
ہمارے بلوچستان میں خاص کر بلوچ علاقوں میں بہت سارے لوگ غربت کی وجہ سے یا بعض لوگ زیادہ زمین ہونے کی وجہ سے اپنی غیرآباد د زمینوں کو خود کاشت نہیں کر سکتے ہیں تو وہ کسی معتمد آدمی کو اپنی ایسی زمین دائمی مزارعت کےطور پر دے دیتے ہیں،معاہدہ میں یہ طے ہوتا ہے کہ کاشت کاری کےتمام تراخراجات مزارع پرہوں گے،حتی کہ بیج وغیرہ بھی مزارع کاہی ہوگا، پیداورامیں مالک زمین کا ربع یاثلث حصہ ہوگا۔ اس معاہدہ کی کوئی مدت مقررنہیں ہوتی، حتی کہ مالک زمین یامزارع کےمرنے کےبعد بھی وہ معاملہ ان کےورثاء کی طرف منتقل ہوجاتاہے،کوئی بھی فریق اس معاملہ کوختم نہیں کرسکتا اس معاملہ کوہمارےعلاقےکی اصطلاح میں موروثی بزگری کہتےہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ نواب قاضی کے دور میں ہمارے نانا مرحوم ایک زرعی زمین کی موروثی بزگرتھے ،پاکستان بننے کے بعد وہ زمین سرکاری ہوگئی، بعد میں کسی شخص نے وہ زمین حکومت پاکستان سے خرید لی، مگر نانا کے موروثی بزرگری کا حق سرکاری ریکارڈ میں برقرار رہا ،نانا کے انتقال کے بعد یہ مورثی بزگری صرف ناناکے بیٹے یعنی میرے ماموں کے نام درج کر دی گئی ،نانا کی بیٹی یعنی میری والدہ کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا گیا ،ماموں حضرات کہتے ہیں موروثی بزگری میں بیٹوں کا حصہ ہوتاہے بیٹیوں کا نہیں۔
اب سوال یہ ہےکہ موروثی بزگری کا حق نانا کی وفات کے بعد بطورِترکہ تقسیم ہوگا؟
2۔کیا اس میں بیٹی یعنی میری والدہ کا حق بنتا ہے؟ہمارےعلاقہ کےبعض مفتیان کایہ فتوی ہےکہ بیٹی اورمعذوراولادکو موروثی بزگری کاحق نہیں ملےگا،جبکہ بعض جیدمفتیان اہل علاقہ نے بیٹیوں کوموروثی بزگری کےحصہ ملنےکافتوی دیاہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ بزگری دوسروں کی زمین پر کاشتکاری کا ایک ایسا حق ہے جو سائل کے بیان کے مطابق بلوچستان کے عرف و رواج میں کسان (بزگر) کو نسل در نسل زمین آباد کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ تاہم اس حق کی بنیاد پر کسان (بزگر) زمین کے کسی حصے کا شرعاً مالک نہیں بن جاتا۔مزید یہ کہ کسان یا مالکِ زمین میں سے کسی ایک کی وفات کی صورت میں یہ حق کسان کی اولاد کی طرف منتقل نہیں ہوتا؛ کیونکہ وراثت صرف مملوک (ملکیت والی چیز) میں جاری ہوتی ہے، جبکہ حقوقِ مجردہ مملوک نہیں ہوتیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے نانا کی وفات سے حقِ کاشتکاری نہ تو نانا کے ترکہ کےطورپرتقسیم ہوگا اور نہ ہی یہ کسی وارث کی طرف منتقل ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"فقد صرحوا بأن الحقوق المجردة لا تورث."
(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج: 5، ص: 146، ط: سعید)
امدادالاحکام میں ہے:
سوال: اگر زمیندار کا شکار (کاشتکار) کے نام اپنی کسی کھیت کی بخوشی کاشتکاری لگوادے تو آیا زمیندار اور کاشتکار دونوں کے مر جانے کے بعد یا ایک کے مر جانے کے بعد پھرکاشتکار کے لڑکے کو اس کاشتکاری سے منتفع ہونا جائز ہوگا یا نہیں؟ ونیز اگر کسی زمیندار نےاپنا کھیت بطور کاشتکاری کے کسی کاشتکار کے نام "نسلاً بعد نسل" کر کے لکھ دیا تو یہ لکھنا جائز ہوگا یا نہیں؟ بعض زمیندار کچھ روپیہ لے کر لکھ دیتے ہیں۔
الجواب: کاشتکار کے نام اگر زمیندار کھیت کی کاشتکاری لکھ دے تو ایک یا دونوں کے مرنے کےبعد کاشتکار کی اولاد کو حقِ کاشتکاری نہ پہنچے گا، کیونکہ وراثت مملوک (ملکیت والی چیز) میں ہوتی ہے اور حقوقِ مجردہ مملوک نہیں ہوتے۔ اور اگر زمیندار کچھ روپیہ لے کر زمین کو موروثی کر دے تو جب بھی زمین شرعاً موروثی نہ ہوگی اور زمیندار نے جو رقم لی ہے وہ رشوت ہے، اس کا تصرف میں لانا حرام ہے، کاشتکار اپنی وہ رقم واپس لے سکتا ہے۔
(کتاب المزارعۃ،باب المساقات،ج:4،ص:172،ط:دارالعلوم کراچی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100185
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن