
مسجد تکون شکل کی ہو ، امام کے پیچھے مقتدی اس طرح آتے ہیں کہ بائیں طرف 5 ہوں اور دائیں طرف 10آتے ہوں،دوسری صف اور تیسری صف بھی اسی طرح کی ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں اس صف اور اس طرح نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
امام کا صفوں کے بیچ کھڑا ہونا سنت ہے، بلا عذر بیچ سے ہٹ کر، دائیں بائیں کھڑا ہونا خلافِ سنت ہے۔ سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: امام کو درمیان میں (کھڑا) کیا کرو، اور صفوں میں خلا پُر کیا کرو۔
" ...حدثني أبو هريرة قال: قال رسول الله- صلى الله عليه وسلم -: "وسطوا الإمام، وسدوا الخلل."
(سنن ابی داؤد ، باب مقام الإمام من الصف 2/ 18، ط: :دار الرسالة العالمية)
لہذا مسجد میں محراب درمیان میں ہوناچاہیے، تاکہ دونوں طرف صفیں برابررکھنے میں آسانی ہو، لیکن کسی عذرکی وجہ سے محراب وسط ِ مسجدمیں نہ ہوتو ایسی صورت میں اگرامام صف کے درمیان کھڑاہوسکتاہے توصف کے درمیان کھڑاہونا چاہیے اوراگرصف کے درمیان میں کھڑاہونامشکل ہے ،مثلًا مسجد تکون ہو اور امام کے درمیان میں کھڑا ہونے کی وجہ سے جگہ میں تنگی ہوجاتی ہو توپھردائیں اوربائیں کھڑاہوسکتاہے۔ باقی اس سے مقتدیوں کی نماز میں کوئی فرق نہیں آئے گا، ان کی نماز کسی قسم کی کراہت کے بغیر ادا ہوجائے گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وينبغي للإمام أن يقف بإزاء الوسط، فإن وقف في ميمنة الوسط أو في ميسرته فقد أساء لمخالفة السنة. هكذا في التبيين."
( كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم، 1/ 89، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100146
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن