بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی ٹوپی میں نماز


سوال

مسجد میں رکھی کپڑے، یا پلاسٹک کی ٹوپیوں میں نماز پڑھنا درست ہے؟ کیا اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا؟

جواب

نمازی بحالتِ نماز اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتاہے اور اللہ تعالیٰ کے در بار میں ایسے لباس میں حاضر ہونا ممنوع ہے، جس لباس کو پہن کر معزز مجمع یا مجلس میں حاضر ہونے میں ناگواری ہوتی ہو یا اس کو باعثِ عیب و عار سمجھا جاتا ہو، پلاسٹک اور چٹائی کی ٹوپی پہن کر معزز مجمع اور تقریب میں جانے کو معیوب  اور باعث عار  سمجھا جاتا ہے؛ اس لیے ایسی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے،  لہٰذا ان ٹوپیوں میں نماز پڑھنے کے بجائے   کپڑے کی صاف ستھری ٹوپی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے۔

مسجد میں اگر کپڑے کی ایسی صاف ستھری ٹوپی ہو جسے مہذب مجلس میں پہننا معیوب نہ سمجھا جاتا ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔

﴿ یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾  [الأعراف:۳۱]

ترجمہ:اے بنی آدم ہر نماز کے وقت زینت اخیتار کیا کرو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها، وإلا لا.

(قوله: وصلاته في ثياب بذلة) بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر، حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر، والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204201286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں