بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی پرانی اشیاء کی فروختگی اور اس کے استعمال کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص مقامی مسجد میں کوئی پرانی چیز مثلاً: پنکھا، بلب، بٹن، نلکا یا چٹائی وغیرہ ہٹا کر اس کی جگہ نئی چیزیں اپنے پیسوں سے لگائے تو کیا اس بندے کے لیے وہی پرانی چیزیں اپنی ذاتی استعمال میں لانا جائز ہوگا؟

اور کوئی دوسرا شخص پیسے دے کر وہ پرانی چیزیں ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے یا نہیں؟یا اس کے علاوہ کوئی تیسرا شخص بغیر پیسے دیے مسجد کی پرانی چیزیں ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کے لیے وقف کی گئی اشیاء کے متعلق حکم یہ ہے کہ وہ چیزیں مسجد ہی کی ملکیت ہوتی ہیں، اور ان کا استعمال اسی مسجد میں ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس مسجد میں ان وقف شدہ اشیاء کی فی الحال ضرورت نہ ہو، لیکن آئندہ ان کے استعمال کی امید ہو، اور وہ اشیاء محفوظ بھی رکھی جا سکتی ہوں، تو ایسی صورت میں بلا ضرورت انہیں فروخت کرنا درست نہیں ہوگا، بلکہ انہیں محفوظ رکھا جائے تاکہ ضرورت کے وقت دوبارہ اسی مسجد میں استعمال کی جا سکیں۔

البتہ اگران اشیاء کے آئندہ استعمال کی کوئی امید نہ ہو، یا انہیں محفوظ رکھنا ممکن نہ ہو، یا ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مسجد کے زیرِ استعمال اشیاء میں سے صفیں، دریاں، قالین وغیرہ کو (جو زائد از ضرورت ہوں) ترجیحاً کسی دوسری مسجد کو، جہاں ان کی ضرورت ہو، قیمتاً دینا زیادہ مناسب ہے، تاکہ اس کی بے احترامی نہ ہو۔ اس کے علاوہ دیگر اشیاء (جیسے پنکھے، بلب، لائٹ، نلکے وغیرہ) مناسب قیمت پر کسی بھی دوسری مسجد یا شخص کو فروخت کرنا جائز ہے۔ اور اگر یہ چیزیں کسی دوسری مسجد میں قیمتاً دینے کی صورت نہ بنے تو بازاری قیمت پر فروخت کرکے اس کی رقم اسی مسجد میں خرچ کی جائے گی۔

لہٰذا اگر کوئی  شخص مسجد کی پرانی چیزیں ہٹا کر اس کی جگہ نئی چیزیں اپنے پیسوں سے لگائے، تو شرعًا یہ عمل نہ صرف جائز، بلکہ باعثِ ثواب بھی ہے۔ پھر ہٹائی گئی پرانی چیزیں اگر مسجد کی ضرورت سے زائد ہوں اور اسے محفوظ رکھنے کی صورت میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں نئی چیزیں لگانے والا شخص اگر صاحبِ حیثیت ہو تو بہتر ہے کہ وہ پرانی چیزیں مناسب قیمت ادا کرکے خرید لے اور اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ صاحبِ حیثیت نہ ہو اور مزید رقم دے کر پرانی چیزیں خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں نئی چیزیں لگانے سے قبل مسجد کی انتظامیہ کو اپنے ارادے پر مطلع کردے، اور انہیں یہ بھی کہہ دے کہ نئی چیزیں لگا کر پرانی چیزیں میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ پس اگر وہ اسے مناسب سمجھیں اور اس میں مسجد کا فائدہ بھی ہو تو نئی چیزیں لگا کر اس کے عوض مسجد کی پرانی چیزیں لینا اور اسے اپنے استعمال لانا جائز ہوگا۔

باقی مسجد کی زائد از ضرورت اشیاء کی فروختگی کی صورت میں کوئی بھی شخص قیمت ادا کرکے ان اشیاء کو خرید سکتا ہے، اور انہیں اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ لیکن مسجد کی اشیاء کا بلامعاوضہ لینا اور انہیں اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، اگر لینا ہو تو مناسب قیمت دے کر لیا جائے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"رجل بسط من ماله ‌حصيرا في المسجد فخرب المسجد ووقع الاستغناء عنه.... وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يباع ويصرف ثمنه إلى حوائج المسجد فإن استغنى عنه هذا المسجد يحول إلى مسجد آخر.....

 وذكر أبو الليث في نوازله ‌حصير المسجد إذا صار خلقا واستغنى أهل المسجد عنه.... أرجو أن لا بأس بأن يدفع أهل المسجد إلى فقير أو ينتفعوا به في شراء ‌حصير آخر للمسجد والمختار أنه لا يجوز لهم أن يفعلوا ذلك بغير أمر القاضي، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر، الفصل الأول، ج:2، ص:458، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

وفيه أيضاً:

"الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد، كذا في المحيط."

(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر، الفصل الثاني، ج:2، ص:463، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: ومثله حشيش المسجد إلخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد وحشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد وعند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، وعلى هذا الخلاف الرباط والبئر إذا لم ينتفع بها اهـ وصرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد قال في البحر: وبه علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اهـ والمراد بآلات المسجد نحو القنديل والحصير، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريبا من أن الفتوى على أن المسجد لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر." 

(کتاب الوقف، ج:4، ص:359، ط:ایج ایم سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

”سوال: منتظم مسجد، مسجد کے بوسیدہ فرش یا بوسیدہ لکڑی وغیرہ کو فروخت کر کے نیا فرش وغیرہ خرید سکتا ہے یا نہیں؟ اور پرانے سامان کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے یا نہیں؟ اور دوسرے محتاج نمازیوں کو تبرعًا دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: اس پرانے سامان کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس مسجد میں صرف کرنا چاہیے، تبرعًا کسی کو دینا یا بلا قیمت اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔“

(مسجد کی اشیاء اور بوسیدہ چیزوں کا بیان، ج:13، ص:480، ط:دار الاشاعت کراچی)

امداد المفتین میں ہے:

”سوال: ایک شخص نے کسی خاص مسجد کے ستون لگانے کے لیے لکڑی وقف کی اور اب اس لکڑی کی اس مسجد میں ضرورت نہ رہی، تو یہ لکڑی دوسری مسجد میں لگانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: درست نہیں، بلکہ اس کو فروخت کر کے اس مسجد کے دوسرے مصارف میں لگایا جائے یا محفوظ رکھا جائے کہ آئندہ ضرورت ہو تو اس میں صرف کیا جائے گا۔“

(کتاب الوقف، احکام المساجد، ص:641، ط:دار الاشاعت کراچی)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

”مسجد کا پرانا ملبہ اینٹ وغیرہ قابلِ احترام ہے، مناسب ہے کہ مسجد  ہی میں کسی مناسب جگہ استعمال کیا جائے..... ناپاک جگہ اور جہاں بے ادبی ہو، وہاں استعمال نہ کیا جائے، اگر بیچنے کی ضرورت ہو توکسی مسلمان کو بیچا جائے اور اسے ہدایت کردی جائے کہ یہ مسجد کا ملبہ ہے، اسے ایسی جگہ استعمال کیا جائے جہاں بے ادبی نہ ہو، غیر مسلم کونہ بیچا جائے، اس کو بیچنے میں بے ادبی کا قوی اندیشہ ہے۔“

(کتاب الوقف، احکام المساجد والمدارس، ج:9، ص:129، ط:دار الاشاعت کراچی)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101934

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں