بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسئلہ پوچھتے وقت طلاق کے الفاظ دہرانے سے طلا ق کا حکم


سوال

 زید اور اُس کی بیوی کی لڑائی 2022 میں ہوئی ہو، جس میں زید نے بیوی کی طلاق کی درخواست پر یہ کہا کہ: "تمہارا میرا کوئی رشتہ نہیں ہے، تم آزاد ہو۔" یہ سب زید نے بغیر طلاق کی نیت کے کہا۔ 2024 میں زید نے بہت سے مفتیانِ کرام سے یہ مسئلہ پوچھا، اور زیادہ تر نے کہا کہ طلاقِ بائن ہوگئی ہے، تو زید نے 2024 کے شروع میں ہی تجدیدِ نکاح کرلیا۔ اب تجدیدِ نکاح کے بعد زید کو وسوسے آنے لگے کہ کہیں اُس نے ان الفاظ کے ساتھ "تمہارا اور میرا نکاح نہیں رہا" کے الفاظ تو نہیں بولے تھے۔ تو زید نے ایک اور مفتی صاحب کو کال کی اور مسئلہ دوبارہ پوچھا۔ اس بار اُس نے جو اصل میں الفاظ بولے تھے وہ بھی بتائے اور اُن کے ساتھ "تمہارا اور میرا نکاح نہیں رہا" کے الفاظ بھی ملا دیے، جبکہ حقیقت میں اُس نے نکاح والے الفاظ نہیں بولے تھے، اور اُس نے اپنی بیوی سے بھی اس کی تصدیق کی۔ براہِ مہربانی یہ بتائیں کہ اس طرح مسئلہ دوبارہ پوچھنے سے کیا زید کے دوسرے نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ نوٹ کریں کہ یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے زید نے یہ نہیں بتایا کہ یہ معاملہ کب کا ہے اور اُس نے تجدید کر لی ہے، اُس نے بس سوال پوچھا کہ میرا یہ معاملہ ہوا تھا اور کیا ان الفاظ سے طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟ 

جواب

 صورت مسئولہ میں زید نے مفتی صاحب سے   مسئلہ پوچھتے وقت جو الفاظ کہے ہیں ا سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

النہر الفائق میں ہے :

"‌لو ‌كرر ‌مسائل ‌الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلًا من كتاب رجل قال: ثم يقف ويكتب امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة بالتلفظ يقصد الحكاية لا يقع عليه."

( كتاب الطلاق ، باب الثلاث الصريح ، ج:2 ، ص:325 ، ط:دار الكتب العلمية )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں