بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بچوں کے آنے پر پابندی لگانا


سوال

میں ایک فوجی کالونی کا رہائشی ہوں، آج نماز کے دوران ایک بچہ صف میں دوڑ پڑا، نماز کے بعد ایک صاحب، جو کالونی کے صدر ہیں، نے کالونی میں حکم لکھ کے چسپاں کیا کہ بچوں کی مسجد میں پابندی ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شریعتِ  مطہرہ  کاخاص امتیاز  ہے کہ اس نے احکامات میں فوائد  کی بھی  رعایت  رکھی ہے اور نقصانات  سے  بچنے کابھی اہتما م کیا ہے،  شریعت کی تعلیمات افراط وتفریط سے پاک اعتدال پر مبنی  ہیں، پس بچوں کو مسجد میں لانے میں جہاں شوروشغب یاعبادات میں خلل، یا کم عمری کی وجہ سے مسجد میں ناپاکی و گندگی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، وہیں  بچوں کواپنےساتھ  مسجد لانے میں بچوں کی تربیت بھی ہوتی ہے ابتدا  ہی سے ان کی مسجد میں آکر نماز پڑھنے کی عادت بنتی ہے، مسجد کا احترام پیدا ہوتا ہے، ان کو ابتداء سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد شعائراللہ میں داخل ہے، اس لیے اس کا تقدس واحترام بھی لازم ہے، اور وہاں ہر قسم کا شور شغب ، بلکہ دنیاوی باتیں کرنا بھی منع ہے۔

احادیثِ  مبارکہ ، شراحِ  حدیث اور فقہاءِ کرام کی عبارات سے  واضح ہوتا ہے کہ   بچوں کو مسجد میں لانے یا نہ لانے سے متعلق حکم میں  بچوں کی  چند اقسام ہیں:

1۔ جوبچے اتنے ناسمجھ اور کم عمر ہوں کہ انہیں پاکی وناپاکی،اور مسجد اورغیرمسجد کا بالکل شعور نہ ہو اور ان سے مسجد ناپاک ہوجانے کا غالب گمان ہو توا نہیں مسجد میں لانا بالکل جائز نہیں ہے، اس لیے کہ مسجد کو پاک کرنے کا حکم ہے  اور اس میں گندگی ، شوروشغب کرنا منع ہے، اس قسم کے بچوں سے متعلق احادیثِ  مبارکہ میں ہے کہ:

اپنی مسجدوں کوبچوں اور پاگلوں سے دوررکھو۔۔۔الخ

2۔ جو بچے قریب البلوغ ہوں ان کو مسجد میں لانے کا اہتمام کرنا چاہیے؛ تاکہ ان میں مسجد میں آنے کی اور نماز باجماعت پڑھنے کی عادت پیدا ہو، اسلام کےابتدائی دور سے اب تک ایسے بچے  بلانکیر مسجد میں آتے رہے ہیں۔

3۔ جو  بچے قریب البلوغ  نہ ہوں، لیکن ان  سے مسجد کے گندے ہونے کا  ڈر نہ ہو  اور  وہ   باشعور اور سمجھ دار ہوں ،   مسجد کا احترام ملحوظ رکھتے ہوں تو انہیں مسجد میں لانا بلا کراہت جائز ہے، بلکہ نماز کی عادت ڈالنے کے لیے انہیں مسجد میں لانا چاہیے، البتہ ان کی نگرانی سرپرستوں کو کرنی چاہیے، اور انہیں اپنے ساتھ نماز میں کھڑا رکھنا چاہیے۔

4۔ جو   بچے  قریب  البلوغ  نہ  ہوں، اور   ان  سے مسجد کے گندے ہونے کا ڈر بھی نہ ہو، اور وہ تھوڑی بہت سمجھ رکھتے ہیں ، لیکن وہ باشعور اور سمجھ دار نہ ہوں، مسجد کے احترام کو  نہ جانتے ہوں  اور گھر والوں نے ان کی ایسی تربیت بھی نہ  کی ہو کہ وہ مسجد میں شرارتوں سے باز آجائیں تو  ایسے بچوں کو مسجد میں لانا درست تو ہے، لیکن کراہت سے خالی نہیں، اس لیے بہتر یہ ہے ایسے بچوں کو بھی مسجد نہ لایا جائے؛ کیوں کہ ان کی شرارتوں سے مسجد کا ادب واحترام باقی نہیں رہے گا، دوسرے نمازیوں کی نماز میں بھی خلل پیدا ہو اور خود سرپرست کوبھی عبادت میں اطمینانِ قلب نہیں رہے گا۔

5۔ وہ بچے جو تھوڑی بہت سمجھ  رکھتے ہیں اور  ان سے مسجد کی بے حرمتی اور  ناپاک ہونے کا قوی اندیشہ نہ ہو،  لیکن وہ باشعور اور سمجھ دار نہ ہوں،  البتہ  ان کے گھر والوں نے ان کی ایسی تربیت کی ہو کہ وہ مسجد کا احترام کرتے ہوں تو ان کو  بھی مسجد میں لانا منع نہیں ہے۔

عہدِ نبوی  میں جہاں بچوں اور پاگلوں کو مسجد  سے  دور  رکھنے کا حکم دیا گیا، وہیں خود حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما  کا مسجد میں آنا اور نماز کے دوران آپ   کی کمر پر سوار ہوجانا بھی منقول ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  ہم آپکے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپسجدہ میں تشریف لے گیے تو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپکی کمر پر چڑھ گئے، پھر جب آپ  سجدہ سے سرمبارک اٹھانے لگے تو انتہائی محبت سے اور آہستہ سے انہیں کمر سے ہٹا کر زمین پر رکھا ۔۔۔ الخ، اسی طرح آپ   کی نواسی حضرت امامہ بنت ابو العاص بھی نماز میں آپکے کندھے پر چڑھ جاتی تھیں، نیز ایک حدیث میں ہے  کہ : اللہ کے رسول  کا ارشاد ہے کہ میں بسا اوقات  نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو   نماز میں تخفیف کردیتا ہوں؛ تاکہ کہیں اس کی ماں پریشانی میں مبتلا نہ ہوجائے۔

ان  سب  روایات  سے  معلوم  ہوتا ہے کہ مطلقًا  بچوں کو مسجد میں لانا منع نہیں ہے؛ بلکہ ممانعت وہاں ہے  جہاں مسجد کی تلویث کا اندیشہ ہو۔

اصلًا بچوں کو مسجد میں لانے سے متعلق بچوں کی پانچ اقسام کا ذکر ماقبل میں ہوا، باقی جہاں تک عمر کا تعلق ہے کہ کس عمر کے بچوں کو مسجد میں لانا چاہیے تو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے ، سات سال کے  بچے  اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ان سے تلویث مسجد کا اندیشہ نہیں ہوتا اور والدین اگر ان کی تربیت کریں تو وہ مسجد کے احترام کو بھی سمجھنے  لگتے  ہیں۔

 اس کی تائید  اس سے ہوتی ہے کہ آپ   نے والدین کو  اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ  سات سال کی عمر کے بچوں کو نماز کا حکم دیں، تاکہ ان میں نماز کی عادت پیدا ہو، جب کہ نماز کا مسجد سے رشتہ لازم ملزوم کا سا ہے،اور  نماز باجماعت کی تاکید کئی احادیث میں خود بیان ہوئی ہے، پس جہاں  سات  سال  کی عمر میں بچوں کو نماز کی عادت ڈالنی چاہیے ، وہاں انہیں مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کی بھی عادت ڈالنی چاہیے۔

نیز فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد لڑکا سات  سال کی عمر تک والدہ  کی پرورش میں رہے گا، اور سات سال کے بعد والد اس کی پرورش کا حق دار ہوگا ، اس کی علت یہ ذکر کی ہے  کہ سات سال کی عمر تک عام طور پر  بچہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ ماں سے مستغنی ہوجاتا ہے، خود کپڑے پہن  سکتا ہے، کھا، پی سکتا ہے،  خود استنجا  کرسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس عمر کے بچوں میں اس قدر شعور ہوتا ہے کہ اس سے تلویثِ مسجد کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

ہمارےمعاشرے میں ددنوں طرف بے اعتدالیاں ہیں، افراط اور تفریط سے بچتے ہوئے دونوں طرف اعتدال کی ضرورت ہے، والدین کو چاہیے کہ بالکل ناسمجھ بچوں کو مسجد نہ لائیں، اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ مسجد کے تقدس اور احترام کو سمجھ  سکیں، اور مسجد میں  لانے کے بعد بچوں کی نگرانی بھی کریں، اور اپنے ساتھ صف میں کھڑا کریں، کیوں کہ اگر  بچہ ہو تو اس کو مردوں کی صف کے درمیان کھڑے ہونے کی بھی گنجائش ہے؛تاکہ وہ شرارتیں نہ کرسکے۔ نیز دوسری طرف اگر بچہ کبھی شرارت کرلے تو دیگر نمازیوں کو چاہیے کہ وہ انہیں پیار ومحبت سے سمجھائیں، انہیں مسجد کی اہمیت بتلائیں، انہیں اس طرح نہ جھڑکیں کہ وہ  بلکل مسجد آنا ہی  چھوڑ دے،  بچوں سے شرارتوں کا وقوع فطری  ہے، اس لیے اسے نظر انداز کرکے حکمت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔؛لہذا صورت مسئولہ میں  کمیٹی کے صدر کا مطلقا مسجد میں بچوں کے آنے پر پابندی لگانا درست نہیں ہے کمیٹی کو چاہیے کہ وہ اعتدال سے کام لے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن واثلة بن الأسقع، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم، ومجانينكم، وشراءكم، وبيعكم، وخصوماتكم، ورفع أصواتكم، وإقامة حدودكم، وسل سيوفكم، واتخذوا على أبوابها المطاهر، وجمروها في الجمع»"

(کتاب المساجد و الجماعات ، باب مایکرہ فی المسجد ج: 1، ص: 247، ط: دار إحياء الکتب العربیة)

فیض القدیر میں ہے:

"(جنبوا مساجدنا) وفي رواية مساجدكم (صبيانكم) أراد به هنا ما يشمل الذكور والإناث (ومجانينكم) فيكره إدخالهما تنزيها إن أمن تنجيسهم للمسجد وتحريما إن لم يؤمن."

(حرف الجیم، ج: 3، ص: 351، ط: المکتبة  التجاریة الکبري)

نیل الاَوطار میں ہے:

"(وعن أبي هريرة قال: «كنا نصلي مع النبي - صلى الله عليه وسلم - العشاء، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره فإذا رفع رأسه أخذهما من خلفه أخذا رفيقا ووضعهما على الأرض، فإذا عاد عادا حتى قضى صلاته، ثم أقعد أحدهما على فخذيه، قال: فقمت إليه، فقلت: يا رسول الله أردهما فبرقت برقة، فقال لهما: الحقا بأمكما فمكث ضوؤها حتى دخلا» . رواه أحمد) . الحديث أخرجه أيضا ابن عساكر وفي إسناد أحمد كامل بن العلاء وفيه مقال معروف، وهو يدل على أن مثل هذا الفعل الذي وقع منه - صلى الله عليه وسلم - غير مفسد للصلاة.

وفيه التصريح بأن ذلك كان في الفريضة، وقد تقدم الكلام في شرح الحديث الذي قبل هذا.

وفيه جواز إدخال الصبيان المساجد. وقد أخرج الطبراني من حديث معاذ بن جبل قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «جنبوا مساجدكم صبيانكم وخصوماتكم وحدودكم وشراءكم وبيعكم وجمروها يوم جمعكم واجعلوا على أبوابها مطاهركم» ولكن الراوي له عن معاذ مكحول وهو لم يسمع منه، وأخرج ابن ماجه من حديث واثلة بن الأسقع أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراءكم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم واتخذوا على أبوابها المطاهر وجمروها في الجمع» وفي إسناده الحارث بن شهاب وهو ضعيف. وقد عارض هذين الحديثين الضعيفين حديث أمامة المتقدم وهو متفق عليه. وحديث الباب وحديث أنس أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «إني لأسمع بكاء الصبي وأنا في الصلاة فأخفف، مخافة أن تفتتن أمه» وهو متفق عليه فيجمع بين الأحاديث بحمل الأمر بالتجنيب على الندب كما قال العراقي في شرح الترمذي، أو بأنها تنزه المساجد عمن لا يؤمن حدثه فيها."

(کتاب اللباس، ابواب اجتناب النجاسات و مواضع الصلوات، ج: 2، ص: 144، ط: دار الحدیث) 

فتاوی شامی میں ہے:

"ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره.

(قوله ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري " مرفوعا «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسل سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر» " بحر.والمطاهر جمع مطهرة بكسر الميم، والفتح لغة: وهو كل إناء يتطهر به كما في المصباح، والمراد بالحرمة كراهة التحريم لظنية الدليل. وأما قوله تعالى - {أن طهرا بيتي للطائفين} [البقرة: 125]- الآية فيحتمل الطهارة من أعمال أهل الشرك تأمل؛ وعليه فقوله وإلا فيكره أي تنزيها تأمل."

(کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلوۃ و مایکرہ فیھا، ج: 1، ص: 454، ط: دار الفکر)

تقریرات رافعی علی الدر میں ہے:

"(و إلا فیکرہ) أي حیث لم یبالوا بمراعات حق المسجد من مسح نخامۃ، أو تفل في المسجد، و إلا فإذا کانوا ممیزین و یعظمون المساجد بتعلم من ولیھم، فلاکراهة في دخولهم."

(باب ما یفسد الصلوۃ و مایکرہ فیھا، ج: 1، ص: 117، ط : سعید)

 تقريرات الرافعی:

''(قوله ذكره في البحر بحثا ) قال الرحمتي: ربما يتعين في زماننا ادخال الصبيان في صفوف الرجال لان المعهود منهم اذا اجتمع صبيان فاكثر تبطل صلاة بعضهم ببعض وربما تعدى ضررهم الى افساد صلاة الرجال.''

(کتاب الصلاۃ، ج: 1، ص: 73، ط: سعید)

فقط و اللہ اَعلم


فتویٰ نمبر : 144209202300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں