
ہم ایک مسجد اور مدرسہ کے منتظمین ہیں اور ہماری مسجد پہلی منزل پر واقع ہے ،جبکہ نیچے مدرسہ ہے ۔ رمضان المبارک میں عرصہ دراز سے ہمارے ہاں تراویح کا نظام اس طرح چلا آرہا ہے کہ مسجد کے مرکزی مصلے پر امام صاحب تقریبا پچیس روزہ تراویح میں مکمل قرآن مجید سناتے ہیں ۔ حدودِ مسجد میں باقاعدہ دوسری تراویح کی جماعت نہیں کرتے ۔ نیچے مدرسہ میں امام صاحب کے ایک بھائی تراویح میں دس روزہ مکمل قرآن مجید سناتے ہیں ۔ مسجد کی پہلی منزل پر جہاں وضو خانہ ہے اس کے اوپر گیلری ہے وہاں مختلف حصوں میں تین چار حفاظ کرام الگ الگ جماعت کر کے مکمل قرآن مجید سناتے ہیں ۔ مزید یہ کہ نیچے مدرسہ میں جب دس روزہ تراویح مکمل ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد ”الم تر “سے تراویح بھی پڑھی جاتی رہی ہے.
اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارے امام صاحب مرحوم اس سال انتقال فرماگئے ہیں ۔ اور اب ان کے صاحبزادے امام ہیں۔ اس سال ہم نے انتظامی امور کو مضبوط کرنے کے لئے مسجد و مدرسہ میں” سورت تراویح “پر پابندی لگائی ہے الا یہ کہ امام صاحب کی تراویح مکمل ہو جائے تو مرکزی مصلے پر ”الم تر “سے تراویح پر پابندی نہیں ہے ۔ باقی پابندی لگانے کی وجہ یہ ہے کہ نیچے مدرسہ میں ”الم تر“ سے تراویح بہت تیزی سے پڑھی جاتی ہے اور اس میں اکثر قرآن مجید کے حروف کی ادائیگی واضح نہیں ہوتی یا تجوید کے اصول متاثر ہوتے ہیں ، کچھ نمازی جلدی فارغ ہونے کے لئے مرکزی مصلیٰ چھوڑ کر ”سورت تراویح“ نیچے مدرسہ میں پڑھتے ہیں، جس سے مرکزی مصلے پر اثر پڑتا ہے ،مسجد اور مدرسہ کے مجموعی نظم و ضبط اور ماحول میں خلل پیدا ہوتا ہے ۔لیکن بعض نمازیوں کی طرف سے چند اعتراضات سامنے آرہے ہیں :
(1) منتظمین کے فیصلے کی وجہ سے ایک جماعت تراویح سے محروم ہو رہی ہے ، کم از کم ”سورت تراویح “سے تراویح تو پڑھ رہی تھی ۔
(2) ”الم تر “سے تراویح پر پابندی سابق امام مرحوم کے زمانہ میں کیوں نہیں لگائی ؟
(3) ”الم تر“ سے تراویح پر پابندی ہے ،تو مسجد و مدرسہ میں صرف امام صاحب تراویح پڑھائیں اور مسجد و مدرسہ میں جتنے حفاظ کرام قرآن سنا رہے ہیں سب پر پابندی لگائی جائے۔
(۱)دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا منتظمین کا ”سورت تراویح “پر نظم وضبط کی خاطر پابندی لگانا جائز ہے ؟ کیونکہ شرعا تو” سورت تراویح “پڑھنا درست ہے، جیسا کہ عرصہ دراز سے” الم تر“ سے تراویح ہوتی رہی ، اور جیسا کہ دیگرمساجد میں مشاہدہ ہوتا رہتا ہے ۔
(۲) کیا منتظمین کو نظم وضبط کے لیے ایسے انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے، جس سے عبادت کو صحیح طریقہ پر ادا کرنا اور نظم کو برقرار رکھنا مقصود ہو؟
(۳) مذکوره اعتراضات کاحکمت کے ساتھ کیا جواب دیا جائے؟ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرما کر ہماری اصلاح فرمائیں تاکہ مسجد و مدرسہ کا نظم وضبط درست اور مضبوط ہو ۔
تراویح کے حوالے سے دو سنتیں ہیں، ایک یہ کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آنے سے لےکر شوال کا چاند نظر آنے تک اہتمام کے ساتھ تراویح ادا کرنا، دوسری یہ کہ تراویح میں ایک مرتبہ مکمل قرآن مجید پڑھنا یا سننا، رہی بات سورت تراویح کی، تو یہ اگرچہ جائز ہے، تاہم جواز کی شرئط میں سے اہم شرط یہ ہے کہ سورة التراویح میں قرآن مجید پڑھتے ہوئےتجویدی اصولوں کی پاسداری کی جائے اور نماز کی دیگر شرائط و آداب کی رعایت رکھی جائے، پس اگر سورت تراویح میں قرآن مجید اس انداز سے پڑھا جا رہا ہو کہ الفاظ میں قطع و برید لازم آتی ہو یا جلدی پڑھنےمیں نماز کے ارکان و آداب کی رعایت نہ رکھی جاتی ہو، تو اس صورت میں سورت تراویح کی اجازت نہیں ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سورت تراویح میں جلدی پڑھنے کی وجہ سے قرآنی حروف میں خلط ہوتا ہو،اور لوگوں کو تراویح سے جلد فارغ کرنا مطلوب ہو، جس کی وجہ سےتراویح تعدیل ارکان کے بغیرجلدی جلدی پڑھی جاتی ہو، تو اس صورت میں مسجد و مدرسہ انتظامیہ سورت تراویح پر اگر پابندی عائد کرتی ہے، تو عند اللہ ماجور ہو گی، تا ہم مدرسہ انتظامیہ مدرسہ کے کسی عالم و قاری صاحب کو سورت تراویح کے لیے مقرر کر دے، جو خوب اہتمام کروائے، تو یہ زیادہ مناسب ہو گا، اور جو لوگ تراویح میں ایک مرتبہ تکمیل قرآن مجید کر چکے ہوں، ان کے لیے با جماعت تراویح ادا کرنا ممکن ہو سکے گا۔
رہی بات مسجد کے مرکزی مصلے پرتراویح جاری ہونے کے دوران دیگر جماعتوں کی، تواگر مسجد میں تراویح کی متعدد جماعتوں کے اہتمام کرنے کی وجہ سے اماموں کی تلاوت میں خلط نہ ہو، تو اس کی اجازت ہو گی، البتہ اگر متعدد جماعتوں کی وجہ سے اشتباہ ہوتا ہو، تو اس صورت میں مسجد میں صرف ایک جماعت ہی کروائی جائے۔نیز مرکزی مصلے پر تراویح جب تک مکمل نہ ہو، تو اس وقت تک مسجد میں سورة التراویح پر اگر انتظامیہ پابندی عائد کرتی ہے، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَرَتِّلْ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً (4) "
ترجمہ:”اور قرآن کو خوب صاف صاف پڑھو (کہ ایک ایک حرف الگ الگ ہو) ۔“(از بیان القرآن)
مشكاة المصابيح ميں هے :
"عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال: خرجت مع عمر بن الخطاب ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر: إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم. قال عمر رضي الله عنه: نعم البدعة هذه والتي تنامون عنها أفضل من التي تقومون. يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله. رواه البخاري."
(باب قيام شهر رمضان ، الفصل الثالث،ج:1، ص:407، ط: المكتب الإسلامي)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وفي المجتبى ويكره تكرارها في مسجد بأذان وإقامة، وعن أبي يوسف إنما يكره تكرارها بقوم كثير أما إذا صلى واحد بواحد واثنين فلا بأس به، وعنه لا بأس به مطلقا إذا صلى في غير مقام الإمام."
(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج:1، ص:376، ط:دار الكتاب الإسلامي)
وفيه ایضاً:
"ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم .... عن أبي يوسف أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره وإلا تكره، وهو الصحيح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة كذا في البزازية انتهى. وفي التتارخانية عن الولوالجية: وبه نأخذ."
(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج: 1، ص: 553، ط:سعيد)
شرح المجلہ میں ہے:
"الضرورات تبيح المحظورات أي أن الاشياء الممنوعة تعامل كالأشياء المباحة وقت الضرورت."
(المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج:1، ص:24، رقم المادۃ:21، ط:رشیدیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"هذرمة القراءة، وترك تعوذ وتسمية، وطمأنينة، وتسبيح، واستراحة (وتكره قاعدا) لزيادة تأكدها، حتى قيل لا تصح (مع القدرة على القيام) كما يكره تأخير القيام إلى ركوع الامام للتشبه بالمنافقين."
(كتاب الصلاة، باب ادراك الفريضة، ص:95، ط:دارالكتب العلمية)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وروي عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا إذا فاتتهم الجماعة صلوا في المسجد فرادى؛ ولأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة؛ لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة فيستعجلون فتكثر الجماعة، وإذا علموا أنها لا تفوتهم يتأخرون فتقل الجماعة، وتقليل الجماعة مكروه"
(كتاب الصلاة، فصل بيان كيفية الاذان، ج:1، ص:153، ط:دار الكتب العلمية)
وفيه ایضاً:
"ومنها أن يقرأ في كل ركعة عشر آيات، كذا روى الحسن عن أبي حنيفة، وقيل: يقرأ فيها كما يقرأ في أخف المكتوبات وهي المغرب، وقيل: يقرأ كما يقرأ في العشاء؛ لأنها تبع للعشاء، وقيل: يقرأ في كل ركعة من عشرين إلى ثلاثين؛ لأنه روي أن عمر - رضي الله عنه - دعا بثلاثة من الأئمة فاستقرأهم وأمر أولهم أن يقرأ في كل ركعة بثلاثين آيةً، وأمر الثاني أن يقرأ في كل ركعة خمسة وعشرين آيةً، وأمر الثالث أن يقرأ في كل ركعة عشرين آيةً، وما قاله أبو حنيفة سنة؛ إذ السنة أن يختم القرآن مرةً في التراويح، و ذلك فيما قاله أبو حنيفة، وما أمر به عمر فهو من باب الفضيلة وهو أن يختم القرآن مرتين أو ثلاثًا وهذا في زمانهم"
(كتاب الصلاة، فصل في سنن صلاة التراويح،ج:1، ص:289، ط:دار الکتب العلمیة)
امداد الفتاویٰ میں ہے:
”ایک مسجد میں متعد د تراویح کا حکم
ســــوال (۴۰۴): قدیم ۴۶۹/۱- ایک جامع مسجد کہ جس کا طول ۲۸ گز اور عرض ۲۱ گز ہے اگر چاہیں کہ قرآن شریف دو جگہ مسجد مذکور میں دو حافظ بیچ تراویح کے پڑھیں اور درمیان میں کوئی آڑر روک ایسی کر دی جائے کہ ایک دوسرے کی آواز سے حرج واقع نہ ہو، آیا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب : ایک مسجد میں دو جگہ تراویح پڑھنا بشر طیکہ از راہ نفسانیت نہ ہو اور ایک کا دوسرے سے حرج نہ ہو جائز ہے مگر افضل یہی ہے کہ ایک ہی امام کے ساتھ سب پڑھیں۔“
(کتاب الصلاۃ، باب التراویح، ج:2، ص:327،،ط:رشیدیہ جدید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعت ، یا دو اماموں کا ملکر تراویح پڑھانا
سوال (۳۳۸۴] : ایک متوسط جامع مسجد جس میں دو حصے ہیں اوپر، نیچے، تو رمضان المبارک میں اوپر نیچے دونوں جگہ تراویح ہوسکتی ہے یعنی ہر حصہ کے علیحدہ امام ہیں دونوں ایک ہی مکتبہ فکر کے ہیں۔ تو ایسی صورت میں کیا اجازت ہے جب کہ نیچے بہت جگہ ہے اور دونوں حافظوں کا کوئی سامع نہیں ہے، تو یہ صورت مناسب ہے کہ ایک حافظ پڑھے اور دوسر ا سنے، یا یہ صورت بہتر ہے کہ اوپر نیچے تراویح علیحدہ علیحدہ ہو جائے؟
الجواب حامداومصلياً:
تراویح دو جگہ بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ آوازوں میں ٹکراؤ نہ ہو، مگر اچھا یہی ہے کہ امام کے پیچھے سب پڑھیں اور دوسرے حافظ سامع کی حیثیت سے پیچھے رہیں۔ تا کہ اگر لقمہ دینے کی ضرورت پیش آئے تو آسانی رہے۔ پھر چاہیں ایسا کریں کہ ایک شب ایک امام صاحب تراویح پڑھائیں اور دوسری شب دوسرے امام صاحب تراویح پڑھائیں، یا ۸ رکعت ایک امام صاحب پڑھائیں اور بارہ رکعت دوسرے امام صاحب پڑھائیں تا کہ دونوں کو سنانے کا موقع مل جائے اور جماعت بھی ایک ہی رہے ، حرم شریف میں ایسا ہی کرتے
ہیں کہ دو امام پڑھاتے ہیں :وفي الخلاصة: "إذا صلى التراويح الواحد إمامان كلُّ إمام ركعتين، اختلف المشايخ، والصحيح أنه لا يستحب، لكن كل ترويحة يؤديها إمام واحد“ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(کتاب الصلاۃ، باب التراویح، ج:7، ص:273،،ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102171
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن