
ہماری زمین میں مٹر کی فصل کاشت ہوتی ہے، عشر ادا کرنے کے وقت اگر ہم مٹر کے عشر کے بجائے اتنی ہی مقدار یا قیمت کے برابر گندم دے دیں تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
واضح رہے کہ عشر کا تعلق اسی پیداوار سے ہوتا ہے جو زمین سے پیدا ہوجائے ،لہذا صورت ِ مسئولہ میں مٹر کی پیداوار میں عشر دینے میں اصل تو یہی ہے کہ اسی پیداوار سے عشر دے تاہم اگر مالک چاہے تو مٹر کی جگہ اس کی قیمت یا قیمت کے بقدر گندم دے دیں ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما صفة الواجب فالواجب جزء من الخارج؛ لأنه عشر الخارج، أو نصف عشره وذلك جزؤه إلا أنه واجب من حيث إنه مال لا من حيث إنه جزء عندنا حتى يجوز أداء قيمته عندنا".
(كتاب الزكاة، باب زکاۃ الزرع والثمار، فصل فی صفة الواجب، ج:2، ص:63، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"المال الذي تجب فيه الزكاة أدى زكاته من خلاف جنسه أدى قدر قيمة الواجب إجماعا."
(كتاب الزكات، الباب الثالث في زكاة الذحب والفضة، ج:1، ص:180، دارالفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101239
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن