہے )۔

1۔ ان کی تدفین کا خرچ ان کے مال سے کیا جاۓ گا ، یا ورثاء میں سے اگر کوئی کرنا چاہے تو وہ کرسکتا ہے ۔ افضل کیا ہے؟اور شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

2۔قرض ان کے مال سے ادا کیا جاۓ گا یا ورثاء ادا کریں گے؟

3۔زکوۃ اگر ان کے ذمہ باقی ہے، اور نمازوں اور روزوں کا فدیہ اگر کچھ باقی ہو تو کیا ورثاء اس کو ادا کرسکتے ہیں ، یا ان کے مال سے ادا کیا جاۓ گا اور اس کے بعد پھروراثت تقسیم ہوگی؟

4۔والد صاحب کے استعمال کی جو چیزیں تھیں، مثلا: ان کا فرنیچر ، موبائل ، گھڑی اور لیپ ٹاپ وغیرہ اگر ورثاء اس میں کوئی چیز اپنے پاس نشانی کے طور پر رکھنا چاہیں تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟

5۔اگر والد صاحب کے ذمہ کوئی قرض تھا اور وہ اپنی زندگی میں ادا نہیں کرسکے ، اور انتقال کے بعد اگر ان کو زبانی کلامی معاف کردیا ہے سب نے تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟

6۔اگر ورثاء میں کوئی بھی حصہ نہ لینا چاہے اور تمام ورثاء اتفاق اور رضامندی سے اگر والد صاحب کا تمام مال ان کے لیے کوئی کا رخیر میں صرف کرنا چاہے ان کے ایصال ثواب کے لیےتو کیا حکم ہوگا ؟پہلے وراثت تقسیم ہوگی اور پھر جو ورثاء کرنا چاہیں ویسا کریں ؟

ورثاء میں میرے والد صاحب کے  تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، میری والدہ اور دادا ، دادی پہلے انتقال کرچکے ہیں ۔

مندرجہ بالا سوالات کی شرعی رہنمائی درکار ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں جس فلیٹ  کو والد صاحب نےخریدا تھا ، چوں  کہ آپ سب ہی والد صاحب سمیت اس میں رہائش پذیر تھے تو شرعا یہ والد صاحب ہی کی ملکیت میں شمار ہوگا اگرچہ کاغذات میں والدہ کے نام پر تھا ، لہذا والد صاحب کے دیگر ترکہ کی طرح اس فلیٹ کو والدصاحب کے ورثاء میں ان کے شرعی  حصوں کے تناسب سے تقسیم کیا جاۓ گا ۔(1)

پوچھے گئے  بالترتیب سوالات کے بارے میں شریعت یہ کہتی ہے:

1۔  میت کے ترکہ کا سب سے پہلا مصرف میت کی تکفین و تدفین کا خرچہ ہے ، اور اس کا خرچہ میت کے ترکہ ہی سے نکالا جاۓ گا ،تاہم اگر کوئی وارث  اپنی طرف سے اس  کا خرچہ اٹھاۓ تو کوئی حرج نہیں۔(2)

2۔ میت کے ترکہ سے  کفن دفن کا خرچہ نکالنے  کے بعد میت کے ذمہ جتنے لوگوں کا قرضہ ہے ، اس قرضے کو میت کے ترکہ ہی سے ادا کیا جاۓ گا ، ورثاء کےذمہ قرض کی ادائیگی اپنے پیسوں سے لازم نہیں، اگر کوئی وارث وہ قرض اپنے ذمہ لے لے تو کر سکتا ہے۔(3)

3۔میت کے ذمہ اگر  زکوۃ یا قضاء روزے باقی ہوں ، اگر میت نے مرنے سے پہلے ان کی ادائیگی کی وصیت کی ہو  تو میت کے ترکہ سے تجھیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد  میت کےذمہ کسی کا قرض ہو تو اس  قرضہ کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ مال کے ترکے کے ثلث سے اس وصیت کو پورا کرنا لازم ہوگا ، تاہم اگر میت نے اپنے قضاء روزوں یازکوۃ کی ادائیگی کی وصیت نہ کی ہو تو تمام ورثاء باہمی رضامندی سے اپنی طرف سے اگر اس کی ادائیگی کردیں تو یہ ان کا تبرع اور احسان ہے ، تاہم ورثاء پر اس کی ادائیگی لازم نہیں ۔(4)

4:والد صاحب نے ترکہ میں جتنا مال چھوڑا ہے ، سب کا سب ورثاء کے درمیان شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جاۓ گا۔تاہم اگر کوئی وارث میت کی کوئی چیز نشانی کے طور پر اپنے پاس رکھنا چاہے تو اس کے لیے تمام عاقل بالغ ورثاء کی رضامندی شرط ہے ، اگر ورثاء میں کوئی  نابالغ ہو یا ورثاء میں سے کسی کی رضامندی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس سامان کو  اپنے حصے  میں شمار کرالے  یہ بھی ممکن نہ ہو تو اپنے استعمال میں لاناناجائز ہوگا ،بلکہ اس میں بھی  وراثت جاری ہوگی۔(5)

5۔اگرواقعتا قرض داروں نےسائل کے مرحوم والد کا قرضہ معاف کردیا  تو میت کا قرضہ ساقط ہوجاۓ گا۔(6)

6۔ترکہ کی تقسیم سے پہلے تمام عاقل بالغ ورثاء اپنی رضامندی سے میت کا ترکہ کسی کارخیر میں صرف کردیں تو یہ بات جائز ہے ،تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلے تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ دے دیا جائے پھر ہر ایک اپنی صوابدید  کے مطابق خرچ کرے۔(7)

(1) فتاوی شامی میں ہے:

"وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض....أحدها: الهبة، والثاني: الصدقة، والثالث: الرهن، والرابع: الوقف في قول محمد بن الحسن والأوزاعي وابن شبرمة وابن أبي ليلى والحسن بن صالح والخامس: العمرى....الخ"

(کتاب الھبة ، ج:5، ص:690،ط:دار الفکر)

(2)فتاوی شامی میں ہے:

"ولا تجبر الورثة على قبول كفن متبرع، لأن فيه لحوق العار بهم إلا إذا كان الورثة صغارا، فحينئذ لو رأى الإمام مصلحة يقبل إلا أن يختاروا القيام بأنفسهم فحينئذ هم أولى به اهـ"

(کتاب الفرائض ، ج:6،ص:760،ط:دار الفکر)

(3) فتاوی شامی میں ہے :

"(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن.....(بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير)....ككفن السنةأو قدر ما كان يلبسه في حياته....(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته)ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته)....الخ"

(کتاب الفرائض ، ج:6، ص:762،ط:دار الفکر)

(4) وفیہ ایضا  :

"(قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ وتمامه فيه۔"

(کتاب الفرائض ، ج:6:ص:760،ط:دار الفکر)

(5)در مختار میں ہے:

"(ويستحق الإرث) ولو لمصحف به يفتى....(برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء)۔"

(کتاب الفرائض،ج:6، ص:763،ط:دار الفکر)

(6)فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو كان الإبراء والهبة بعد موته فقبل ورثته صح ولو رد ورثته ارتد وبطل الإبراء في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -؛ لأن الإبراء بعد الموت إبراء للورثة وقال محمد - رحمه الله تعالى - لا يرتد بردهم كما لو أبرأه في حال حياته، ثم مات قبل القبول، والرد كذا في شرح الطحاوي."

(کتاب الکفالة ، الفصل الثالث فی البراءۃ عن الکفالة ، ج:3، ص: 263 ، ط:دار الفکر)

(7)فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في وقف المشاع المقضي به (قوله: كما صح وقف مشاع قضى بجوازه) ويصير بالقضاء متفقا عليه والخلاف في وقف المشاع مبني على اشتراط التسليم وعدمه لأن القسمة من تمامه فأبو يوسف أجازه لأنه لم يشترط التسليم ومحمد لم يجزه لاشتراطه التسليم كما مر عند قوله ويفرز، وقدمنا أن محل الخلاف فيما يقبل القسمة بخلاف ما لا يقبلها فيجوز اتفاقا إلا في المسجد والمقبرة وقدمنا بعض فروع ذلك۔"

(کتاب الوقف ، مطلب فی وقف المشاع المقضی بہ، ج:4، ص:362،ط:دار الفکر)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں