بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی زمین کٹ جانے کی صورت میں حکم


سوال

مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دریا کے کنارے واقع ہے۔ مسجد کی زمین اور دریا کے درمیان ایک راستہ (سڑک) ہے، جو دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے آدھا غرق ہو چکا ہے۔ اگر اسی جگہ مسجد تعمیر کی جائے تو خدشہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مسجد کی زمین بھی دریا برد ہو جائے گی۔ ایک صاحب نے مسجد کی زمین کے پچھلی جانب (Retreat side) اپنی کچھ زمین مسجد کے لیے وقف کی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد کی تعمیر کے وقت اسے اصل جگہ سے تھوڑا پیچھے ہٹا کر (محفوظ جگہ پر) تعمیر کرنے کی شرعاً اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی یہ غالب گمان یا ماہرین کی رائے ہو کہ دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے موجودہ جگہ مستقبل میں محفوظ نہیں رہے گی اور مسجد کے دریا برد ہونے کا قوی اندیشہ ہے، تو ایسی صورت میں مسجد کو نسبتاً محفوظ مقام پر منتقل کرکے تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے، بشرط یہ کہ وہ  نئی زمین بھی مسجد ہی کے لیے وقف کی گئی ہو یا باقاعدہ طور پر مسجد کے لیے وقف کردی جائے۔البتہ پرانی جگہ پر مسجد پہلے سے بنی ہوئی ہو تو وہ مسجد ہی باقی رہے گی ، اس جگہ کو کسی مقصد سے استعمال جائز نہ ہوگا۔ وہ جگہ  اگر قابلِ انتفاع باقی رہے تو اسے محفوظ چار دیواری میں رکھ کر مسجد کی ضروریات یا مصالحِ مسجد میں ہی  استعمال کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو ‌خرب ‌ما ‌حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي.

(قوله: ولو ‌خرب ‌ما ‌حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح. اهـ. بحر."

(‌‌كتاب الوقف، ج: 4، ص: 385، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(فاذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن).

قوله: لا يملك أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه."

(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 352، ط: سعید)

 فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711101437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں