
عام شخص کا بغیر کسی وجہ کے مسجد کے منبر پر بیٹھ کر تصویر بنانا کیسا ہے؟
دینِ اسلام میں جان دار کی تصویر سازی، کسی بھی غرض سے اور کسی بھی شکل میں ہو (متحرک ہو یا ساکن) بلا ضرورتِ شدیدہ کے حرام ہے، جب کہ مسجد میں اس کی حرمت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیوں کہ مسجد اللہ تعالٰی کی عبادت کے لیے مخصوص مقام ہے، جہاں عبادت کے علاوہ فضولیات میں مشغول ہونا ممنوع ہے،چہ جائے کہ انسان حرام کام میں مشغول ہو۔
حدیث شریف میں ہے:
"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذاباً عند الله المصورون»."
(مشكاة المصابيح ،2/385، باب التصاویر، ط: قدیمي/الصحیح لمسلم،3/1667، رقم الحدیث: 2107، ط: دار إحیاء التراث العربي)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور (تصویر بنانے والا)ہے“۔
(مظاہر حق جدید، 230/4 ، ط: دارالاشاعت)
ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے:
"عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم."
(مشكاة المصابيح ، 2/385، باب التصاویر، ط: قدیمي)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ” ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا، اور اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا“۔
(مظاہر حق جدید،4/230، ط: دارالاشاعت)
رد المحتار میں ہے :
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراماً لا مكروهاً إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره...
(قوله: أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله؛ لأنها لا تعبد بدون الرأس عادةً، وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلاينفي الكراهة؛ لأن من الطيور ما هو مطوق فلايتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس، لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين، لأنها تعبد بدونها، وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين، بحر (قوله: أو ممحوة عضو إلخ) تعميم بعد تخصيص، وهل مثل ذلك ما لو كانت مثقوبة البطن مثلاً. والظاهر أنه لو كان الثقب كبيراً يظهر به نقصها فنعم، وإلا فلا؛ كما لو كان الثقب لوضع عصاً تمسك بها كمثل صور الخيال التي يلعب بها؛ لأنها تبقى معه صورة تامة، تأمل.
هذا كله في اقتناء الصورة، وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقاً، لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى، كما مر".
(كتاب الصلاة ، ج: 1، ص: 649، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100840
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن