بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے کفن ودفن کی ذمہ داری اورکسی شرعی عذر کی وجہ سےدوسرے گھر میں عدت گزارنے کا حکم


سوال

1:اگر کسی شخص کا انتقال ہوجاتا ہے، تو اس کے کفن دفن کی ذمہ داری اس کے بیوی،بچوں پر یا اس  کے بھائی بہنوں پرہوگی؟

2:غسل کے وقت اگر میت کی جیب سے رقم یا کچھ اور سامان نکلتا ہے، تو اس پر غسل دینے والے کا حق ہے یا میت کے وارث کا؟

3:اگر عورت عدت میں ہو تو وہ عدت کی مدت کہاں گزارے گی؟اس گھر میں جہاں وہ اپنے شوہر کے ہمراہ رہتی ہے؟اگر وہ مکان اس کے شوہریا اس کے نام نہ ہویا اس کے شوہر کے بھائی اس کو مکان میں رہنے نہ دیں،تو وہ کہاں عدت گزاری گی؟

جواب

1:آدمی کی وفات کے بعد اس کی تجہیز وتکفین کے اخراجات اس کے ترکہ سے اداکرنے کا حکم ہے، یہ ذمہ داری  شرعاًنہ مرحوم کے بھائیوں کی ہے،اور نہ ہی مرحوم کی بیوہ اور اس کی اولاد کی، البتہ فوت ہونے والی اگر خاتون ہو،تو اس کے کفن ودفن کے اخراجات کی ادائیگی اس کے شوہر کے ذمہ لازم ہوگی،تاہم اگر  مرحوم نے اپنےپیچھے اتنا مال بھی نہ چھوڑا ہو جس سے اس کی تجہیزو تکفین اور تدفین کا انتظام کیا جاسکے، تو اس کے وارثین کی شرعی ذمہ داری ہوگی کہ وہ تجہیز و تکفین اور تدفین کا خرچ برداشت کریں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں  تفصیل بالا کی روشنی میں مرحوم کی تجہیز وتکفین کا انتظام مرحوم کے ترکہ سے کیا جائے،البتہ اگر کوئی اپنی خوشی سے یہ اخراجات خود اُٹھالیتا ہے، تو یہ اس کے لیے باعث اجر وثواب ہوگا۔ 

2: میت کے لباس یا جیب سے برآمد ہونے والی رقم میت کا ترکہ شمار ہوگی اور اس پر میت کے شرعی ورثاء کا حق ہوگا، غسل دینے والے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔

3:بیوہ خاتون عدت کا عرصہ اس گھر میں گزارنے کی شرعاً پابند ہے، جس گھر میں  شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی، عدت کی مدت میں اسے گھر سے بے دخل کرنے کی شرعاًاجازت نہیں، اور کسی شدید ضرورت کے بغیر بیوہ کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر بیوہ کے سسرال والے  اسے وہاں رہنے نہ دیں یا اسے زبردستی گھر سے نکال دیں،توایساکرنےکی وجہ سےوہ گناہ گار ہوں گے،بیوہ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا،تاہم بیوہ کے لیے بقیہ عدت میکے میں مکمل کرنے کی اجازت ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير)

قوله يعم التكفين) كأنه يشير إلى أن قول السراجية: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من عطف العام على الخاص."

 (کتاب الفرائض، ج:6، ص:759، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف."

 (کتاب الفرائض، الباب الثانی فی ذوی الفروض، ج:6، ص:447، ط:دارالفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكفن من لا مال له على من تجب نفقته) فإن تعددوا فعلى قدر ميراثهم.

(قوله من لا مال له) أما من له مال فكفنه في ماله يقدم على الدين والوصية والإرث إلى قدر السنة ما لم يتعلق به حق الغير كالرهن والمبيع قبل القبض والعبد الجاني بحر وزيلعي وقدمنا أن للغرماء منع الورثة من تكفينه بما زاد على كفن الكفاية (قوله على من تجب عليه نفقته) وكفن العبد على سيده والمرهون على الراهن والمبيع في يد البائع عليه بحر (قوله فعلى قدر ميراثهم) كما كانت النفقة واجبة عليهم فتح أي فإنها على قدر الميراث، فلو له أخ لأم وأخ شقيق فعلى الأول السدس والباقي على الشقيق.

أقول: ومقتضى اعتبار الكفن بالنفقة أنه لو كان له ابن وبنت كان عليهما سوية كالنفقة؛ إذ لا يعتبر الميراث في النفقة الواجبة على الفرع لأصله؛ ولذا لو كان له ابن مسلم، وابن كافر فهي عليهما، ومقتضاه أيضا أنه لو كان للميت أب وابن كفنه الابن دون الأب كما في النفقة على التفاصيل الآتية في بابها إن شاء الله تعالى."

(کتاب الصلاۃ، ‌‌باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:205، ط:دارالفکر بیروت)

البحرالرائق میں ہے:

"(‌يبدأ ‌من ‌تركة ‌الميت ‌بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه، وإن كان حق الغير متعلقا به كالرهن والعبد الجاني والمشتري قبل القبض فإن صاحبه يقدم على التجهيز كما في حال حياته."

 (کتاب الفرائض، يبدأ من تركة الميت بتجهيزه، ج:8، ص:557، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه۔۔۔(قوله: في بيت وجبت فيه) هو ما يضاف إليهما بالسكنى قبل الفرقة ولو غير بيت الزوج كما مر آنفا."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:536، ط:سعيد)

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"وإن ‌كان ‌نصيبها ‌من ‌دار ‌الميت ‌لا ‌يكفيها فأخرجها الورثة من نصيبهم، انتقلت لأن هذا انتقال بعذر، والعبادات تؤثر فيها الأعذار، فصار كما إذا خافت على متاعها أو خافت سقوط المنزل أو كانت فيها بأجر ولا تجد ما تؤديه.

ثم إن وقعت الفرقة بطلاق بائن أو ثلاث، لا بد من سترة بينهما ثم لا بأس لأنه معترف بالحرمة إلا أن يكون فاسقا يخاف عليها منه، فحينئذ تخرج، لأنه عذر

وفي الھامش:(‌وإن ‌كان ‌نصيبها ‌من ‌دار ‌الميت ‌لا ‌يكفيها) ش: بأن كان نصيبها وحدها لا يكفيها م: (فأخرجها الورثة من نصيبهم) ش: بأن لم يرضوا بسكناها م: (انتقلت لأن هذا انتقال بعذر، والعبادات تؤثر فيها الأعذار)."

 (‌‌‌‌كتاب الطلاق، باب العدة، ج:5، ص:628، ط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

فتاوی عالمگيری ميں ہے:

‌"إن ‌اضطرت ‌إلى ‌الخروج ‌من ‌بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل، وإن كان المنزل لزوجها وقد مات فلها أن تسكن في نصيبها إن كان ما يصيبها من ذلك ما يكتفى به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها كذا في البدائع، وإن كان نصيبها من دار الميت لا يكفيها فأخرجها الورثة من نصيبهم انتقلت كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج:1، ص:535، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100058

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں