بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

موجودہ زمانے میں عورتوں کے فوج میں بھرتی ہونے کا حکم


سوال

موجودہ دور میں جب کہ امتِ مسلمہ ہر طرف سے کمزوری اور مغلوبیت کا شکار ہے، ایسے حالات میں کیا خواتین کے لیے بری، بحری یا فضائی فوج میں شمولیت اختیار کرنا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مسلمانوں کی کمزوری اور مغلوبیت کا سبب قرآن و سنت سے دوری،دنیاکی محبت  ،اور غیر مسلموں کی دوستی کی وجہ سے ہے، نہ کہ افراد کی کمی۔اور نہ ہی مسلمان   کبھی اپنی کثرتِ تعداد کی بنیاد پر غالب رہیں  بلکہ ایمان، اخلاص، اور تقویٰ کے سبب غالب رہیں ۔لہٰذا عورتوں کو فوج میں شامل کرنے کی ضرورت مردوں کی قلت کی وجہ سے نہیں،اور دفاع ہے بھی مردوں کی ذمہ داری  نہ کی عورتوں کی ،جبکہ اسلام کی رو سے  عورت کا اصل دائرہ کار گھر، خاندان ،اور اولاد کی تربیت اور پردہ و عفت کا تحفظ ہے۔ شریعتِ مطہرہ  نے عورت کو گھر میں اورپردہ میں رہنے کی بہت  ہی زیادہ تاکید فرمائی ہے ،اور اس کا اپنے گھر سے نکلنے کو سخت نا پسند کیا گیا ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے معاملہ میں بھی یہ پسند فرمایا کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں اور اسی کی ترغیب دی۔  

امہات المؤمنین اور صحابیات رضی اللہ عنہن کا آخری عمل ہی حکم کے مطابق ہے، بلکہ حضور ﷺ نے جہاد کی خواہش مند صحابیات کو یہ کہہ کر جہاد سے منع کردیا تھاکہ خواتین کا خانہ داری ذمہ داریاں نبہانا ہی اس کا جہاد ہے۔ چنانچہ ان کے بعد امت کی خواتین بھی اسی نہج پر اپنے معاشرتی و خاونگی کردار ادا کرنے تک محدود رہی ہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں موجودہ فوجی نظام کے تحت ان شرائط کی عدم دستیابی،" مردوں کے ساتھ اختلاط، پردے کی خلاف ورزی، اور فتنہ کے شدید خدشات کی بنا پر "عام حالات میں عورت کافوج  جوائن کرنے کا جواز ثابت نہیں۔

البتہ بعض اوقات چوں کہ علاج و معالجہ کےلیےخواتین کی ضرورت پڑتی ہے؛اس لیےضرورت کی وجہ سے بعض  شرائط (یعنی پردے کا اہتمام،مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو،فتنہ کے خدشات نہ ہو،عورت کی عزت، عفت اور شرم و حیا محفوظ ہو،میدانِ جنگ میں براہ راست قتال سے دوری ہو،اور وہ اتنی مضبوط ہو کہ حسب ضرورت  اپنادفاع اور حفاظت خود کرسکتی ہوان شرائط)کے ساتھ، جہاں سخت ضرورت ہو وہاں   شرائط کے ساتھ آرمی جوائن کرسکتی ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ثوبان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة إلى قصعتها" فقال قائل: ومن قلة نحن يومئذ؟ قال: "بل أنتم يومئذ كثير، ولكنكم غثاء كغثاء السيل، ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم، وليقذفن الله في قلوبكم الوهن". فقال قائل: يا رسول الله، وما الوهن؟ قال: حب الدنيا وكراهية الموت۔"

(كتاب الملاحم،باب في تداعي الأمم على الإسلام،ج:6،ص:335،ط:دار الرسالة)

ترجمہ:حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قریب ہے کہ (دنیا کی) قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے اپنے دسترخوان پر کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔"ایک شخص نے عرض کیا:"یا رسول اللہ! کیا اس وقت ہم تعدادمیں کم ہوں گے؟"آپ ﷺ نے فرمایا:"نہیں، بلکہ اس وقت تم تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے، لیکن تمہاری حیثیت سمندر کی جھاگ (یا بہتے پانی کی کائی) کی سی ہوگی۔اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب و دبدبہ نکال دے گا،اور تمہارے دلوں میں وَہن ڈال دے گا۔"پوچھا گیا:"یا رسول اللہ! وہن کیا ہے؟"آپ ﷺ نے فرمایا:"دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔"

روح المعانی میں ہے:

"(وقرن في بيوتكن)......والمراد على جميع القراءات أمرهن رضي الله تعالى عنهن بملازمة البيوت وهو أمر مطلوب من سائر النساء.

أخرج الترمذي والبزار عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إنالمرأة عورة فإذا خرجت من بيتها استشرفها الشيطان وأقرب ما تكون من رحمة ربها وهي في قعر بيتها»

وأخرج البزار عن أنس قال جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن: يا رسول الله ذهب الرجال بالفضل والجهاد في سبيل الله تعالى فهل لنا عمل ندرك به فضل المجاهدين في سبيل الله تعالى فقال عليه الصلاة والسلام: «من قعدت منكن في بيتها فإنها تدرك عمل المجاهدين في سبيل الله تعالى»

وقد يحرم عليهن الخروج بل قد يكون كبيرة كخروجهن لزيارة القبور إذا عظمت مفسدته وخروجهن ولو إلى المسجد وقد استعطرن وتزين إذا تحققت الفتنة أما إذا ظنت فهو حرام غير كبيرة، وما يجوز من الخروج كالخروج للحج وزيارة الوالدين وعيادة المرضى، وتعزية الأموات من الأقارب ونحو ذلك، فإنما يجوز بشروط مذكورة في محلها."

(الاحزاب،الآية33، ج11، ص187، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن الربيع بنت معوذ قالت:كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نسقي ونداوي الجرحى، ونرد القتلى إلى المدينة."

(کتاب الجہاد، باب غزوات النساء، باب مداواة النساء الجرحى في الغزو، ج3، ص1056،رقم:2726، ط:دار ابن كثير)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"قال: حدثني حشرج بن زياد ، عن جدته أم أبيه، «أنها خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة خيبر سادس ست نسوة، فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبعث إلينا فجئنا فرأينا فيه الغضب فقال: مع من خرجتن؟ وبإذن من خرجتن؟ فقلنا: يا رسول الله، خرجنا نغزل الشعر، ونعين به في سبيل الله، ومعنا دواء للجرحى، ونناول السهام ونسقي السويق، فقال: قمن حتى إذا فتح الله عليه خيبر أسهم لنا، كما أسهم للرجال. قال: فقلت لها: يا جدة، وما كان ذلك؟ قالت: تمرا."

(کتاب الجہاد، ‌‌باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة، ج3، ص26، رقم:2729، ط: دار الرسالۃ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولأن النساء أمرن بالقرار في البيوت فكان مبنى حالهن على الستر.وإليه أشار النبي صلى الله عليه وسلم حيث قال (كيف يفلح قوم تملكهم امرأة)."

(باب الإمامة، مطلب في شروط الإمامة الكبرى ، ج1، ص548، ط:سعید )

البحر الرائق میں ہے:

"‌فإنا ‌نجيز ‌الكلام ‌مع ‌النساء ‌الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ.."

(کتاب الصلوٰۃ، باب شروط الصلوٰۃ، ج1، ص275، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں