
ایک مسجد میں یہ حدیث لکھی ہوئی تھی: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جوتے زمین پر آہستہ رکھیں“ کیا یہ حدیث درست ہے؟ اس کا کوئی ثبوت ہے ؟یا اس معنی کے قریب کسی حدیث کا ثبوت ہے؟ یا پھر یہ حدیث موضوع ہے؟
سوال میں ذکر کی گئی روایت ہمیں کافی تلاش کے باوجود معتبر کتُبِ حدیث میں نہیں مل سکی، البتہ اس سے قریب مفہوم کی دو روایات ایک ”صحیح مسلم“ میں، اور دوسری ”صحیح بخاری“، ”موطا امام مالک“، ”مسند احمد“،اور ”سنن نسائی“ میں ملی ہے، کہ جس میں مسجد کے آداب بیان ہوئے ہیں کہ مسجد میں وقار اور سکون سے چلنا چاہیے،اور مسجد کو ہر قسم کی گندگی سے پاک رکھنا ہے، نیز رکعت چلی جانے کی فکر میں دوڑ نا بھاگنا یا کوئی بھی ایسا عمل کرنا جس سے مسجد کی بے ادبی ہو ، اس سے منع کیا گیا ہے، چناں چہ اس حدیث کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہوگا کہ جوتےپھینکے نہ جائیں بلکہ آہستہ سے رکھے جائیں،اس لیے کہ جوتے پھینکنا جس سے آواز بھی پیدا ہو، وقار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ ذیل میں مذکورہ روایات ”صحیح مسلم“ اور ”صحیح بخاری“ کے حوالہ سے ترجمہ کے ساتھ ذکر کی جاتی ہیں۔
صحیح مسلم میں ہے:
"حدثنا زهير بن حرب، حدثنا عمر بن يونس الحنفي، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا إسحاق بن أبي طلحة، حدثني أنس بن مالك، وهو عم إسحاق، قال: بينما نحن في المسجد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء أعرابي، فقام يبول في المسجد، فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه مه. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تزرموه، دعوه، فتركوه حتى بال، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاه، فقال له: إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول ولا القذر، إنما هي لذكر الله عز وجل والصلاة وقراءة القرآن، أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فأمر رجلا من القوم فجاء بدلو من ماء فشنه عليه."
ترجمہ: ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھے کہ ایک دیہاتی (اعرابی) آیا اور مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے روکنے کے لیے شور کرنے لگے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نہ روکو، چھوڑ دو، جب وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی سے سمجھایا:یہ مسجدیں گندگی یا پیشاب کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ پانی کا ڈول لا کر اس جگہ بہا دیں۔“
(كتاب الطهارة، باب وجوب غسل البول وغيره من النجاسات، 1/ 163، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)
بخاری شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا سمعتم الإقامة فامشوا إلى الصلاة، وعليكم بالسكينة والوقار، ولا تسرعوا، فما أدركتم فصلوا، وما فاتكم فأتموا."
ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اقامت سنو تو نماز کی طرف سکون اور وقار سے چلو، جلدی نہ کرو، جو نماز پا لو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے وہ مکمل کر لو۔“
(كتاب الأذان، باب: لا يسعى إلى الصلاة وليأت بالسكينة والوقار، 1/ 129، ط: دار طوق النجاة)
حدیثِ بالا کی تشریح میں عمدۃ القاری میں ہے:
وفيه: استحباب الدخول مع الإمام في أي: حالة وجده عليها. وفيه: الحث على التأني والوقار عند الذهاب إلى الصلاة."
(كتاب المواقيت الصلاة، باب لا يسعى إلى الصلاة وليأت بالسكينة والوقار، 5/ 152، ط: دار إحياء التراث العربي)
ارشاد الساری میں ہے:
"(وعليكم بالسكينة) أي بالتأني في الحركات واجتناب العبث (والوقار) في الهيئة: كغض البصر، وخفض الصوت، وعدم الالتفات، أو الكلمتان بمعنى واحد، والثاني تأكيد للأول."
(كتاب الصلاة، باب: ما أدركتم فصلوا، وما فاتكم فأتموا، 2/ 279، ط: مكتبة الرشد، الرياض)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ذكر الفقيه - رحمه الله تعالى - في التنبيه حرمة المسجد خمسة عشر ... والثاني عشر أن لا يبزق فيه. والثالث عشر أن لا يفرقع أصابعه فيه. والرابع عشر أن ينزهه عن النجاسات والصبيان والمجانين وإقامة الحدود. والخامس عشر أن يكثر فيه ذكر الله تعالى، كذا في الغرائب."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة، 5/ 321، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100757
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن