بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی وقف شدہ زمین پر امام مؤذن یا کسی اور کے سولر سسٹم کے استعمال کا شرعی حکم


سوال

ہماری مسجد کے امام و خطیب صاحب کو مسجد کی طرف سے رہائش کے لیے ایک گھر دیا گیا ہے۔ مسجد انتظامیہ نے بجلی کے استعمال کا یہ نظم بنایا ہے کہ امام صاحب کو ماہانہ 300 یونٹ بجلی مسجد کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے، اور اس سے زائد استعمال ہونے والے یونٹس کی رقم امام صاحب خود ادا کرتے ہیں۔

اب مسجد میں سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے، جس کے ذریعے دن کے وقت بجلی استعمال ہوتی ہے جبکہ رات کے وقت  کےالیکٹرک کا میٹر چلتا ہے۔ دن اور رات دونوں کے یونٹس کو ملا کر اگر مجموعی استعمال 300 یونٹس سے بڑھ جائے تو زائد یونٹس کی ادائیگی امام صاحب کے ذمے ہوتی ہے۔

اس صورتِ حال میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

کیا امام صاحب کے لیے یہ شرعاً جائز ہے کہ وہ اپنی ذاتی رقم سے صرف اپنے ذاتی استعمال کے لیے سولر سسٹم لگوائیں اور وہ سولر پلیٹیں مسجد کی چھت پر نصب کریں؟

اگر مسجد کی چھت پر امام صاحب کا ذاتی سولر لگانا شرعاً جائز نہ ہو تو کیا یہ درست ہوگا کہ مسجد کی جانب سے امام صاحب کے گھر کی چھت پر نصب شدہ سولر پلیٹیں وہاں سے ہٹا کر مسجد کی چھت پر لگا دی جائیں، اور امام صاحب اپنے گھر کی چھت پر اپنے ذاتی استعمال کے لیے اپنی پلیٹیں خود لگوا لیں؟

مسجد کے نیچے واقع دکانوں کے مالکان اگر اپنی دکانوں کے لیے سولر سسٹم لگوانا چاہیں تو کیا شرعاً ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی سولر پلیٹیں مسجد کی چھت یا امام، مؤذن یا خادم کے لیے مخصوص رہائشی گھروں کی چھتوں پر نصب کریں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے تو ایسی صورت میں مسجد کی وہ زمین موقوفہ بن جاتی ہے اور وہ جگہ  تحت الثرایٰ  سے لے کر آسمان تک موقوفہ شمار ہوتی ہے ،اور اس زمین کے تمام منافع وفوائد  مسجد ہی کے مصالح میں استعمال ہوں گے۔مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں مسجد کے امام،مؤذن اور مسجد کی طرف سے انہیں مہیا کی گئی رہائش گاہیں (مقامات)مسجد کے مصالح میں شامل ہیں،اس لیے وقف شدہ زمین یعنی مسجد کی چھت سے  پر لگائے گئے سولر سسٹم سے امام و مؤذن کے گھر کے لیے بجلی کا کنکشن دینا درست ہے۔

تاہم اگر مذکورہ یونٹس امام کے لیے کافی نہ ہوں اور امام اپنی ذاتی ضرورت کے لیے الگ سولر سسٹم مسجد کی چھت پر لگانا چاہیں تو شرعاً یہ درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں مسجد کا ایک حصہ صرف امام کے ذاتی استعمال کے لیے مخصوص ہو جائے گا، جو ناجائز ہے۔ البتہ اگر امام مسجد کے لیے سولر سسٹم وقف کر دیں تو پھر وہ اس سے کنکشن لے سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر مسجد کے لیے سولر سسٹم مسجد ہی کی چھت پر لگایا جائے، اور امام کے گھر کے لیے سولر سسٹم ان کے گھر کی چھت پر نصب کیا جائے۔

البتہ اگر مسجد کی چھت میں مزید جگہ موجود ہو اور امام یا مؤذن کے علاوہ کسی اور کو ضرورت پیش آئے،تو وہ اپنا ذاتی سولر سسٹم وہاں نصب نہیں کر سکتا ؛کیوں کہ مسجد عبادت ہی کے لیے مخصوص ہے،اور مسجد کی چھت بھی عین مسجد میں داخل ہے،مسجد کی چھت کے بھی وہی احکامات ہیں جو داخل مسجد اور عین مسجد کے ہیں،اور شرعاً عین مسجد کی کوئی جگہ کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے لہذا مسجد کی چھت کو تجارت یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں  بنایا جاسکتا ،لہذا امام یا مؤذن کی ضرورت  کے علاوہ کسی اور کے لیے مسجد کی چھت پر سولر لگانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

البتہ مسجد کے علاوہ وقف شدہ زمین  (جیسے امام ،مؤذن کے گھر،یا وضو خانے کی چھت )  پر  اگر کوئی شخص اپنا ذاتی سولر سسٹم نصب کرے اور اس کے بدلے مسجد کے فنڈ میں مناسب کرایہ جمع کرادے ،تو اس کی گنجائش ہے۔بصورتِ دیگر وقف کی چیز کو ذاتی استعمال میں لانا شرعاً درست نہیں ہوگا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص مسجد کی چھت کے علاوہ   دیگر جگہوں  (جیسے امام ،مؤذن کے گھر،یا وضو خانے کی چھت )پر سولر سسٹم نصب کر کے مسجد کو بجلی کی مفت سہولت فراہم کرے اور مسجد کمیٹی اس طریقے کو مسجد کے مفاد میں سمجھے، تو اس کی بھی شرعاً گنجائش ہے۔

بذل المجہود میں ہے:

"باب: في كراهية إنشاد الضالة في المسجد

471 - حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي، ثنا عبد الله بن يزيد، ثنا حيوة - يعني ابن شريح - قال: سمعت أبا الأسود يقول: أخبرني أبو عبد الله مولى شداد أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "من سمع رجلا ينشد ‌ضالة في المسجد فليقل: لا أداها الله إليك، فإن المساجد لم تبن لهذا."

(فإن المساجد لم تبن لهذا) تعليل للحكم، ويحتمل أن يكون من جملة المقول، والإشارة إلى نشدان الضالة، بل المساجد بنيت لذكر الله تعالى وتلاوة القرآن والوعظ، حتى كره مالك البحث العلمي، وجوزه أبو حنيفة وغيره، ويستثنى من ذلك عقد النكاح فيه."

(کتاب الصلاۃ، باب: في كراهية إنشاد الضالة في المسجد، ج : 3 ، ص : 200 ، ط : مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويبدأ من غلته بعمارته)ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهمثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر

(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم

للمصلحة

‌كالإمام ‌للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح...وقوله إلى آخر المصالح: أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع اهـ ملخصا...ويقويه تجويزهم مخالفة شرط الواقف في سبعة مسائل منها: الإمام لو شرط له ما لا يكفيه يخالف شرطه اهـ.....والحاصل: أن الوجه يقتضي أن ما كان قريبا من العمارة يلحق بها في التقديم على بقية المستحقين، وإن شرط الواقف قسمة الريع على الجميع بالحصة أو جعل للكل قدرا وكان ما قدره للإمام ونحوه لا يكفيه فيعطي قدر الكفاية لئلا يلزم تعطيل المسجد، فيقدم أولا العمارة الضرورية ثم الأهم فالأهم من المصالح والشعائر بقدر ما يقوم به الحال،"

(کتاب الوقف، ج:4، ص:368، ط:سعید)

البحر الرائق شرح کنز الدقائق   میں ہے:

"فقد قال الله تعالى: {وأن المساجد لله} [الجن: 18] وما تلوناه من الآية السابقة فلايجوز لأحد مطلقًا أن يمنع مؤمنًا من عبادة يأتي بها في المسجد؛ لأن المسجد ما بني إلا لها من صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن ولايتعين مكان مخصوص لأحد."

 

(كتاب الصلاة، باب الإمامة ، الوطء فوق المسجد والبول والتغوط، ج:2، ص:36، ط:دارالكتاب الاسلامي) 

محیط برہانی میں ہے:

"إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك."

(‌‌‌‌كتاب الوقف ، الفصل الحادي والعشرون : في المساجد وهو أنواع ، 6/ 207 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

"وقال بعضهم: الذي فيها لا يصرف القاضي ‌الفاضل ‌من ‌وقف ‌المسجد إلخ

ثم قال: والظاهر أن ذلك لجواز احتياج المسجد إلى عمارة كثيرة فينبغي أن يعيد لها ما صرف إليها بشراء مستغل، وينبغي أن يكون أوقاف المدارس، والرباط في حكمه بخلاف ما ليس من هذا القبيل من الأوقاف (انتهى) .

وهو مطابق لما ذكره المصنف رحمه الله فعلى هذا يكون صاحب التتارخانية ذكره في موضع آخر."

(القاعدۃ الخامسۃ، ج:1، ص:377، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌الفاضل ‌من ‌وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد."

(کتاب الوقف،  الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به،ج:2، ص:463، ط:دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضاً:

"ولا تجوز إجارة الوقف إلا بأجر المثل كذا في محيط السرخسي"

(کتاب الوقف، الباب الخامس، ج:2، ص:419، ط:دار الفکر بیروت)

البحرالرائق میں ہے:

"‌السادسة ‌في ‌بيان ‌من ‌يقدم ‌مع ‌العمارة وهو المسمى في زماننا بالشعائر ولم أره إلا في الحاوي القدسي قال والذي يبتدأ به من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أو لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم

للمصلحة

كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح. اهـ."

(کتاب الوقف، ج:5، ص:230، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(الباب الثالث في المصارف وهو مشتمل على ثمانية فصول) الفصل الأول فيما يكون مصرفا للوقف فيصح الوقف عليه ومن لا يكون فلا يصح عليه الذي يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا، ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم كذا في السراج والبسط كذلك إلى آخر المصالح''

(کتاب الوقف، ج:2، ص:367، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں