
ایک شخص ہے جس نے مسجد کے لئے زمین وقف کی اور خود اس پر مسجد بنارہا ہے، اس نے مسجد کو دو منزلہ بنایا ہے، لیکن مسجد ابھی تک مکمل بنی نہیں ہے ، بلکہ اب بھی اس میں تعمیراتی کام جاری ہے۔
اب وہ شخص ( واقف) اس مسجد کے بیسمنٹ کو مسجد کے مصالح کی خاطر کرایہ پر دینا چاہتا ہے، تاکہ مسجد کی ضروریات پوری ہوسکیں ۔
سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کے بیسمنٹ کو کرایہ پر دینا درست ہے؟
جو جگہ مسجد کے نام پر ایک مرتبہ وقف ہوجائے، پھر اس کے بالائی حصے کو یا اس کے تہہ خانہ/ بیسمنٹ کو یا اس کے کسی بھی حصے کو کرایہ پر دینا شرعاً جائز نہیں، اگر چہ یہ کرایہ پر دینا مصالح مسجد کی خاطر کیوں نہ ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مسجد کے تہہ خانے کو کرایہ پر دینا شرعاً جائز نہیں۔
البحر الرائق میں ہے:
"وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب."
(کتاب الوقف، فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج:5، ص:271، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك، كذا في الذخيرة."
(کتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد، ج:2، ص:455، ط:دار الفکر)
البحر الرائق ميں هے:
"لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح فإن قلت: لو جعل مسجدا ثم أراد أن يبني فوقه بيتا للإمام أو غيره هل له ذلك قلت: قال في التتارخانية إذا بنى مسجدا وبنى غرفة وهو في يده فله ذلك وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا يتركه وفي جامع الفتوى إذا قال عنيت ذلك فإنه لا يصدق. اهـ. فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فمن بنى بيتا على جدار المسجد وجب هدمه ولا يجوز أخذ الأجرة وفي البزازية ولا يجوز للقيم أن يجعل شيئا من المسجد مستغلا ولا مسكنا."
(کتاب الوقف، فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج:5، ص:271، ط:دار الكتاب الإسلامي)
امداد المفتین میں ہے:
"(الجواب) جو جگہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوچکی ہے اب اس کو مسجد سے خارج کرنا اگر چہ مصالح مسجد ہی کے متعلق ہو، مثلاً امام کے کے لیے مکان بنانا یا مسجد کے لیے وضوخانہ یا غسل خانہ بنانا یہ سب ناجائز ہے، وہ جگہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی اور اگر کسی نے اس کو مسجد سے نکال کر کوئی دوسری چیز بنادی تو متولی مسجد پر واجب ہے کہ اس کو منہدم کرکے مسجد میں شامل کردے، البتہ گر مسجد بناتے وقت اول ہی سے کوئی جگہ مصالح مسجد کے لیے علیحدہ کرلی جاوے، مثلا مسجد کے اوپر یا نیچے امام کے لیے مکان یا کرایہ کی دکانیں وغیرہ بنائی جائیں تو جائز ہے، لیکن جب اول بناء کے وقت مسجد بن گئی تو پھر اس کا نکالنا مسجد سے جائز نہیں اور اگر یہ بھی کہے کہ میری نیت پہلے ہی سے اس جگہ کو علیحدہ کرنے کی تھی تب اس کی تصدیق نہ کی جائے گی۔"
(احکام المساجد، ص:635، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100582
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن