بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بھیک مانگنا شریعت میں منع ہے


سوال

ایک مسجد میں پرچہ پر  تحریر کیا ہوا لگا ہے کہ ’’مسجد میں بھیگ مانگنا شریعت میں منع ہے‘‘،اس کا صحیح شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

یہ بات صحیح ہے کہ  ’’مسجد میں بھیک مانگنا شریعت میں منع ہے‘‘،لہذا مسجد میں اس جملہ  کو کسی پرچہ پر لکھ کر  لگانا درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"ويحرم فيه السؤال، ويكره الإعطاء مطلقا، وقيل إن تخطى."

(‌‌کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها1/ 659،ط:سعید)

’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں ہے:

’’سوال:اکثر مساجد میں بعد نماز گداگر اپنی مختلف مجبوریاں بیان کرتے ہیں اور پھر امداد کے طلب گار ہوتے ہیں،معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا مساجد میں اپنے لئے سوال کرنا اور نمازیوں کاسائل کی مدد کرنا کہاں تک مناسب ہے یا نامناسب ہے؟

جواب:مسجد میں بھیک مانگنا ممنوع ہے ،ایسے لوگوں کو مسجد سے باہر کھڑے ہونا چاہئےاور مسجد میں مانگنے والوں کو دینا بھی نہیں چاہئے،لیکن اگر کسی ضرورت مند کی امداد کے لئے دوسرا آدمی اپیل کرے تو یہ جائز ہے۔‘‘

(ج:3،ص:259،ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102142

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں