بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے پیسوں سے امام صاحب کو تنخواہ دینا


سوال

1۔مسجد کے پیسوں سے امام صاحب کو تنخواہ دے سکتے ہیں ؟

2۔مسجد کے پیسوں سے امام صاحب کو پیشگی رقم دینا کیسا ہے ؟

3۔مسجد کی اشیاء کرائے پر دے سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

1۔واضح رہے کہ امام، مؤذن، اور خادمین کی تنخواہیں بھی مسجد کے مصارف میں شامل ہیں،لہذا مسجد کے پیسوں سے امام صاحب کو تنخواہ دینا شرعاً درست ہے۔

2۔واضح رہے کہ  اگر  عقد اجارۃ میں امام یا کسی بھی ملازم کی طرف سے پیشگی اجرت کی ادائیگی کی شرط نہ ہو تو اس صورت میں مستاجر (اجارہ پر لینے والا) اجیر (ملازم)   کو پیشگی اجرت دے سکتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں امام کو مسجد کے پیسوں سے پیشگی اجرت دینا درست ہے۔

3۔  مسجد کی اشیاء کو کرایہ پر دینا شرعاً درست ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"الفصل الأول فيما يكون مصرفا للوقف فيصح الوقف عليه ومن لا يكون فلا يصح عليه الذي يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا، ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم كذا في السراج والبسط كذلك إلى آخر المصالح."

‌‌(کتاب الوقف ،الباب الثالث في المصارف وهو مشتمل على ثمانية فصول ،الفصل الأول فيما يكون مصرفا للوقف ومن لا يكون،ج : 2، ص : 268،267،  ط : رشیدیه)

فتاوی شامی میں ہے :

"(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء."

(مطلب يبدأ بعد العمارة بما هو أقرب إليها)

"(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح."

(کتاب الوقف، مطلب يبدأ من غلة الوقف بعمارته، ج : 4، ص : 368،367، ط : سعید)

درر الحکام فی شرح مجلة الاحکام میں ہے :

(المادة 467) :" تلزم الأجرة بالتعجيل يعني لو سلم المستأجر الأجرة نقدا ملكها الآجر وليس للمستأجر استردادها."

تلزم الأجرة بأربعة أسباب:

السبب الأول: تلزم الأجرة بالتعجيل، أي إذا عقدت الإجارة ولم يشرط فيها التعجيل ولم تكن الأجرة لازمة المستأجر بسبب ذلك وأعطى المستأجر المؤجر الأجرة مطلقا سواء أكانت الإجارة منجزة أو مضافة؛ لأن المستأجر بتسلم البدل للمؤجر معجلا قد أسقط حقه الثابت له بمقتضى المساواة اللازمة في الحقوق بين الآجر والمستأجر الذي يوجبه مقتضى العقد."

(الكتاب الثاني الإجارة، الباب الثالث في بيان مسائل تتعلق بالأجرة، الفصل الثاني المسائل المتعلقة بسبب لزوم الأجرة، ج : 1، ص : 530، ط : دارالجیل)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما إذا عجل الأجرة من غير شرط فلأنه لما عجل الأجرة فقد غير مقتضى مطلق العقد وله هذه الولاية؛ لأن التأخير ثبت حقا له فيملك إبطاله بالتعجيل، كما لو كان عليه دين مؤجل فعجله؛ ولأن العقد سبب استحقاق الأجرة فالاستحقاق وإن لم يثبت فقد انعقد سببه، وتعجيل الحكم قبل الوجوب بعد وجود سبب الوجوب جائز، كتعجيل الكفارة بعد الجرح قبل الموت."

(کتاب الاجارۃ، فصل فی حکم الاجارۃ، ج : 4، ص : 203، ط : دارالکتب العلمیة)

 فتاوی محمودیہ میں ہے :

(مسجد کی دکانوں کی چھت پر کرایہ کے لئے مکانات تعمیر کرنا)

سوال [۱۰۸۳۵] : جامع مسجد ہر دوئی کی طرف سے گیارہ دکانیں تعمیر ہوئی ہیں، انجمن اسلامیہ ضلع ہر دوئی ان دکانوں کی چھت کو کرایہ پر لے کر مکانات رہائش تیار کرانے کا قصد رکھتی ہے، اس کی آمدنی انجمن مذکور کی جنرل فنڈ میں رہے گی، جو مختلف شعبہ جات مدرسہ فرقانیہ، جامع مسجد ، امداد بیوگان و مسافران و تجهیز وتکفین لاوارث مسلمان وغیرہ وغیرہ میں صرف ہوگی ، اس انجمن کو یہ چھت کرایہ پر دی جاسکتی ہے، تا کہ اس کی آمدنی سے کا رہائے مذکورۃ الصدر انجام دیئے جاسکیں؟

الجواب حامداً ومصلياً:

اگر جامع مسجد کو اس سے نقصان کا خطرہ نہ ہو، تو دکانوں کی چھت کو کرایہ پر دیا جا سکتا ہے (۱)۔

(کتاب الوقف،باب احکام المساجد، الفصل العاشر فی اجارۃ متاع المسجد، ج : 23، ص  :183، ط : ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں