بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے ایصال ثواب کے لیے سوئم، چالیسواں اور اس میں کھانا کرنے کا حکم


سوال

ہمارے خاندان میں ایک رسم رائج ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو تیسرے دن  قرآن خوانی کی جاتی ہے، جس میں محلے کے بہت سے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے، پھر مسلسل سات جمعوں  تک قرآن خوانی ہوتی ہے، جس میں خاندان کے لوگوں کو بھی بلایا جاتا ہے اور پھر  آخر میں چالیسواں ہوتا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ اس کا کیا حکم ہے، جائز  ہے یا نہیں؟ اور لوگوں کے لیے اس کا کھانا کیسا ہے؟

جواب

کسی میّت کے ایصالِ ثواب کے  لیے سوئم، چالیسواں یا کوئی بھی وقت، دن یا کیفیت  مخصوص کر کے ایصال ثواب کرنا شریعت میں ثابت نہیں، اس لیے اس کا  اہتمام بدعت ہے، اس موقع پر جو کھانا وغیرہ کھلایا جاتا ہے، اس سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہے۔

البتہ کسی تعیین کے بغیر   میت کے لیے ایصال ثواب کرنا ہر دن، ہر وقت جائز ہے، اور ہر قسم کے نفلی اعمال کا ثواب میت کو بخشا جاسکتا ہے، اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے،اس کے لیے گھر میں ہی جو افراد اتفاقًا جمع ہوں اور اعلان و دعوت کےالتزام کے بغیر اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں، دن وغیرہ کی کوئی تخصیص نہ ہو، اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی اجازت ہے،  لیکن اس پر  طے کرکے اجرت کا لین دین   یا دعوت کا التزام کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"یکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة، وقوله: ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلی القبرفي المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّآء للختم أو لقراءة سورة الإنعام أوالإخلاص".

( کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضیافة من أهل المیت،2/ 240، ط: سعید)

وفیہ أیضاً:

"وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع". 

( کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في القراءة للمیت وإهداء ثوابها له، 2/ 243، ط: سعید)

الاعتصام للشاطبی میں ہے:

"ومنها: (ای من البدع)  التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته".

(الاعتصام للشاطبي، الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا، ص: 53،  ط: دار ابن عفان، السعودية)

مرقاة المفاتیح  میں ہے:

"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟."

(کتاب الصلاة، الفصل الأول، 3/ 31، ط: رشیدیة)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں