
ہمارے محلے اورنگی ٹاؤن میں ایک جگہ مسجد کے لیے وقف ہے،وقف شدہ جگہ میں مسجد کے ساتھ ایک بڑا کمرہ مسجد ھذا کی ضروریات کے لیے بنایاگیاہے،مثلاً مہمان ،تبلیغی جماعت،مؤذن اور امام وغیرہ کے قیام وطعام کے لیے مختص کیا گیا ہے،اب اس کمرے میں محلے کے بعض افراد نے تقریباًایک سال سے این جی اوز کے تحت ایک پرائیوٹ اسکول قائم کرلیاہےکمیٹی کی اجازت سے،جس میں دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے،اردو انگریزی میتھ وغیرہ،اور بچوں کی تصاویر، جانداروں کی پوسٹر،چارٹس کارٹون وغیرہ بھی کمرہ ھذا میں چسپاں ہیں،اور متعلقہ معلم کو ماہانہ وظیفہ این جی اوز کی طرف سے دیاجاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مسجد کے لیے وقف شدہ جگہ میں پرائیوٹ اسکول قائم کرنا کیساہے؟
نوٹ:وہ جگہ بغیر کرایہ کے اس اسکول کے لیے دی ہے۔
صور ت مسئولہ میں جب وہ کمرہ مسجد کی جگہ پر مسجد سے متعلقہ استعمال کے لیے تعمیر کیا گیا ہے تو اس کو اسکول کے لیے دینا شرعاً جائز نہیں؛کیونکہ اسکول مسجد کی ضروریات میں سے نہیں ہے، لہذا اسکول کے لیے مسجد کے حدود سے باہر متبادل جگہ کا انتظام کرنا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."
(كتاب الوقف، ج: 4، ص: 434،433، ط: سعید)
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
"مسجد کے لیے وقف شدہ اراضی کو مسجد ہی کی ضروریات میں استعمال کرنا لازم ہے۔اس میں بچوں کے لیے سکول جاری کرنا ہر گز جائز نہیں ہے۔"
(کتاب المساجد،ج:1،ص:537،ط:جمعیۃ پبلیکیشنز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100576
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن