بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی تعمیر نو میں سابقہ مسجد سے چھوٹی مسجد تعمیر کرنے کا حکم


سوال

پہلے مسجد بڑی تھی، اب مسجد دوبارہ تعمیر کی اور پہلے سے چھوٹی بھی کی، گیلری کی جگہ چارفٹ رکھی، اب صحن بھی مسجد کی طرح برابر کرسکتے ہیں؟

جواب

واضح ر ہے کہ تعمیر  نو سے پہلے مذکورہ مسجد جتنے رقبے پر  تعمیر تھی، اس قدر رقبے پر دوبارہ مسجد بنانا ضروری ہے کیونکہ جس جگہ ایک مرتبہ مسجد شرعی بن جائے   تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے۔ اس کی اس حیثیت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہوتا ، لہذا صورت مسئولہ میں  سابقہ مسجد کی کوئی جگہ شرعی مسجد کی حدود سے خارج کرنا   جائز نہیں ہے۔اس لیے سابقہ مسجد کے رقبے کو مسجد شرعی کے لیے استعمال میں لایا جائے ، چاہے وہاں مسجد کا ہال تعمیر کیا جائے یا صحن تعمیر کیا جائے بہر  حال کسی جگہ کو مسجد سے خارج کرنا جائز نہیں ہوگا۔

البحر الرائق میں ہے:

"ولا يجوز للقيم أن يجعل شيئا من المسجد مستغلا ولا مسكنا وقدمناه ولم يذكر المصنف حكم المسجد بعد خرابه وقد اختلف فيه الشيخان فقال محمد إذا خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر أو لخراب القرية أو لم يخرب لكن خربت القرية بنقل أهلها واستغنوا عنه فإنه يعود إلى ملك الواقف أو ورثته.وقال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى كذا في الحاوي القدسي وفي المجتبى وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه قال وأما الحصر والقناديل فالصحيح من مذهب أبي يوسف أنه لا يعود إلى ملك متخذه بل يحول إلى مسجد آخر أو يبيعه قيم المسجد للمسجد وفي الخلاصة."

(کتاب الوقف،فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف،ج:5 ص:272،دار الكتاب الإسلامى)

فتاوی شامی میں ہے:

"و إن أراد أهل المحلة أن يجعلوا شيئًا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل ليس لهم ذلك وأنه صحيح، ثم نقل عن العتابية عن خواهر زاده إذا كان الطريق ضيقا والمسجد واسعا لايحتاجون إلى بعضه تجوز الزيادة في الطريق من المسجد لأن كلها للعامة اهـ والمتون على الثاني، فكان هو المعتمد لكن كلام المتون في جعل شيء منه طريقا، وأما جعل كل المسجد طريقا فالظاهر أنه لا يجوز قولًا واحدًا."

(كتاب الوقف،مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته:ج:4 ص:378،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں