
مسجد میں محراب بنانا کیسا ہے؟ محراب کی اصل شکل کیا ہے؟ قرآن مجید میں جس محراب کا ذکر ہے وہ کیسا تھا؟ کیا وہی محراب ہے جو مسجد میں بنایا جاتا ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔
واضح رہے کہ مسجد کے مسجد ہونے کے لیے کوئی مخصوص شکل و وضع لازم نہیں کی گئی، لیکن چند چیزیں مسجد کی مخصوص علامت کی حیثیت میں معروف ہیں، ایک ان میں سے مسجد کی محراب ہے، جو قبلہ کا رُخ متعین کرنے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔
حافظ بدرالدین عینی رحمہ اللہ "عمدۃ القاری "میں لکھتے ہیں:
"ذکر أبوالبقاء أن جبریل علیه الصلاة والسلام وضع محراب رسول الله صلی الله علیه وسلم مسامة الکعبة، وقیل: کان ذلك بالمعاینة بأن کشف الحال وأزیلت الحوائل فرأی رسول الله صلی الله علیه وسلم الکعبة فوضع قبلة مسجده علیها."
(کتاب الصلوۃ , باب فضل استقبال القبلة جلد 4 ص: 126 ط: دار احیاء التراث العربي)
ترجمہ:…"اور ابوالبقاء نے ذکر کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے کعبہ کی سیدھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محراب بنائی اور کہا گیا ہے کہ یہ معائنہ کے ذریعہ ہوا، یعنی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹادیے گئے اور صحیح حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف ہوگیا، پس آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر اپنی مسجد کا قبلہ رُخ متعین کیا۔"
اس سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں:
اوّل یہ کہ محراب کی ضرورت تعینِ قبلہ کے لیے ہے، تاکہ محراب کو دیکھ کر نمازی اپنا قبلہ رُخ متعین کرسکے۔
دوم یہ کہ جب سے مسجدِ نبوی کی تعمیر ہوئی، اسی وقت سے محراب کا نشان بھی لگادیا گیا، خواہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کی نشان دہی کی ہو، یا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ کشفِ وحی خود ہی تجویز فرمائی ہو۔
البتہ یہ جوف دار (نصف گنبد یا گنبد نما) محراب جو آج کل مساجد میں ”قبلہ رُخ“ ہوا کرتی ہے، اس کی ابتدا خلیفہٴ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس وقت کی تھی جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے، (وفاء الوفاء ص:۵۲۵ وما بعد) یہ صحابہ وتابعین کا دور تھا، اور اس وقت سے آج تک مسجد میں محراب بنانا مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"وفي فتاوى قاضي خان: وجهة الكعبة تعرف بالدليل، والدليل في الأمصار والقرى المحاريب التي نصبها الصحابة والتابعون رضي الله عنهم أجمعين فعلينا اتباعهم في استقبال المحاريب المنصوبة."
(کتاب الصلوۃ , باب شروط الصلوۃ جلد 1 ص: 300 ط: دارالکتاب الاسلامي)
ترجمہ:…"اور قبلہ کا رُخ کسی علامت سے معلوم ہوسکتا ہے، اور شہروں اور آبادیوں میں قبلہ کی علامت وہ محرابیں ہیں جو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین نے بنائیں، پس بنی ہوئی محرابوں میں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔"
یعنی یہ محرابیں، جو مسلمانوں کی مسجدوں میں صحابہ و تابعینؒ کے زمانے سے چلی آتی ہیں، دراصل قبلہ کا رُخ متعین کرنے کے لیے ہیں، اور اُوپر گزر چکا ہے کہ استقبالِ قبلہ ملتِ اسلامیہ کا شعار ہے، اور محراب جہتِ قبلہ کی علامت کے طور پر مسجد کا شعار ہے، اور اس سے امام کا وسط میں کھڑا ہونے اور صفوں کا درمیان بھی معلوم ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں کل پانچ جگہ محراب کا ذکرہے،لیکن ان تمام جگہوں پر اس سے موجودہ شکل میں جو محراب ہے یہ مراد نہیں،بلکہ اس سے مراد عبادت گاہ،حجرہ،عمدہ مکان ہے،ذیل میں تفسیری حوالاجات سمیت ان پانچ جگہوں کو ذکر کیاجاتاہے۔
(1)سورۃ آل عمران،آیت نمبر37
روح المعانی میں ہے:
" كلما دخل عليها زكريا المحراب بيان لقبولها ولهذا لم يعطف، والمحراب على ما روي عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما غرفة بنيت لها في بيت المقدس وجعل بابها في وسط الحائط وكانت لا يصعد عليها إلا بسلم مثل باب الكعبة."
(سورۃ آل عمران،آیت نمبر:37،ج:2،ص: 134،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
تفسیر کبیر میں ہے:
"ثم قال الله: كلما دخل عليها زكريا المحراب وجد عندها رزقا وفيه مسائل:المسألة الأولى: المحراب الموضع العالي الشريف، قال عمر بن أبي ربيعة:ربة محراب إذا جئتها … لم أدن حتى أرتقي سلما واحتج الأصمعي على أن المحراب هو الغرفة بقوله تعالى: إذ تسوروا المحراب [ص: 21] والتسور لا يكون إلا من علو، وقيل: المحراب أشرف المجالس وأرفعها، يروى أنها لما صارت شابة بنى زكريا عليه السلام لها غرفة في المسجد، وجعل بابها في وسطه لا يصعد إليه إلا بسلم، وكان إذا خرج أغلق عليها سبعة أبواب."
(سورۃ آل عمران،آیت نمبر:37،ج:8،ص: 206،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں:
"جب کبھی (حضرت) زکریا (علیہ السلام) ان کے پاس (اسی عمدہ مکان میں (جس میں اُن کو رکھا تھا، تشریف لاتے تو ان کے پاس کچھ کھانے پینے کی چیزیں پاتے"
(سورۃ آل عمران،آیت نمبر:37)
(2)سورۃ آل عمران،آیت نمبر:39
روح المعانی میں ہے:
"وأخرج ابن المنذر عن ثابت قال: الصلاة خدمة الله تعالى في الأرض ولو علم الله تعالى شيئا أفضل من الصلاة ما قال: فنادته الملائكة وهو قائم يصلي، وقيل: المراد بها الدعاء والأول يدل على مشروعية الصلاة في شريعتهم في المحراب أي في المسجد، أو في موقف الإمام منه، أو في غرفة مريم."
(سورۃ آل عمران،آیت نمبر:39،ج:2،ص: 140،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
تفسیر کبیر میں ہے:
"أما قوله وهو قائم يصلي في المحراب فهو يدل على أن الصلاة كانت مشروعة في دينهم، والمحراب قد ذكرنا معناه."
(سورۃ آل عمران،آیت نمبر:39،ج:8،ص: 210،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں:
"(فَنَادَتْهُ الْمَلَيلَةُ وَهُوَ قَائِمُ يُصَلِّى فِي الْمِحْرَابِ)پھر اس کو آواز دی فرشتوں نے جب وہ کھڑے تھے نماز میں حجرے کے اندر"
(سورۃ آل عمران،آیت نمبر:39)
(3)سورۃ مریم،آیت نمبر:11
روح المعانی میں ہے:
"فخرج على قومه من المحراب أي من المصلى كما روي عن ابن زيد أو من الغرفة كما قيل،وأصل المحراب كما قال الطبرسي: مجلس الأشراف الذي يحارب دونه ذبا عن أهله، ويسمى محل العبادة محرابا لما أن العابد كالمحارب للشيطان فيه، وإطلاق المحراب على المعروف اليوم في المساجد لذلك وهو محدث لم يكن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقد ألف الجلال السيوطي في ذلك رسالة صغيرة سماها إعلام الأريب بحدوث بدعة المحاريب."
(سورۃ مریم،آیت نمبر:11،ج:8،ص: 390،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
تفسیر کبیر میں ہے:
"المسألة الأولى: قوله تعالى: فخرج على قومه من المحراب قيل كان له موضع ينفرد فيه بالصلاة والعبادة ثم ينتقل إلى قومه فعند ذلك أوحى إليهم، وقيل: كان موضعا يصلي فيه هو وغيره إلا أنهم كانوا لا يدخلونه للصلاة إلا بإذنه وأنهم اجتمعوا ينتظرون خروجه للإذن فخرج إليهم وهو لا يتكلم فأوحى إليهم."
(سورۃ مریم،آیت نمبر:11،ج:21،ص: 515،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں:
"پس حجرے میں سے اپنی قوم کے کے پاس بر آمد ہوئے"
(سورۃ مریم،آیت نمبر:11)
(4)سورۃ سبا،آیت نمبر:13
روح المعانی میں ہے:
"يعملون له ما يشاء من محاريب جمع محراب وهو كما قال عطية القصر، وسمي باسم صاحبه لأنه يحارب غيره في حمايته، فإن المحراب في الأصل من صيغ المبالغة اسم لمن يكثر الحرب وليس منقولا من اسم الآلة وإن جوزه بعضهم، ولابن حيوس:جمع الشجاعة والخشوع لربه … ما أحسن المحراب في محرابه
ويطلق على المكان المعروف الذي يقف بحذائه الإمام، وهو مما أحدث في المساجد ولم يكن في الصدر الأول كما قال السيوطي وألف في ذلك رسالة ولذا كره الفقهاء الوقوف في داخله."
(سورۃ سبا،آیت نمبر:13،ج:11،ص: 293،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
تفسیر کبیر میں ہے:
"يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب وقدور راسيات اعملوا آل داود شكرا وقليل من عبادي الشكور (13)المحاريب إشارة إلى الأبنية الرفيعة ولهذا قال تعالى: إذ تسوروا المحراب [ص: 21]"
(سورۃ سبا،آیت نمبر:13،ج:25،ص: 198،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں:
" محاریب ، محراب کی جمع ہے جو مکان کے اشرف و اعلیٰ حصہ کو کے لئے بولا جاتا ہے ، بادشاہ اور بڑے لوگ جو اپنے لئے حکومت کا کمرہ بنائیں اس کو بھی محراب کہا جاتا ہے ۔ اور لفظ محراب حرب بمعنی جنگ سے مشتق ہے، کوئی آدمی جو اپنا حکومت کدہ خاص بناتا ہے اس کو دوسروں کی رسائی سے محفوظ رکھتا ہے، اس میں کوئی دست اندازی کرے تو اس کے خلاف لڑائی کرتا ہے ۔ اس مناسبت سے مکان کے مخصوص حصہ کو محراب کہتے ہیں۔ مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو بھی اسی امتیازکی بناء پر محراب کہتے ہیں ، اور کبھی خود مساجد کو محاریب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتاہے۔"
(سورۃ سبا،آیت نمبر:13)
(5)سورۃ ص،آیت نمبر:21
روح المعانی میں ہے:
"إذ تسوروا المحراب أي علوا سوره ونزلوا إليه فتفعل للعلو على أصله نحو تسنم الجمل أي علا سنامه وتذرى الجبل علا ذروته، والسور الجدار المحيط بالمرتفع، والمحراب الغرفة وهي العلية ومحراب المسجد مأخوذ منه لانفصاله عما عداه أو لشرفة المنزل منزلة علوه قاله الخفاجي"
(سورۃ ص،آیت نمبر:11،ج:12،ص: 171،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
تفسیر کبیر میں ہے:
"وأما المحراب فالمراد منه البيت الذي كان داود يدخل فيه ويشتغل بطاعة ربه، وسمي ذلك البيت بالمحراب لاشتماله على المحراب، كما يسمى الشيء بأشرف أجزائه."
(سورۃ ص:آیت نمبر:21،ج:26،ص: 382،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں:
"اذ تسور والمحراب - (جب وہ محراب کی دیوار پھاند کر داخل ہوئے) محراب در اصل بالا خانے یا کسی مکان کے سامنے کے حصہ کو کہتے ہیں۔ پھر خاص طور سے مسجد یا عبادت خانے کے سامنے کے حصہ کو کہا جانے لگا۔ قرآن کریم میں یہ لفظ عبادت گاہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علامہ سیوطی رو نے لکھا ہے کہ مسجد کے دائرہ نما محرابیں جیسی آجکل معروف ہیں، یہ عہد نبوی میں موجود نہیں تھیں (روح المعانی) ۔"
(سورۃ ص،آیت نمبر:21)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144409101252
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن