بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1448ھ 30 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد نبوی میں امام سے آگے نماز کا حکم


سوال

کیا مسجدِ نبوی میں نمازی امام سے آگے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ کیوں کہ وہاں امام تو اندر ہوتا ہے، اور نمازی مسجد کے صحن میں  جماعت کے دوران امام سے آگے صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا یہ نماز ہو جاتی ہے، جبکہ اندر جگہ بھی نہیں ہوتی؟

جواب

واضح رہے کہ  اقتدا  کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی  ہے کہ مقتدی امام سے آگے نہ کھڑا ہو، پس جو مقتدی امام سے آگے ہو تو  اقتدا  ہی صحیح نہیں، اور جب اقتداء ہی درست نہ ہو، تو   نماز بھی نہیں ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ  میں   جو لوگ مسجد نبوی میں امام سے آگے کھڑے ہوکر صف بناتے ہیں، ان کی نماز نہیں ہوگی،اس لیے ان کو چاہیے کہ امام سے پیچھے صف بنائیں، امام سے آگے ہرگز  صف نہ بنائیں۔

المبسوط  للسرخسي میں ہے:

"و إن تقدم المقتدي على الإمام لايصح اقتداؤه به إلا على قول مالك - رحمه الله تعالى -، فإنه يقول الواجب عليه المتابعة في الأفعال فإذا أتى به لم يضره قيامه قدام الإمام). (و لنا) الحديث ليس مع الإمام من يقدمه، و لأنه إذا ‌تقدم ‌على ‌الإمام اشتبه عليه حالة افتتاحه واحتاج إلى النظر وراءه في كل وقت ليقتدي به فلهذا لا يجوز."

 (كتاب الصلوة، باب افتتاح الصلاة، ج:1، ص:43، ط:دار المعرفة - بيروت)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"(أما) شرائط أركان الصلاة...(وأما) شرائط الركن فأنواع...(ومنها) - أن لا يكون ‌المقتدي عند الاقتداء متقدما على إمامه عندنا."

 (كتاب الصلوة، فصل شرائط أركان الصلاة، ج:1، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولو ‌تقدم ‌على ‌الإمام من غير عذر فسدت صلاته. كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصلوة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الأول فيما يفسدهاج؛1، ص:103، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں