
اگر مسجد کی دیوار کے متصل پہلی اور دوسری صف کے برابر ایک کمرہ بنا ہوا ہو ،اور اس کمرے میں موجود رہتے ہوئےاسپیکر کے ذریعے تین چار لوگ مسجد کی جماعت میں شامل ہوں ، جب کہ اسپیکر کے بغیر کمرے میں آواز جانا ممکن نہ ہو ،نیز اسپیکر بند ہونے کی صورت میں کمرے کے اندر موجود لوگوں پر امام کی حالت مشتبہ ہوجاتی ہو ، کیا اس صورت کمرے میں ہوتے ہوئے مسجد کی جماعت میں شامل ہو کر نماز پڑھنے والوں کی نماز ہو جائے گی؟اگر جماعت درست ہے تو کیا ان کا اس طرح مسجد کی صف کو چھوڑ کر الگ کمرے میں نماز پڑھنا کا رویہ درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا مذکورہ کمرے سے مسجد کی جماعت میں شامل ہونے کی صورت میں شروع ہی سے مسجد کی صفوں سے اتصال نہ ہوتا ہو یا اما م کی آواز بغیر اسپیکر کے نہ سنی جاسکتی ہو ، نہ ہی امام کے ایک رکن سے دوسرے رکن میں جانے کا حال معلوم ہوتا ہو تو اس صورت میں مسجد سے متصل کمرے سے مسجد کی جماعت میں شامل ہوکر باجماعت نماز ادا کرنا درست نہیں ، نیز مذکورہ خرابیوں کے نہ پائے جانے کی صورت میں بھی مسجد کی صفوں کو چھوڑ کر الگ سے ایک کمرہ میں صفیں بنا کر نماز پڑھنے کو معمول بنالینا درست نہیں ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وأما إذا كان بينها حائط فسيأتي أن المعتمد اعتبار الاشتباه لا اتحاد المكان، فيخرج بقوله وعلمه بانتقالاته، وسيأتي تحقيق هذه المسألة بما لا مزيد عليه."
(کتاب الصلاۃ،باب الإمامة، ج:1، ص: 550، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"قوله: وعلمه بانتقالاته) أي بسماع أو رؤية للإمام أو لبعض المقتدين رحمتي وإن لم يتحد المكان."
(کتاب الصلاۃ،باب الإمامة، ج:1، ص: 551، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"واعلم أن شرائط القدوة مفصلة:
الأولى: أن لا يتقدم المأموم على إمامه مع اتحاد الجهة، فإن تقدم مع اختلافها كالتحلق حول الكعبة صح.
الثاني: علمه بانتقالات إمامه برؤية أو سماع، فإن كان بينهما حائل يشتبه عليه انتقالاته لم يصح."
(کتاب الصلاۃ،باب الإمامة،ج:1، ص:365، ط:دار الکتاب الإسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا كان بينهما حائط لا يصح الاقتداء إن كان كبيرا يمنع المقتدي الوصول إلى الإمام لو قصد الوصول إليه اشتبه عليه حال الإمام أو لم يشتبه كذا في الذخيرة ويصح إن كان صغيرا لا يمنع أو كبيرا وله ثقب لا يمنع الوصول وكذا إذا كان الثقب صغيرا يمنع الوصول إليه لكن لا يشتبه عليه حال الإمام سماعا أو رؤية هو الصحيح."
(کتاب الصلاۃ،الباب الخامس فی الإمامة،ج:1، ص:88، ط:رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101017
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن