بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مستورات کا اجنبی میت کو دیکھنے کا حکم / میت کمیٹی کی شرعی حیثیت


سوال

غیر محرم کے جنازہ میں عورتیں شریک ہو کر وہاں  میت کو دیکھتی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟

جنازہ میں میت کمیٹی کی طرف سے  کھانے کا اہتمام کیا جاتاہے میت کے گھر والوں کےلیے اور تعزیت کرنے والوں کے لیے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  مستورات کا اجنبی میت کو دیکھناجائز  نہیں ۔

نیز رشتہ داروں اور  پڑوسیوں کا میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا مستحب ہے، اور میت کے اہل خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں تو ان کا شریک ہونا  بھی درست ہے۔ البتہ مروجہ "میت کمیٹی"  درجہ ذیل  مفاسد کی وجہ سے شرعاً درست نہیں۔

1۔کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب، ہر ماہ ایک مخصوص رقم کمیٹی میں جمع کرے،اگر وہ یہ رقم جمع نہیں کراتا تو اُسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی جو ماہانہ چندہ دینے والے ممبران کو مہیا کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی بنیاد ’’امدادِ باہمی‘‘ پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا)کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

2۔کمیٹی کے ممبران میں سے بعض اوقات غریب و نادارلوگ بھی ہوتے ہیں، جو اتنی وسعت واستطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو روپے بھی ادا کرسکیں، لیکن خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں، یوں وہ رقم تو جمع کرادیتے ہیں، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔

3۔بسااوقات اس طریقہ کار میں ضرورت مند اور تنگ دست سے ہم دردی اور احسان کی بجائے اس کی دل شکنی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ برتا جاتا ہے، کیوں کہ خاندان کے جو غریب افراد کمیٹی کی ماہانہ یا سالانہ فیس نہیں بھر پاتے انہیں کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، اس طرح ان کی حاجت اور ضرورت کے باوجود اُنہیں اس نظم کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور پھر موت کے غمگین موقع پر اُسے طرح طرح کی باتوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

4۔ اس طریقہ کار میں کھانا کھلانا ایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حال آں کہ مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔

مشکاة المصابیح میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لاتظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

ترجمہ:"حضرت ابو حرہ رقاشی اپنے  چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"خبردار! ظلم نہ کرو، خبردار! کسی انسان کا مال اُس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔"

(كتاب البيوع، باب الغصب و العارية، ج:2، ص:889، ط:المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون."

(کتاب الصلوٰۃ ،باب صلاۃ الجنازۃ ،ج:2،ص:240،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"(قوله لأنه يصير قمارا) لأن ‌القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي ‌القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي"

(کتاب الحظروالاباحة،فصل فی البیع،ج:6،ص:403،ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

"سوال:زید ایک سید اور مرشد تھے...  مستورات کے لئے اجنبی مرد کی میت پر مہر ( آخری دیدار ) کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : ...مستورات کو اجنبی میت کو دیکھنانا جائز ہے، اپنے محرم کودیکھ سکتی ہے ۔"

(کتاب الجنائز ،فصل چہارم،ج:4،ص:63،ص:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں