بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تین، چار سال کے بچوں کو مسجد لانے کا حکم۔ نماز میں کپڑوں کو درست کرنے/کھیلنے کا حکم۔


سوال

1۔کیا مسجد میں کم عمر بچوں کو لانا جائز ہے جن کی عمر تقریبا تین چار سال ہو؟

2۔ کیا نماز میں رکوع یا قیام میں جاتے وقت اپنے کپڑوں کو درست کرنا یا کھیلنا جائز ہے؟

3۔ مسجد میں جمعے کے دن موبائل میں قرآن حدیث ٹچ کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑ کر بیان کرنا جائز ہے جبکہ موبائل میں تصویریں بھی ہوں؟

4۔ دیوار پر لگائی جانے والی گھڑی کے اوپر قرآن پاک کی آیت  لکھی ہوئی ہو تو یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ بچوں کو مسجد میں لانے یا نہ لانے کا معیار بچوں کی 'عمر' نہیں بلکہ بچوں کی 'سمجھداری' ہے، چنانچہ ایسےچھوٹے بچے جو مسجد کے آداب اور پاکی کا خیال نہیں رکھ سکتےاور ان کے مسجد میں شور و شغب کرنے کی وجہ سے دیگر نمازیوں کی نماز میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو  تو ایسے نا سمجھ بچوں کو مسجد میں لانا جائز نہیں ہے، البتہ ایسے سمجھ دار  بچے جو مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھ سکتے ہوں ان کو نماز کی ترغیب کے لیے مسجد میں لانا جائز بلکہ مستحسن ہے؛ تاکہ ان کو نماز کی عادت ہو ، البتہ ساتھ لانے والے کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنے قریب کھڑا کرکے نماز پڑھائیں؛ تاکہ کسی کی  نماز میں خلل واقع نہ ہو۔

 لہذا چوں کہ عام طور سے سات سال یا اس سے زائد عمر کے  بچے سمجھ دار اور باشعور ہو تے ہیں اور نماز کی ہیت کو کسی حد تک جانتے ہیں اور مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھ سکتے ہیں   اور سات سال کے بچوں کو  نماز پڑھنے کی ترغیب دینے کا بھی حکم  ہے  تاکہ  ان کی نماز پڑھنے کی عادت ہوجائے، اس لیے سات سال یا اس سے زیادہ عمر کے سمجھ دار بچوں کو نماز کی عادت ڈلوانے کے لیے مسجد لانا جائز ہے، اگر سات سال سے کم عمر کا کوئی بچہ اتنا سمجھ دار ہو کہ مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھ سکتا ہو تو اسے بھی مسجد لانے کی گنجائش ہوگی، البتہ سات سال سے کم عمر کے ناسمجھ بچے جو مسجد کے آداب اور پاکی کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں ان کو مسجد لانا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح وہ بچے جو سات سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہونے کے باوجود ناسمجھ ہوں اور مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھنے کے قابل نہ ہوں ان کو بھی مسجد لانا جائز نہیں ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تین، چار سال کے کم عمر بچے چوں کہ عام طور سے ناسمجھ ہوتے ہیں اور مسجد کی پاکی اور آداب کا خیال رکھنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں، اس لیے تین، چار سال کے ناسمجھ بچوں کو مسجد لانا جائز نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص اتنے کم عمر کے بچوں کو مسجد لے آئے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار و محبت سے سمجھاکر شرعی حکم سے آگاہ کردینا چاہیے کہ اگر کوئی سرپرست ناسمجھ بچوں کو مسجد میں لائے جس کی وجہ سے مسجد کی ناپاکی یا نمازیوں کی نماز میں خلل کا اندیشہ ہو تو یہ سرپرست کے حق میں مسجد کی بے ادبی اور گناہ ہے۔ نیز اگر کبھی بچے مسجد میں شور کریں تو ان کو بھی پیا ر  محبت سے سمجھا کر الگ الگ صفوں میں بٹھادینا چاہیے، بچوں کو سختی سے ڈانٹنا،  جھڑک دینا یا مسجد سے نکال دینا درست طرزِ عمل نہیں ،بچے کامسجد میں شور مچانا  گناہ نہیں ہے، لیکن اس کو  روکنے کے لیے کسی عاقل بالغ کا اپنی آوا ز  بلند کرلینا یہ آدابِ مسجد کے خلاف اور گناہ کا باعث ہے، اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن واثلة بن الأسقع، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم، ومجانينكم، وشراءكم، وبيعكم، وخصوماتكم، ورفع أصواتكم، وإقامة حدودكم، وسل سيوفكم، واتخذوا على أبوابها المطاهر، وجمروها في الجمع»."

(کتاب المساجدوالجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد،1/ 247، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فيض القدير میں ہے:

"(جنبوا مساجدنا) وفي رواية مساجدكم (صبيانكم) أراد به هنا ما يشمل الذكور والإناث (ومجانينكم) فيكره إدخالهما تنزيها إن أمن تنجيسهم للمسجد وتحريما إن لم يؤمن."

(‌‌حرف الجيم،ج:3 ، ص:351،ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

نيل الأوطار  میں ہے :

"(وعن أبي هريرة قال: «كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره فإذا رفع رأسه أخذهما من خلفه أخذا رفيقا ووضعهما على الأرض، فإذا عاد عادا حتى قضى صلاته، ثم أقعد أحدهما على فخذيه، قال: فقمت إليه، فقلت: يا رسول الله أردهما فبرقت برقة، فقال لهما: الحقا بأمكما فمكث ضوؤها حتى دخلا» . رواه أحمد) . الحديث أخرجه أيضا ابن عساكر وفي إسناد أحمد كامل بن العلاء وفيه مقال معروف، وهو يدل على أن مثل هذا الفعل الذي وقع منه صلى الله عليه وسلم غير مفسد للصلاة.
وفيه التصريح بأن ذلك كان في الفريضة، وقد تقدم الكلام في شرح الحديث الذي قبل هذا. وفيه جواز إدخال الصبيان المساجد. وقد أخرج الطبراني من حديث معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «جنبوا مساجدكم صبيانكم وخصوماتكم وحدودكم وشراءكم وبيعكم وجمروها يوم جمعكم واجعلوا على أبوابها مطاهركم» ولكن الراوي له عن معاذ مكحول وهو لم يسمع منه، وأخرج ابن ماجه من حديث واثلة بن الأسقع أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراءكم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم واتخذوا على أبوابها المطاهر وجمروها في الجمع» وفي إسناده الحارث بن شهاب وهو ضعيف. وقد عارض هذين الحديثين الضعيفين حديث أمامة المتقدم وهو متفق عليه. وحديث الباب وحديث أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إني لأسمع بكاء الصبي وأنا في الصلاة فأخفف، مخافة أن تفتتن أمه» وهو متفق عليه فيجمع بين الأحاديث بحمل الأمر بالتجنيب على الندب كما قال العراقي في شرح الترمذي، أو بأنها تنزه المساجد عمن لا يؤمن حدثه فيها. الحديث أخرجه أيضا النسائي، واتفق على نحوه الشيخان من حديث ميمونة."

(كتاب اللباس،باب حمل المحدث والمستجمر في الصلاة وثياب الصغار وما شك في نجاسته، ج:2، ص:144، ط:دار الحديث، مصر)

 سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((مُرُوا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عَشْر، وفرقوا بينهم في المضاجع)). رواه أحمد وأبو داود، وهو الصحيح."

(کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ،ج:1، ص:133، ط:المكتبة العصرية)

فتاوی شامی میں ہے :

" ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره.

(قوله: ويحرم إلخ) لما أخرجه المنذري مرفوعًا: «جنّبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم، وبيعكم وشراءكم، ورفع أصواتكم، وسلّ سيوفكم، وإقامة حدودكم، وجمروها في الجمع، واجعلوا على أبوابها المطاهر»، بحر. والمطاهر جمع مطهرة بكسر الميم، والفتح لغة: وهو كل إناء يتطهر به كما في المصباح، والمراد بالحرمة كراهة التحريم لظنية الدليل. وأما قوله تعالى: {أن طهرا بيتي للطائفين} [البقرة: 125]- الآية فيحتمل الطهارة من أعمال أهل الشرك تأمل؛ وعليه فقوله وإلا فيكره أي تنزيها تأمل."

(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما یکرہ فیھا، ج:1، ص:656، ط: سعيد)

تقریرات الرافعي علی الدر میں ہے:

" قول الشارح: وإلا فیکرہ أي حیث لم یبالوا بمراعات حق المسجد من مسح نخامۃ، أو تفل في المسجد، وإلا فإذا کانوا ممیزین ویعظمون المساجد بتعلم المساجد بتعلم من ولیھم، فلاکراهة في دخولهم."

 (تقریرات رافعي علی الدر المختار، ج:2، ص:86، ط:زکریا)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ثم الصبيان) ظاهره تعددهم، فلو واحدا دخل الصف."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامة،ج:1، ص:571، ط: سعید)

وفي تقريرات الرافعي:

"قال الرحمتي وربما یتعین في زماننا إدخال الصبیان في صفوف الرجال؛ لأن المعہود منہم إذا اجتمع صبیان فأکثر تبطل صلاۃ بعضہم ببعض وربما تعدی ضررہم إلی إفساد صلاۃ الرجال."

  (تقریرات الرافعي علی الدر المختار،ج:2، ص:73،ط: زکریا)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

"(سوال  ۱۳۴) ہمارے  یہاں  بعض مصلی اپنے ساتھ چھوٹے بچوں  کو مسجد میں  لاتے ہیں  اور جماعت خانہ میں  بٹھاتے ہیں ، وہ بچے کبھی روتے ہیں ، کبھی شرارت کرتے ہیں  اور گاہے پیشاب بھی کردیتے ہیں ، ان کو کہا جاتا ہے کہ بچوں  کو اپنے ساتھ نہ لاؤ،  اس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے، مگر وہ نہیں  مانتے، ان کی سمجھ میں  آجائے ایسا جواب تحریر فرمائیں ۔ بینواتوجرو ا!

(الجواب)مسجد میں  چھوٹے بچوں  کو لانے کی اجازت نہیں  ، مسجد کاادب و احترام باقی نہ رہے گا اور لانے والے کو بھی اطمینانِ  قلب نہ رہے گا ،نماز میں  کھڑے ہوں  گے مگر خشوع وخضوع نہ ہوگا، بچوں  کی طرف دل لگارہے گا ،حضور صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: "جنبوا مساجد کم صبیانکم و مجانینکم  ..."الخ  اپنی مسجدوں  کوبچوں  اور پاگلوں  سے بچاؤ۔" (ابن ماجہ ص۵۵ باب مایکرہ فی المساجد)

اسی  لیے فقہاء رحمہم اللہ تحریر فرماتے ہیں  کہ مسجد میں  بچوں  کو داخل کرنا اگر اس سے مسجد کے نجس ہونے کا اندیشہ ہوتو حرام ہے، ورنہ مکروہ ہے ، الا شباہ والنظائر میں  ہے: ”ومنها حرمة إدخال الصبیان و المجانین حیث غلب تنجیسھم و إلا فیکرہ.“ (الأشباہ ص ۵۵۷ القول في أحکام المسجد)

ہاں !  اگر بچہ سمجھ دار ہو، نماز پڑھتا ہو، مسجد کے ادب و احترام کا پاس و لحاظ رکھتا ہوتو کوئی حرج نہیں  ہے، غالباً اسی بنا  پر سات برس کی قید حدیث میں  موجود ہے ۔  وہ نابالغ بچوں  کی صفت میں  کھڑا ہے ، اگر صرف ایک ہی بچہ ہوتو وہ بالغوں  کی صف میں  کھڑا ہو سکتا ہے ،مکروہ نہیں  ۔"

(ج:9، ص:120، ط: دارالاشاعت)

2۔حدیث شریف میں نماز کے دوران کپڑوں کے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن حدیث میں وارد ممانعت کا تعلق نماز کے دوران غیر ضروری طور پر یا مٹی سے بچنے کے لیے کپڑے سمیٹنے سے ہے، اس لیے نماز کے دوران (قیام، رکوع، سجود وغیرہ کسی بھی حالت میں) کپڑوں (دامن وغیرہ) سے کھیلنا مکروہ ہے، اسی طرح بلا ضرورت یا مٹی سے بچانے کے لیے کپڑوں (دامن وغیرہ کو) سمیٹنا، درست کرنا وغیرہ بھی مکروہ ہے۔ البتہ اگر رکوع یا سجدے وغیرہ سے اٹھتے وقت پچھلا دامن پیروں میں پھنسا ہونے کی وجہ سے اسے درست کرنے کی ضرورت ہو تو ایسی صورت میں قمیص /دامن کو ایک ہاتھ سے درست کرنے کی گنجائش ہے۔

3۔ مسجد میں موبائل میں قرآن و حدیث کو دیکھ کر بیان کرنا اگرچہ جائز ہے (بشرطیکہ موبائل کی اسکرین پر اس وقت جاندار کی تصویر موجود نہ ہو)، البتہ چوں کہ موبائل پر کسی بھی وقت اچانک جاندار کی تصویر نمودار ہونے کا اندیشہ رہتا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ مسجد میں بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث دیکھنے کے لیے موبائل استعمال کرنے کے بجائے ضرورت کے وقت قرآنِ پاک کے نسخے یا احادیث کی کتابوں کو دیکھ لیا جائے۔

4۔ دیوار پر لگائی جانے والی گھڑی کے اوپر قرآن پاک کی آیت لکھنا اگرچہ جائز ہے، البتہ چوں کہ گھڑی کے خراب ہونے کی وجہ سے پھینکے جانے کی صورت میں قرآنِ پاک کی آیت کی بے ادبی کا اندیشہ ہے اس لیے دیوار پر لگائی جانے والی گھڑی کے اوپر قرآن پاک کی آیت نہ لکھنا بہتر ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌أمرت ‌أن ‌أسجد ‌على ‌سبعة أعظم، ولا أكف ثوبا ولا شعرا»."

(كتاب الصلاة،باب اعضاء السجود،ج:1،ص:354،الرقم:490،ط:دارإحياء التراث العربي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"‌ولا ‌نكفت "..أي: نهينا أن نضم ونجمع (الثياب) ، وقاية من التراب...أن التقدير: وأمرت أن لا نكفتهما بل نتركهما حتى يقعا على الأرض ليسجد بجميع الأعضاء والثياب، قال الطيبي: فبهذا الحديث قالوا: يكره عقص الشعر وعقده خلف القفا ورفع الثياب عند السجود، قال ابن حجر: يكره باتفاق العلماء تنزيها ضم شعره وثيابه في الصلاة، وإن لم يتعمد ذلك بأن كان قبل الصلاة لشغل، وصلى على حاله خلافا لمالك، ومن كفتهما أن يعقص الشعر أو يضمه تحت عمامته، وأن يشمر ثوبه أو يشد وسطه، أو يغرز عذبته، وحكمة النهي عن ذلك منعه من أن يسجد معه، بهذا قالوا، ومن حكمته أيضا منافاة ذلك للخشوع إن فعله في الصلاة أو لهيئة الخاشع إن لم يفعله فيها."

 

(كتاب الصلاة،باب السجود وفضله،ج:8،ص:718،ط:دارلفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل (وعبثه به) أي بثوبه (وبجسده) للنهي إلا لحاجة.

(قوله: أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود بحر. وحرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية."

 (كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:640، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وعقص شعره) للنهي عن كفه ولو بجمعه أو إدخال أطرافه في أصوله قبل الصلاة؛ أما فيها فيفسد.

(قوله: وعقص شعره إلخ) أي ضفره وفتله، والمراد به أن يجعله على هامته ويشده بصمغ، أو أن يلف ذوائبه حول رأسه كما يفعله النساء في بعض الأوقات، أو يجمع الشعر كله من قبل القفا ويشده بخيط أو خرقة كي لا يصيب الأرض إذا سجد؛ وجميع ذلك مكروه، ولما روى الطبراني «أنه عليه الصلاة والسلام نهى أن يصلي الرجل ورأسه معقوص»، وأخرج الستة عنه صلى الله عليه وسلم: «أمرت أن أسجد على سبعة أعضاء، وأن لا أكف شعرا ولا ثوبا» شرح المنية، ونقل في الحلية عن النووي أنها كراهة تنزيه، ثم قال: والأشبه بسياق الأحاديث أنها تحريم إلا إن ثبت على التنزيه إجماع فيتعين القول به."

(کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیه، ج:1، ص:641، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144703100667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں