
میری بہن سات سال بیمار رہی، جس میں اس سے آدھی نمازیں فوت ہوگئیں، اب اس کا فدیہ و کفارہ ادا کرنا چاہیے ہمیں؟ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ کتنا اور کس کو ادا کرنا ہوگا؟ اور کیا ہم پر ادا کرنا واجب ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بہن کے ذمہ قضاء نمازیں باقی تھیں اور وہ اپنی زندگی میں اد انہ کرسکی، تو اگر انتقال سے پہلے انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرے ترکہ میں سے ان نمازوں کا فدیہ ادا کردینا اور ان کے ترکہ میں مال بھی ہے، تو ایسی صورت میں ان کے ورثاء پر مرحومہ کے ایک تہائی ترکہ سے اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے، ایک تہائی سے زائد میں وصیت نافذ کرنے کے لیے تمام ورثاء کی اجازت اور رضامندی ضروری ہے۔ اور اگر مرحومہ نے ان نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت نہیں کی، تو ورثاء پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے، البتہ اگر عاقل بالغ وارث اپنے حصے یا مال سے مرحومہ کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہے، تو یہ شرعاً درست ہے اور یہ اس کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا، نیز ہر نماز کا فدیہ صدقۃ الفطر کی مقدارپونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے اور وتر کے ساتھ روزانہ کی چھ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)."
(كتاب الصلاة، ج:2، ص:72، ط:سعيد)
فدیہ مستحق زکوۃ شخص کو دیا جائے گا، اگر مرحومہ کے بھائی بہن وارث نہ بھی ہوں اور اپنی مرحومہ بہن کی طرف سے ان قضاء نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیں، تو کرسکتے ہیں، یہ مرحومہ بہن کے ساتھ احسان ہوگا، البتہ ایسا کرنا ان پر لازم اور ضروری نہیں۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101105
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن