
ایک جامع مسجد ہے اور مسجد کے سامنے ایک بلڈنگ ہے جس میں دوپہر کے اوقات میں بنات کا مدرسہ قائم ہے جب کہ مدرسہ و مسجد دونوں کی کمیٹی ایک ہی ہے، کچھ مخیر حضرات کے توسط سے مسجد ہذا میں سولر سسٹم لگوایا گیا ہے اور اس سہولت سولر سسٹم میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے وقت مسجد و مدرسہ دونوں کا ایک ساتھ لوڈ بھی برداشت کر لے، اسی کے ساتھ ساتھ مدرسے میں ایک فیملی رہائش پذیر ہے اور اس فیملی کے کفیل مسجد ہذا کی کمیٹی ممبر بھی ہیں اور مدرسے کی بجلی کا بل فیملی کے کفیل از خود مکمل طور پر ادا کرتے ہیں، اس فیملی کے کفیل جو کہ کمیٹی ممبر بھی ہیں، مسجد ہذا کے مختلف امور کی نگرانی اور ان کی تکمیل کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مدرسے بنات کے تمام امور اور معاملات بھی دیکھتے ہیں اور اپنی زیر نگرانی امور مدرسہ مکمل بھی کرواتے ہیں، سولر سسٹم کا مدرسے کے اوقات میں مدرسے کے اندر استعمال کرنا کیسا ہے ؟اگر سولر سسٹم مدرسے میں بھی استعمال کر لیا جائے تو پھر اس صورت میں جنریٹر استعمال نہیں کرنا پڑتا، جب کہ اگر جنریٹر استعمال ہو تو کئی ہزاروں کا بل اور پٹرول کا خرچہ ہو جاتا تھا جو مسجد کمیٹی کے لیے کافی گراں اور دشواری کا باعث ہوتا تھا، جب کہ اب صورتحال یہ ہے کہ سولر کے استعمال کی وجہ سے یہ نوبت پیش نہیں آتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگرسولر سسٹم بنات کے مدرسے میں استعمال کر بھی لیا جائے تو جو فیملی مدرسے میں رہائش پذیر ہے ان کے لیے اس سہولت کو مستقل طور پر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمادیں۔
اور اگر وہ اس کی مد میں باہم مشورے سے رضامندی کے ساتھ کچھ رقم طے کر کے ہر ماہ ادا کر کے استعمال کرنا چاہیں تو کیسا ہے؟ درج بالا امور کی مکمل وضاحت مطلوب ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مسجد و مدرسے کی کمیٹی ایک ہے اور دونوں کا انتظام مشترک ہے تو مسجد میں لگایا گیا سولر سسٹم مسجد و مدرسہ دونوں کا ہوگا، لہٰذا اس سسٹم سے مدرسے کو بجلی دینا درست ہے۔نیز کمیٹی کی منظوری سے متعلقہ عملے کو بھی مذکورہ سولر سسٹم سے بجلی دی جاسکتی ہے۔اور اگر اس سہولت کے بدلے متعلقہ عملے سے کچھ رقم طے کرکے لی جائے تو بھی درست ہے۔
’’سوال:
مسجد کا چندہ جو تعمیر کے نام پر جمع کیاجاتا ہے، اور اسی مسجد میں ایک دارالعلوم بھی قائم ہوا ہے، مسجد کےچندہ میں سے دارالعلوم کا فرنیچر ، اساتذہ کی تنخواہ وہ تمام اخراجات دیے جاسکتے ہیں یا نہ؟ جب کہ یہ مدرسہ یا دارالعلوم مسجد کے زیر انتظام ہے اور دونوں کام کی ٹرسٹ بھی ایک ہی ہے، اسی طرح عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر دینی تقریب اس چندہ سے منعقد کی جاسکتی ہے یا نہ؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں جو مدرسہ اور دارالعلوم مسجد کے ساتھ بنایاگیا ہے اور مسجد ہی کے زیرانتظام ہے، اس کی تعمیر اور مدرس کی تنخواہ مسجد اور مدرسہ کے مشترکہ فنڈ سے دینا جائز ہے، اور تعمیر مسجد کی غرض سے حاصل شدہ سے بھی مدرسہ کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔
لما في الدرالمختار:
"ويبداء من غلة بعمارته ثم ماهوأقرب لعمارته كامام مسجد و مدرس و مدرسة يعطون بقدر كفايتهم"(ص:367)
البتہ غیر ضروری جلسہ وغیرہ کے اخراجات میں مسجد فنڈ سے خرچ کرنا درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم
کتبہ: محمد عبد السلام چاٹگامی
الجواب صحیح: ولی حسن ٹونکی
02-06-1975
فتویٰ نمبر 139505300028‘‘
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100999
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن