
چند علماء کرام کی ایک فقہی مجلس ہوتی ہے جس میں ہر فرد مقررہ وقت تک ایک مسئلہ حل کرتا ہے، اگر کوئی فرد اس وقت تک اپنا مسئلہ حل نہ کرے تو اس پر کچھ مالی جرمانہ لگایا جاتا ہے مثلا 50 روپے ،پھر بعد میں سب مل کر اس رقم سے اجتماعی طور پر کچھ کھاپی لیتے ہیں ، اور انہوں نے اس جرمانے کو نام یہ دیا ہوا ہے کہ جو مسئلہ حل نہ کرے وہ اس مجلس سے خارج ہوجاتا ہے اور دوبارہ داخل ہونے کے لیے اس سے یہ رقم بطور فیس لی جاتی ہے،یہ بات بھی یاد رہے کہ ابتدا میں اس مجلس میں داخل ہونے کے لیے کوئی فیس نہیں ہوتی ،سوال یہ ہے کہ اس رقم لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس رقم کا اجتماعی طور پر کھانے پینے میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مقررہ وقت پر شرعی مسئلہ حل نہ کرنے کی صورت میں مالی جرمانہ لگانا شرعاً جائز نہیں ہے،مالی جرمانہ خواہ کسی بھی نام سے لیا جائے شرعاًجائز نہیں ہے ،نام بدلنے سے حکم میں فرق نہیں پڑے گا، جن سے جرمانے کی رقم وصول کی گئی ہے ان ہی کو مذکورہ رقم واپس کرنا لازم ہےاور اس شرط کو فوراً ختم کردینا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و أفاد في البزازية: أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدةً؛ لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لايجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ... و في شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ."
( کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، صفحہ: 61، ط: ایچ، ایم، سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100330
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن