
کیا مسجدیامدرسہ کے لیے وقف زمین پر عوامی فلاح کے لیے زیرِ زمین پانی کی ٹینکی بنائی جا سکتی ہے؟
واضح رہے کہ جب کوئی زمین مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کردی جائے تو وقف ہوتے ہی وہ واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور ہمیشہ کے لیے وقف کے مقصد کے ساتھ خاص ہوجاتی ہے، اس کے بعد نہ اسے فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے وقف کے مقررہ مقصد کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف زمین کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے، اس پر عوامی فلاح کے لیے زیرِ زمین پانی کی ٹینکی بنانا شرعاً جائز نہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما."
(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:350،ط: الرشيدية)
وفيه أيضاً:
"وأما حكمه فعندهما زوال العين عن ملكه إلى الله تعالى وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حكمه صيرورة العين محبوسة على ملكه بحيث لا تقبل النقل عن ملك إلى ملك والتصدق بالغلة المعدومة متى صح الوقف بأن قال: جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:352،ط:الرشيدية)
فتای رشیدیہ میں ہے:
"جو جگہ وقف ہوچکی ہے وہ اب بیع نہیں ہوسکتی."
"جو زمین مسجد کے لئے وقف ہوچکی ہے اس میں مکان بنانایاکھیتی کرنا درست نہیں ہے"
(وقف کے مسائل،ص:434/435،ط:ادارہ اسلامیات لاہور)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100749
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن