
1۔میت کے گھر میں اجتماعی طورپر ہاتھ اٹھا کر باربار فاتحہ خوانی کرنا سنت ہے یابدعت؟اگر سنت ہےتوکون سی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے؟
2۔میت کے گھر اجتماعی طور پر قرآنی خوانی اورختم کرنا سنت ہے یا بدعت؟
3۔قبر کو اونچی اور پختہ بناناسنت ہے یا بدعت؟نیز قبر کو کس قدر اونچی بنانا سنت ہے؟
4۔بدعت کی شرعی تعریف کیا ہے؟
5۔ کیا کسی بدعت کی وجہ سے مسلمان دائرہِ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟یاصرف گناہ گار ہوتاہے؟
1۔کسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا ( یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا ) سنت سے ثابت ہے، تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،باقی تعزیت کے دوران ہر آنے والے کے ساتھ بار بارہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے،اس لیے اس کو لازم اورثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے، البتہ لازم سمجھے بغیر مغفرت کی کوئی بھی دعا کی جائے یا ہاتھ اٹھا کر دعا کرلی تو کوئی حرج نہیں ہے۔
2۔مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے عزیز و اقارب کا نفسِ قرآن کریم پڑھنا اور میت کے لیے دعا کرنا اور میت کی طرف سے غریبوں کو کھانا کھلانا جائز ہے، لیکن اس كے ليے دن متعین کرکے چاہے تیسرے دن ہو یا ہر جمعرات کے دن یا چالیسویں دن اجتماعی طور پرقرآن خوانی کرنا ، جس میں میت کے یہاں کھانے پینے کا التزام ہو اور لوگوں کو باقاعدہ دعوت دے کر جمع کرنا ،نہ آنے والوں سے ناراضی کا اظہار کرنا یا میت کے گھرانے والوں کا عام لوگوں کے لیے یا پورے گاؤں يا محلےوالوں کے لیےقرآن خوانی کے بعد دعوت و خیرات کا اہتمام کرنا ، اور ان سب باتوں کو باعثِ ثواب اور شریعت کا حصہ سمجھنا بدعت ہےاور ناجائز ہے۔
3۔قبر کا مکمل طور پر پختہ کرلینا شرعاً ممنوع ہے، اس عمل سے بھی اجتناب لازم ہے، البتہ اصل قبر (یعنی جتنے حصے میں میت دفن ہے) کچی ہو، اور اردگرد پتھر، یا بلاک وغیرہ سے منڈیر نما بنا دی جائے یا معمولی سا احاطہ بنا دیا جائے کہ قبر کا نشان نہ مٹ جائے اس کی اجازت ہے، لیکن اس میں بھی دو باتوں کا خیال ضروری ہے:
1: اس کے لیے سادہ پتھر استعمال کیا جائے زیب زینت والا کوئی پتھر نہ ہو۔ نیز آگ پر پکی ہوئی اینٹیں بھی نہ لگائی جائیں۔
2: قبر کے اوپر قبہ نما یا حجرہ بناکر چھت نہ ڈالی جائے۔
4۔بدعت اسے کہا جاتاہےکہ جس کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو،یعنی قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت نہ ملے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ،تابعین ار وتبع تابعین کے مبارک زمانے میں اس کا وجود نہ ہو،اور اس کو دین اور ثواب کاکام سمجھ کر کیا جائے۔
5۔دین میں بدعت کا ایجاد سخت گناہ ہے،اس کی نحوست سے سنت اٹھ جاتی ہے،جس قوم میں بدعات ایجاد ہوں وہ قوم سنت کے نور سے محروم ہوجاتی ہے،لہٰذا بدعت سے مسلمان دائرہِ اسلام سے خارج نہیں ہوتا،البتہ سخت گناہ گار ہوتا ہے ۔
حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:
"وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن لقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة" وقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى مصابا فله مثل أجره".
قوله: "تستحب التعزية الخ" ويستحب أن يعم بها جميع أقارب الميت إلا أن تكون امرأة شابة وهو المشار إليه بقوله اللاتي لا يفتن وهو بالبناء للفاعل ولا حجر في لفظ التعزية ومن أحسن ما ورد في ذلك ما روي من تعزيته صلى الله عليه وسلم لإحدى بناته وقد مات لها ولد فقال: "إن لله ما أخذو له ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى أو يقول عظم الله أجرك وأحسن عزاءك وغفر لميتك أو نحو ذلك" وقد سمع من قائل يوم موته صلى الله عليه وسلم ولم ير شخصه قيل إنه الخضر عليه السلام يقول معزيا لأهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم: "إن في الله سبحانه عزاء من كل مصيبه وخلفا من كل هالك ودركا من كل فائت فبالله تعالى فثقوا وإياه فارجوا فإن المصاب من حرم الثواب" رواه الشافعي في الأم وذكره غيره أيضا وفيه دليل على أن الخضر حي وهو قول الأكثر ذكره الكمال عن السروجي والعزاء بالمد الصبر أو حسنه وعزى يعزي من باب تعب صبر على ما نابه وعزيته تعزية قلت له أحسن الله تعالى عزاءك أي رزقك الصبر الحسن كما في القاموس والمصباح ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام وأولها أفضل وتكره بعدها لأنها تجدد الحزن وهو خلاف المقصود منها لأن المقصود منها ذكر ما يسلي صاحب الميت ويخفف حزنه ويحضه على الصبر."
(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، ص:618، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اه."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:240، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويسنم القبر قدر الشبر ولا يربع ولا يجصص ولا بأس برش الماء عليه ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو تقضى حاجة الإنسان من بول أو غائط أو يعلم بعلامة من كتابة ونحوه، كذا في التبيين.
وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي."
(کتاب الجنائز، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر والدفن، ج: 1، ص: 166، ط: دار الفکر)
البحر الرائق میں ہے:
"المبتدع فهو صاحب البدعة وهي كما في المغرب اسم من ابتدع الأمر إذا ابتدأه وأحدثه كالرفقة من الارتفاق والخلفة من الاختلاف ثم غلبت على ما هو زيادة في الدين أو نقصان منه اهـ.
وعرفها الشمني بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما اهـ.."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:370، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) حتى الخوارج الذين يستحلون دماءنا وأموالنا وسب الرسول، وينكرون صفاته تعالى وجواز رؤيته لكونه عن تأويل وشبهة بدليل قبول شهادتهم، إلا الخطابية ومنا من كفرهم (وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله إن الله تعالى جسم كالأجسام وإنكاره صحبة الصديق
(قوله ومنا من كفرهم) أي منا معشر أهل السنة والجماعة من كفر الخوارج: أي أصحاب البدع؛ أو المراد منا معشر الحنفية. وأفاد أن المعتمد عندنا خلافه، فقد نقل في البحر عن الخلاصة فروعا تدل على كفر بعضهم. ثم قال: والحاصل أن المذهب عدم تكفير أحد من المخالفين فيما ليس من الأصول المعلومة من الدين ضرورة إلخ فافهم»"
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:561، ط:سعید)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
بدعت اسے کہا جاتا ہے کہ جس کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو یعنی قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت نہ ملے حضور اقدس ﷺ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین اور تبع تابعین کے مبارک زمانہ میں اس کا وجود نہ ہو اور اس کو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں تحریر فرماتے ہیں۔والبدعة اصلها ما احدث على غير مثال سابق وتطلق في الشرع في مقابل السنة فتكون مذمومة (فتح البارى ص 219 ج 4، کتاب صلواة التراويح)
(بدعت اصل میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بغیر کسی سابق مثال کے اور نمونہ کے ایجاد کی گئی ہو اور شریعت میں بدعت کا اطلاق سنت کے مقابلہ میں ہوتا ہے لہذا وہ مذموم ہی ہوگی)۔۔۔۔۔۔۔
بدعت بہت سخت گناہ ہے از روئے حدیث بدعت مردود ہے، گمراہی ہے شر الامور ہے، اللہ تعالیٰ رسول اللہ ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت کا سبب ہے، بدعتی کی تعظیم کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے، بدعتی کا روزہ مقبول نہیں ،نماز مقبول نہیں ، حج مقبول نہیں ، عمرہ مقبول نہیں ، صدقہ مقبول نہیں ، جہاد مقبول نہیں، بدعتوں سے باز نہ آوے تو تو بہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔
بدعت اس قدر سخت گناہ ہے کہ اس کی نحوست سے سنت نیست و نابود ہو جاتی ہے اور وہ قوم سنت کے نور سے محروم ہو جاتی ہے، حدیث میں ہے۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما احدث قوم بدعة الا رفع مثلها من السنة فتمسک بسنة خير من احداث بدعة( رواه رواه احمد احمد. مشكوة ة شريف شريف . ص 31 باب بالا الاعتصام بالكتاب والسنة )
(رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی قوم نے بھی کوئی بدعت ایجاد کی تو اس کی وجہ سے اس جیسی سنت اس قوم سے اٹھالی جاتی ہے، لہذا اسنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنا بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے)۔
(كتاب العقائد، مايتعلق بالسنة والبدعة، ج:2، ص:165،167، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101827
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن