بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کمیٹی اور عید کے موقع پر تعزیت کا حکم


سوال

1. فوتگی کے بعد عید الاضحی اور عید الفطر کے موقع پر دوبارہ سے دعا اور تعزیت کا اہتمام کرنا شرعاً کیسا ہے؟

2. بعض علاقوں میں میت کمیٹی ہوتی ہے اور کمیٹی والے شرکاء کمیٹی میں سے کسی ایک فرد کی وفات پر کھانے کا اہتمام کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

۱)  انتقال کے بعد تین دن تک تعزیت کرنا جائز ہے۔ تین دن کے بعد یا ایک بار تعزیت کرنے کے بعد دوبارہ تعزیت کرنا مکروہ ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں عید الاضحی اور عید الفطر کے موقع پر دوبارہ تعزیت  کرنا مکروہ ہے۔

۲) میت کمیٹی اگر مروجہ طریقہ پر قائم کی جاتی ہے کہ شرکاء میں سے ہر ایک پر ہر ماہ یا طے شدہ مدت پر چندہ دینا ضروری ہوتا ہے اور پھر ان شرکاء میں کسی کی وفات پر اس فنڈ سے اس کے انتقال پر  کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے تو یہ طریقہ شرعا درست نہیں ہے کیونکہ :

الف)مذکورہ کمیٹیوں  کا ممبر بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب،  ایک مخصوص رقم ہر ماہ یا طے شدہ مدت ہر  کمیٹی میں جمع کرے،اگر وہ یہ رقم جمع نہیں کرتا تو اسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے،پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی جو ماہانہ(یا طے شدہ مدت پر ) چندہ دینے والےممبران کو مہیا کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہےکہ اس کمیٹی کی بنیاد "امداد باہمی" پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات  فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم سے کبھی کم اور کبھی  زیادہ ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ فقہی اصطلاح میں بعینہ جوا نہیں ، لیکن جوے کی بو اور آمیزش سے خالی بھی نہیں۔

ب)کمیٹی کے ممبران میں سے بسا اوقات  غریب  لوگ بھی ہوتے ہیں،وہ اتنی  وسعت واستطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو روپے بھی ادا کرسکیں،لیکن  خاندانی رواداری کی خاطریا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبورًا یہ رقم  جمع کرتے ہیں، یوں وہ رقم تو جمع کردیتے ہیں لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا،کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وبتعزية أهله وترغيبهم في الصبر وباتخاذ طعام لهم وبالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام، وأولها أفضل. وتكره بعدها إلا لغائب. وتكره التعزية ثانيا،

(قوله إلا لغائب) أي إلا أن يكون المعزي أو المعزى غائبا فلا بأس بها جوهرة. قلت: والظاهر أن الحاضر الذي لم يعلم بمنزلة الغائب كما صرح به الشافعية (قوله وتكره التعزية ثانيا) في التتارخانية: لا ينبغي لمن عزى مرة أن يعزي مرة أخرى رواه الحسن عن أبي حنيفة. اهـ. إمداد."

(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز،ج:۲،ص:۲۳۹،ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضاً:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

( كتاب الحظر و الإباحة، فصل في البيع6/404ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں