بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بیٹھے ہوئےشخص پر حی علی الصلاۃ و حی علی الفلاح کے جواب میں یہی الفاظ دہرانا ضروری ہے یا حوقلہ؟


سوال

میں نے سنا ہے  کہ بندہ جب مسجد کے اندر ہو ،اور اذان ہوجائے تو "حی علی  الصلوۃ "اور "حی علی الفلاح" کے جواب میں یہی الفاظ دہرانے چاہئیں  نہ کہ " لاحول ولاقوۃ الا باللہ ۔ "  ۔

کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب

اذان سننے پر سامع پر  دوقسم کے جوابات دینا ہوتے ہیں :ایک عملی کہ نماز کےلیے مسجدروانہ ہوجائےجوکہ واجب ہے، اوردوسراقولی کہ اذان کے کلمات دہرائے جوکہ مستحب ہے۔

جوشخص مسجد میں پہلے سےموجودہےتوعملی جواب اس کے ذمے ہے ہی نہیں ،البتہ قولی جواب کااستحباب اب بھی رہے گا،البتہ اذان  کو سننے والا گھر میں ہو یا مسجد میں اس کے لیے زبان سے اذان کا جواب دینا مستحب ہے،  اس کا طریقہ یہ ہے کہ  جو الفاظ مؤذن ادا کرے  وہی سننے والا دہرائے، البتہ ’’حي علی الصلاة‘‘ اور ’’حي علی الفلاح‘‘ کے جواب میں ”لاحول ولا قوة إلا بالله“ کہے۔

بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ  ’’حي علی الصلاة‘‘ اور ’’حي علی الفلاح‘‘کے جواب میں  ان الفاظ کو بھی دہرائے اور  ”لاحول ولا قوة إلا بالله“ بھی کہے، یہ زیادہ بہتر ہے۔

لہذا مسئولہ صورت میں  "حی علی الصلاۃ" و حی علی الفلاح" کے جواب میں یہی الفاظ بھی دہرائے جائیں،اور ساتھ حوقلہ یعنی لا حول ولاقوۃ الا باللہ... بھی پڑھاجائے۔

یہ حکم مسجد کے اندر موجود اور باہر والے افراد، دونوں کے لیے یکساں ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويجيب) وجوبا، وقال الحلواني ندبا، والواجب الإجابة بالقدم (من سمع الأذان).....بأن يقول) بلسانه (كمقالته) إن سمع المسنون منه"

(قوله: فيحوقل) أي يقول " لا حول ولا قوة إلا بالله " وزاد في عمدة المفتي " ما شاء الله كان " وخير بينهما في الكافي. وفصل في المحيط بأن يأتي بالحوقلة مكان الصلاة، وبالمشيئة مكان الفلاح إسماعيل والمختار الأول نوح أفندي. ثم إن الإتيان بالحوقلة وإن خالف ظاهر قوله عليه الصلاة والسلام «فقولوا مثل ما يقول» لكنه ورد فيه حديث مفسر لذلك رواه مسلم، واختار في الفتح الجمع بينهما عملا بالأحاديث، قال: فإنه ورد في بعضها صريحا «إذا قال حي على الصلاة قال حي على الصلاة إلخ» وقولهم إنه يشبه الاستهزاء لا يتم، إذ لا مانع من اعتباره مجيبا بهما داعيا نفسه مخاطبا لها، وقد رأينا من مشايخ السلوك من كان يجمع بينهما فيدعو نفسه ثم يتبرأ من الحول والقوة ليعمل بالحديثين، وقد أطال في ذلك وأقره في البحر والنهر وغيرهما. قلت: وهو مذهب سلطان العارفين سيدي محيي الدين نص عليه في الفتوحات المكية"

(کتاب الصلاۃ، باب الاذان، ج:1، ص:397، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100708

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں