
میری والدہ بیوہ ہیں۔ ان کےچار بچے ، 2بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔ والدہ کے نام گھر ہے۔
والدہ چاہتی ہیں کہ جب تک وہ زندہ ہیں ان کی ملکیت میں گھر رہے۔ ان کے بعد گھر تمام بچوں میں برابر تقسیم ہوجائے جس کے لیے وہ ہبہ کرنا چاہتی ہیں۔
جب والدہ نے ہبہ نامہ بچوں کے سامنے رکھا تو بیٹوں نے سائن کرنے سے انکار کردیا کہ یہ شریعت کے خلاف ہے اور کہا کہ کرنا ہے تو ابھی سب کے نام کردو اور آپ اس جائیداد سے بے دخل ہوجاؤ۔
اور اگر آپ نے ہبہ کا قدم اٹھایاتو ہمیں گھر سے نکال دو، جبکہ والدہ نے کلمہ پڑھ کر یہ کہا تھا کہ میں یہ گھر برابر تمام بچوں کو ہبہ کروں گی۔
سوال :
۱) اگر بیٹے سائن نہ کریں تو والدہ کیا کریں؟
۲) شریعت کی روشنی میں جواب دیں کہ والدہ کی قدم اٹھائیں کہ والدہ کی خواہش پوری ہوجائے۔
وضاحت: یہ گھر والدہ کی ملکیت کا ہے۔
۱،۲) واضح رہے کہ جب کوئی شخص اپنی جائیداد اپنی زندگی میں بچوں میں تقسیم کرے یعنی زندگی میں ان کو ہبہ (گفٹ) کر کے مالک بنا دے تو پھر اس صورت میں بیٹوں اور بیٹیوں میں برابری کرنے کا حکم ہے ۔اگر اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ میری جائیداد زندگی میں میری ہی رہے اور میرے انتقال کے بعد میری اولاد کو ملے تو پھر اس صورت میں میراث کے احکام جاری ہوتے ہیں، ہبہ (گفٹ) کے نہیں اور پھر بیٹے اور بیٹی کو برابر نہیں ملتا بلکہ بیٹوں کو بیٹیوں کے مقابلہ میں دو گنا ملتا ہے۔ اس صورت میں اگر کوئی شخص ہبہ نامہ یا وصیت نامہ بھی لکھ دے کہ میرے مرنے کے بعد میری اولاد کو برابر ملے اور اس کی توثیق کے لیے اپنے اور اولاد کے دستخط بھی کراودے تب بھی انتقال کے بعد بیٹے بیٹیوں کے مقابلہ میں دو گنا کے ہی مستحق ہوں گے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کی والدہ کو چاہیے کہ وہ گھر کے متعلق کسی قسم کا کوئی ہبہ نامہ یا وصیت نامہ نہ بنوائیں بلکہ اس گھر کو زندگی میں اپنی ہی ملکیت میں رہنے دیں اور اپنی موت کے بعد کی تقسیم کو شریعت کے بیان کردہ اصول پر چھوڑ دیں یعنی جو اولاد اس وقت حیات ہوگی اس کو شریعت کے بیان کردہ اصول کے مطابق مل جائے گا۔
بیٹوں سے زبردستی ہبہ نامہ پر دستخط نہ کروائیں کیونکہ اول تو بیٹے سائن کر بھی دیں تب بھی ان کا حق ختم نہیں ہوگا اور دوسرا یہ ہبہ نامہ اور وصیت نامہ (کہ موت کے بعد بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر ملے) شریعت کی بیان کردہ تقسیم کے خلاف بھی ہے۔بہن بھائی باہمی رضامندی سے امی کی خواہش پر عمل کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ،جائز ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
(کتاب الوصایا، ج:6،ص:90،دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100308
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن