
نماز جنازہ میں اولیاء کو ایک دوسرے پر حق تقدم حاصل ہے یا نہیں؟ مثلا میت کے بھائی نے نماز جنازہ پڑھایا یا اس میں شریک ہوا یا اس کی اجازت اور رضامندی سے جنازہ پڑھایا گیا۔ اور باپ، بیٹانہ اس جنازہ میں شریک تھے اور نہ ہی ان کی اجازت اور رضامندی شامل تھی تو اس صورت میں باپ یا بیٹے کے لیے دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز ہو گا یا نہیں؟
اگر میت کے رشتہ داروں میں باپ، بیٹا، بھائی اور چچا سبھی موجود ہوں تو جنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ حق باپ کو حاصل ہے، پھر بیٹے کو، اس کے بعد بھائی کو اور پھر چچا کو۔ لہٰذا اگر کم درجے کا حق دار نمازِ جنازہ پڑھائے یا اس کی اجازت سے پڑھائی جائے، اور زیادہ حق رکھنے والا جنازے میں شریک نہ ہو اور نہ ہی اس کی اجازت شامل ہو، تو زیادہ حق دار کے لیے دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہوگا۔
البتہ اگر اولیاء ایک ہی درجے کے ہوں، مثلاً میت کے کئی بیٹے ہوں، تو ایسی صورت میں اگر ایک بیٹا جنازہ پڑھائے تو دیگر بیٹوں کے لیے دوبارہ جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر میت کے بھائی نے جنازہ پڑھایا ہو یا اس کی اجازت سے جنازہ پڑھا گیا ہو، اور باپ بیٹا شریک نہ تھے، اور نہ ہی ان کی طرف سے اس کی اجازت تھی، تو ایسی صورت میں باپ اور بیٹے کے لیے دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہوگا۔لیکن جنہوں نے ایک بار جنازہ پڑھ لیا ہو، ان کے لیے دوبارہ شریک ہونا جائز نہیں ہوگا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"والأولياء على ترتيب العصبات الأقرب فالأقرب إلا الأب فإنه يقدم على الابن، كذا في خزانة المفتين قيل: هذا قول محمد - رحمه الله تعالى - وعندهما الابن أولى، والصحيح أنه قول الكل، كذا في التبيين، وهكذا في الغياثية وفتح القدير....وللأقرب أن يقدم على الأبعد من شاء".
(کتاب الصلاۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، فصل خامس، ج:1، ص:163، ط:دار الفکر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي)
(قوله فإن صلى غيره) الأخصر أن يقول: فإن صلى من ليس له حق التقدم اهـ ح
(قوله أعاد الولي)....الأولى أن يقول: أعاد من له حق التقدم."
(کتاب الصلاۃ، صلاۃ الجنازۃ، ج:2، ص:222، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية. رجل صلى صلاة الجنازة والولي خلفه ولم يرض به إن تابعه فصلى معه جاز ولا يعيد الولي".
(کتاب الصلاۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، فصل خامس، ج:1، ص:164، ط:دار الفکر)
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:
"ولمن له حق التقدم أن يأذن لغيره فإن صلى غيره أعادها إن شاء ولا يعيد معه من صلى مع غيره.
"ولمن له حتى التقدم أن يأذن لغيره" لأن له إبطال حقه وإن تعدد فللثاني المنع والذي يقدمه الأكبر أولى من الذي يقدمه الأصغر "فإن صلى غيره" أي غير من له حق التقدم بلا إذن ولم يقتد به "أعادها" هو "إن شاء" لعدم سقوط حقه وإن تأدى الفرض بها "ولا" يعيد "معه" أي مع من له حق التقدم "من صلى مع غيره" لأن التنفل بها غير مشروع كما لا يصلي أحد عليها بعده وإن صلى وحده."
(باب أحكام الجنائز، ص:220، ط:المکتبة العصریة)
درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:
"(فإن صلى غيره) أي غير الأولى (يعيدها) أي الأولى (إن شاء) لتصرف الغير في حقه.
(قوله: وإن صلى غير الأولى يعيدها إن شاء) أقول ولا يعيد مع الوالي من صلى مع غيره كما في شرح المنظومة لابن وهبان وفي كلام المصنف إشارة إلى أن الموصى له بالتقدم غير مقدم على الأولى لبطلان الوصية وهو المفتي به وأشار بقوله إن شاء إلى أنه إذا لم يعد لا إثم على أحد لسقوط الفرض بفعل الأجنبي والإعادة إنما هي لحق الأولى لا لإسقاط الفرض وبه صرح في البحر."
(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ج:1، ص:165، ط:دار إحياء الكتب العربية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100101
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن