
میری والدہ کینسر کی مریضہ ہیں،ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے،میرے خالو نے ان کو اپنے گھر میں رکھا ہے،ہمارے ہاں آنے نہیں دیتے،بلکہ یہاں تک انہوں نے کہا ہے کہ اس کا کفن دفن بھی ہم کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ میری والدہ کا انتقال ہوجاۓ،تو میرے خالو کو یہ حق ہے کہ وہ ان کا کفن دفن خود کرے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ والدہ سے کچھ نمازیں اور کچھ روزے قضاء ہوچکے ہیں،اوران کے پاس کچھ زیورات ہیں،جس کی زکات بھی ان کے ذمے ہے،20 سالوں سے زکات ادا نہیں کی ہے،تو کیا والدہ اللہ سے اس پر معافی مانگ کر معاف ہوجاۓ گی،یا اس کا فدیہ وغیرہ دینا ضروری ہے؟اور وہ یہ چاہتی بھی ہے کہ ان کی طرف سے فدیہ ادا کیا جاۓ۔نیز ان کے ذمے جو زکات ہے ،اس کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہے؟
1-واضح رہے کہ میت کے کفن دفن کا انتظام کرنے کے حق دار اس کے اولیاء ہوتے ہیں،اور اولیاء میں سب سے مقدم باپ اور بیٹا ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر خدانخواستہ سائل کی والدہ کا انتقال ہوجاۓ،تو کفن دفن کا بندوبست کرنے کا حق دار سائل ہی ہے،سائل کے خالو کا ولی (بیٹے) کی اجازت کے بغیر تجہیز وتکفین کرنا اور ولی کو اس سے روکنا جائز نہیں۔
2-سائل کی والدہ سے جو روزے اور نمازیں قضاء ہوئی ہیں،اس پر صرف اللہ سے معافی مانگنے سے وہ معاف نہیں ہوں گی،بلکہ اگر وہ قضا پر قادر ہیں،تو قضا ضروری ہے،لیکن اگر وہ قضا پر قادر نہیں ہیں،تو پھر فدیہ دینے کی وصیت لازما کرلیں اور ہر روزے اور نماز کے بدلے ایک صدقہ فطر کے بقدر فدیہ ادا کرنا لازم ہے،نیز ہر وتر کی نماز کے بدلے بھی ایک فدیہ ادا کرنا لازم ہے۔
اسی طرح سائل کی والدہ کے پاس جو زیورات ہیں،اور 20 سالوں سے اس کی زکات ادا نہیں کی ہے،تو اس کے بارے میں تفصیل یہ ہےکہ جب سے سائل کی والدہ صاحب نصاب بنی تھی اس وقت سے زکات لازم ہے،اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ زیورات کی موجودہ قیمت لگا کر کل قیمت کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد پہلے سال کی زکات نکالی جائے، اس کے بعد پہلے سال کی زکات کے طور پر نکالی گئی رقم کو کل قیمت سے منہا کر کے باقی رقم کا چالیسوں حصہ اگلے سال کی زکات نکالی جائے، اس کے بعد مذکورہ دونوں سالوں کی زکات کو کل رقم سے منہا کر کے باقی رقم کا چالیسواں حصہ اگلے سال کی زکات ادا کرے، اسی طرح تمام سالوں کی زکات ادا کی جائے۔
اور اگر زکات ادا کرتے کرتے کل رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم رہ جائے اور مذکورہ سونا چاندی کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی مال زکات نہ ہو تو اس صورت کے بعد زکات ساقط ہوجائے گی ۔
نیز اگر فدیہ اور زکات کی ادائیگی مکمل نہ ہوسکےتو ان پر لازم ہے کہ مرنے سے پہلے باقی ماندہ نماز،روزوں اور زکات کا فدیہ ترکہ سے ادا کرنے کی وصیت کرجائیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أن تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي، وإلا فالولي أولى كما في المجتبى وشرح المجمع للمصنف....(ثم الولي) بترتيب عصوبة الإنكاح إلا الأب فيقدم على الابن اتفاقا إلا أن يكون عالما والأب جاهلا فالابن أولى".
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، 220-221، ط:ایچ ایم سعید)
وفیه أیضا:
"واعلم أن صحة الفدية في الصوم للفاني مشروطة باستمرار عجزه إلى الموت. فلو قدر قبله قضى كما سيأتي في كتاب الصوم".
(كتاب الصلاة، ج:1، ص:355، ط:ایچ ایم سعید)
وفیه أیضا:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)."
(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:72، ط:ایچ ایم سعيد )
وفیه أیضا:
"أقول: ووجه ذلك أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني أنه يفطر ويفدي في حياته، حتى إن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياما أخر، وإلا فلا شيء عليه، فإن أدرك ولم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر."
( كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:74، ط:ایچ ایم سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة."
(كتاب الزكاة، فصل شرائط فرضية الزكاة، ج:2، ص:7، ط:دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100042
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن