بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی زمین قبرستان کے لیے لینا


سوال

ایک شخص نے اپنی زمین اللہ تعالی کی رضا کے لیے مسجد کے لیے وقف کر دی تھی، بعد ازاں اسی زمین پر مسجد تعمیر ہو گئی اور وہ شخص وفات پا گیا، اب مرحوم کا پڑپوتا ہے، وہ  یہ دعوی کرتا ہے کہ چونکہ زمین میرے پر دادا کی تھی، لہذا میں اس میں سے کچھ حصہ خاندانی قبرستان کے لیے لینا چاہتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ کیا شرعا اس کے لیے زمین میں سے حصہ لینا یا زبردستی قبضہ کرنا جائز ہے؟ جب کہ یہ زمین مسجدِ وقف میں داخل ہے اور مسجد کی چار دیواری کے اندر شامل ہے۔

جواب

 واضح رہے کہ اگر کوئی زمین مسجد کے لیے  وقف کردی گئی ہو اور اس پر مسجد کی تعمیر بھی کر دی گئی ہو اور ایک لمبے عرصے سے وہاں نمازیں پڑھی جا رہی ہوں  تو چوں کہ یہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی؛ اس لیے  اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں، چاہے تبدیلی کرنے والا واقف کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

  لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر مسجد ہذا کے واقف  کا پڑپوتا مسجد  کےلیے وقف شدہ زمین کے ایک حصے پر قبرستان بنانا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں، مذکورہ جگہ کو مسجد کی حیثیت سے ہی باقی رکھنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

 (کتاب الوقف، ج:4، ص:433، ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"مطلب مراعاة غرض ‌الواقفين واجبة."

(کتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:445، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً و وقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لا يجوز، كذا في الغياثية".

(کتاب الوقف، الباب الثانی فیما یجوز وقفه، ج:2، ص:362، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102132

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں