بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی بال ،مصنوعی پلکیں اور لینز لگانے کا شرعی حکم


سوال

1۔ نقلی بال لگانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ حدیث میں جو اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے، اس سے مراد کون سے نقلی بال ہیں؟ کیا وہ جو صرف کچھ دیر کے لیے لگائے جاتے ہیں اور پھر ہٹا دیے جاتے ہیں؟ یا وہ جو سر کی کھال (چمڑی) میں مستقل طور پر فٹ کر دیے جاتے ہیں اور کئی سالوں تک لگے رہتے ہیں؟

2۔ نقلی پلکیں  لگانا کا کیا حکم ہے؟

3۔ لینس لگانا شرعاً کیسا ہے؟ کیا ان کا استعمال جائز ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ مرد وخواتین کے لیے اپنے قدرتی بالوں کے  ساتھ  کسی اور  انسان کے بال لگانے کی اجازت نہیں خواہ انسانی بال عارضی وگ کے طورپر لگائے جائیں،یاپیوندکاری کےذریعہ سر میں پیوست کروالیے جائیں،   اسی طرح خنزیر کے بال نجس العین ہونے کی وجہ سے لگانا بھی جائز نہیں ۔ البتہ اون یا کسی  دوسرے مادے  سے بنے ہوئے مصنوعی بالوں کے لگانے کی اجازت ہے۔ تاہم مصنوعی بال اگر عارضی طورپر وگ کی صورت میں لگائے گئےہوں،جس کی وجہ سے سرتک پانی نہ پہنچتا ہو، تو وضوء وغسل میں انہیں نکالنا ضروری ہوگا،بصورت دیگر وضوءاور واجب غسل ادا نہیں ہوگا،رہی بات بالوں  کی پیوندکاری کی ،تو عام حالات میں آپریشن کی مشقت سے بچنا چاہیے،تاہم اگر کسی نے آپریشن  کےذریعہ اپنےبال  یا مصنوعی بالوں کی پیوندکاری  اس طور پر کروالی کہ بالوں میں بڑھوتری بھی ہوتی ہو،تو اس کی گنجائش ہوگی۔

2۔مصنوعی پلکیں لگانے کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ بال انسان کے ہوں تو ان کا لگانا گناہِ کبیرہ ہے، اور انسانی بال لگوانے والوں  پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے، اس طرح خنزیر کی بالوں کی بنی ہوئی پلکیں لگانا بھی جائز نہیں ہوگا،  ان دو قسم کے علاوہ عورت کے لیے  شوہر کی خاطر  تزیین و  آرائش کے لیے مصنوعی پلکیں  لگانے کی  گنجائش ہے، البتہ وضو کے لیے پلکیں نکال کر وضو کرنا ضروری ہوگا،  لیکن  محض دکھلاوے کے لیے یا دھوکا دینے کے لیے یا خلافِ حقیقت بات کا اظہار کے لیے  مصنوعی پلکیں لگانا جائز نہیں ہوگا۔

3۔لینس بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے عینک کے بجائے لینس استعمال کرنا جائز ہے،بینائی نہ ہونے کی  صورت میں محض جاذب نظر دکھائی دینے کےلیے لینس لگانا اچھا اقدام نہیں ،خصوصاًجب کہ  طبی اعتبار سے نقصان دہ ہونے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں لینس کے استعمال  سے بچنا بہتر ہوگا، البتہ لینس لگانے  سے مقصد غیر محرم مردوں  کی توجہ حاصل کرنا ہو،تو اس کا استعمال ممنوع ہوگا۔

مشكاة المصابيح ميں هے:

"عن ابن عمر  أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لعن اللہ الواصلة و المستوصلة و الواشمة و المستوشمة. متفق علیه".

ترجمہ: حضور ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے لعنت فرمائی اس عورت پر جو اپنے بالوں میں کسی دوسرے کے بالوں کا جوڑ لگائے اور اس  عورت پر جوکسی دوسری عورت کے بالوں میں اپنے بالوں کا جوڑ لگائے اور جسم گودنے اور گدوانے والی پر (بھی لعنت فرمائی )۔

(كتاب اللباس،‌‌باب الترجل،ج:2،ص:1262،المكتب الإسلامي - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ووصل الشعر بشعر الآدمي  حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة». النامصة: التي تنتف الشعر من الوجه. والمتنمصة: التي يفعل بها ذلك.(قوله: سواء كان شعرها أو شعر غيرها)؛ لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي، وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضاً، لكن في التتارخانية: وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف، وفي الخانية: ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئاً من الوبر (قوله: «لعن الله الواصلة» إلخ) الواصلة: التي تصل الشعر بشعر الغير والتي يوصل شعرها بشعر آخر زوراً ".

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج 6، صفحہ: 372، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

«ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها كذا في الاختيار شرح المختار.ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئا من الوبر كذا في فتاوى قاضي خان.في جواز صلاة المرأة مع شعر غيرها الموصول اختلاف بينهم والمختار أنه يجوز كذا في الغياثية.»

(کتاب الکراہية  ج : 5، ص: 359،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں