
ہماری مسجد بالکل سڑک کے کنارے پر ہے جس کی وجہ سے غیر مسلم لوگ ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں، اور غیر مسلم لوگ زیادہ آباد ہیں، اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے یہاں غیر مسلم لوگ مسجد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور مسجد مقامی آبادی کے اعتبار سے چھوٹی ہے اور اگر مقامی لوگ دوسری مسجد بنائیں تو ان کی دیکھ ریکھ اور انتظام نہیں کر سکتے، روپیہ پیسہ کے اعتبار سے اور امام رکھنے کے اعتبار سے ،اور اگر مسجد دوسری جگہ تعمیر کریں تو پرانی مسجد کو مدرسے میں تبدیل کرنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ جو زمین ایک مرتبہ مسجد کے لئے وقف کردی گئی ہے، تو قیامت تک وہ زمین مسجد ہی رہے گی ،اس کوکسی اور مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے، نیز ملحوظ رہے کہ مسجد اور مدرسہ دونوں علیحدہ جہت وقف ہیں، مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں اس مسجد کو مدرسہ میں تبدیل کرنا شرعا جائز نہیں ہے ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز."
(كتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع، ج:2، ص:362، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101949
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن