بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میکے میں رہنے والی بیمار بیوی کے گزشتہ سالوں کے نان و نفقہ کا حکم / طلاق دینے کی بنا پر شوہر سے جرمانہ لینا کیسا ہے؟


سوال

ایک لڑکی کی شادی ہوئی۔ شادی کے بعد وہ چند دن اپنے شوہر کے ساتھ رہی، اس کے بعد اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ شوہر نے بارہا پیغام بھیج کر اسے واپس بلانے کی کوشش کی، لیکن لڑکی کے والدین نے مختلف حیلوں بہانوں سے انکار کیا اور یہ کہتے رہے کہ لڑکی بیمار ہے۔ شوہر نے معاملہ سلجھانے کے لیے چند افراد پر مشتمل جرگہ لڑکی کے والدین کے پاس بھیجا تاکہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل ہو جائے، مگر لڑکی کے والدین نے جرگے والوں کی بات بھی نہیں مانی اور یہ کہتے رہے کہ لڑکی بیمار ہے۔اس طرح آٹھ سال گزر گئے اور شوہر نے مایوس ہو کر لڑکی کو طلاق دے دی۔

اب درج ذیل سوالات  کے بارے میں شرعی راہ نمائی درکار ہے:

سوال نمبر 1:لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ ان آٹھ سالوں کے دوران انہوں نے لڑکی کو کھلایا پلایا اور اس کی بیماری کے علاج پر اخراجات کیے، لہٰذا شوہر ان تمام اخراجات کی رقم ادا کرے۔ کیا شرعاً یہ اخراجات شوہر کے ذمے لازم ہوں گے یا نہیں؟جب کہ فریقین کے درمیان نان و نفقہ کے حوالہ سے کچھ طے نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی کسی عدالت نے کچھ طے کیا تھا۔ اسی طرح علاج معالجہ کے حوالہ سے بھی کچھ طے نہیں ہوا تھا۔

سوال نمبر 2: نکاح کے وقت مہر ایک لاکھ بیس ہزار روپے مقرر ہوا تھا، جس میں سے شوہر ایک لاکھ دس ہزار روپے ادا کر چکا ہے اور صرف دس ہزار روپے باقی ہیں۔ کیا یہ دس ہزار روپے ادا کرنے کے بعد شوہر مکمل طور پر بری الذمہ ہو جائے گا، یا طلاق کی وجہ سے اس پر مزید کسی قسم کی رقم واجب ہو گی؟

سوال نمبر 3: شادی کے بعد لڑکی کے والدین نے تقریباً پینتیس سے چالیس ہزار روپے مالیت کا سونا لڑکی کو دیا تھا، لیکن شوہر کو نہ اس سونے کو اس کے گھر لانے کا علم ہےاور نہ ہی اس بات کا کہ والدین نے لڑکی کو سونا دیا تھا۔ اب لڑکی کا دعویٰ ہے کہ اس کا سونا شوہر کے گھر سے چوری ہو گیا ہے، لہٰذا شوہر اس کا ذمہ دار ہے اور اسے سونے کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔جب کہ بیوی کے پاس اس دعویٰ پر نہ کوئی شہادت ہے اور نہ کوئی ثبوت۔ کیا ایسی صورت میں شرعاً شوہر پر اس سونے کی رقم ادا کرنا لازم ہو گا یا نہیں؟

جواب

1) صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً صحیح ہے کہ مذکورہ لڑکی کے نان و نفقہ اور علاج سے متعلق کوئی چیز طے نہیں ہوئی تھی، بلکہ لڑکی والوں نے از  خود اپنے طور پر یہ سارے اخراجات کئے تھے، تو ایسی صورت میں  لڑکی کے گزشتہ آٹھ سال کا نان و نفقہ اور علاج کے اخراجات شرعاً شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہیں، لہذا لڑکی کے والدین کو ان اخراجات کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔ البتہ اس کے باوجود شوہر اگر اپنی مرضی اور رضامندی سے دے دے، تو یہ اس کی طرف سے احسان اور تبرع ہوگا۔

2) مہر کی باقی ماندہ رقم، یعنی دس ہزار روپے ادا کرنے کے بعد شوہر شرعاً بری الذمہ ہو جائے گا، طلاق دینے کی وجہ سے لڑکی یا اس کے والدین کو شوہر سے مزید کسی رقم کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

3) اگر لڑکی کا سونا شوہر کے گھر سے چوری ہونا باقاعدہ شرعی گواہوں کے ذریعے ثابت بھی ہو جائے، تب بھی محض اس بنیاد پر شوہر اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ البتہ اگر لڑکی یہ دعویٰ کرے کہ سونا خود شوہر نے چوری کیا ہے اور اس دعویٰ پر شرعی گواہ بھی پیش کر دے، تو ایسی صورت میں شوہر ذمہ دار ہوگا۔ اور اگر لڑکی کے پاس اپنے دعویٰ کے ثبوت پر کوئی شرعی گواہ نہ ہوں، تو ایسی صورت میں سائل پر قسم آئے گی، سائل اگر قسم اٹھالے کہ میں نے یہ سونا چوری نہیں کیا، تو ایسی صورت میں فیصلہ سائل کے حق میں ہوگا۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"وكذا لو مرضت ثم إليه نقلت، أو في منزلها بقيت ولنفسها ما منعت وعليه الفتوى كما حرره في الفتح.وفي الخانية: مرضت عند الزوج فانتقلت لدار أبيها، إن لم يكن نقلها بمحفة ونحوها فلها النفقة وإلا لا كما لا يلزمه مداواتها.(قوله وإلا لا) أي وإن أمكن نقلها إلى بيت الزوج بمحفة ونحوها فلم تنتقل لا نفقة لها كما في البحر لمنعها نفسها عن النقلة مع القدرة، بخلاف ما إذا لم تقدر أصلا."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:575، ط:سعيد)

وفیہ أیضاً:

"وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت. (قوله وتسقط به) أي بالنشوز النفقة المفروضة، يعني إذا كان لها عليه نفقة أشهر مفروضة ثم نشزت سقطت تلك الأشهر الماضية، بخلاف ما إذا أمرها بالاستدانة فاستدانت عليه فإنها لا تسقط كما سيأتي في مسألة الموت. اهـ. ح قلت: وسقوط المفروضة منصوص عليه في الجامع."

 

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:576، ط:سعيد)

وفیہ أیضاً:

"(وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر.(قوله والمذهب الأول) لإطلاق قوله تعالى {فطلقوهن لعدتهن} [الطلاق: 1] {لا جناح عليكم إن طلقتم النساء} [البقرة: 236]-«ولأنه صلى الله عليه وسلم طلق حفصة لا لريبة ولا كبر» ، وكذا فعله الصحابة والحسن بن علي رضي الله عنهما استكثر النكاح والطلاق."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:227، ط:سعيد)

وفیہ أیضا:

"(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط:سعيد)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:

"الدعوى لغة هي قول يقصد به الإنسان إيجاب الحق على غيره. وشرعا هي طلب أحد حقه من آخر قولا أو كتابة في حضور القاضي حال المنازعة بلفظ يدل على الجزم بإضافة الحق إلى نفسه، أو إلى الشخص الذي ينوب عنه.....يدل على الجزم - يشترط في الدعوى، وقوع طلب الحق بلفظ يدل على الجزم واليقين.فلذلك لو ادعى أحد قائلا: إنني أظن، أو أشتبه بأن لي في ذمة هذا الرجل كذا درهما، أو يجب أن يكون لي في ذمته كذا دراهم لا تصح بل يجب عليه أن يبين بأنه يطلب له منه يقينا كذا مبلغا (رد المحتار) ."

(الكتاب الرابع عشر الدعوى، رقم المادة:1613، ج:4، ص:173، ط:دار الجيل)

وفیہ أیضاً:

"البينة للمدعي واليمين على من أنكر. هذه القاعدة مأخوذة من الحديث الشريف القائل «البينة على من ادعى واليمين على من أنكر."

(المقدمة، المقالة الثانية، رقم المادة:76، ج:1، ص:74، ط:دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں