بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی نچلی منزل چھوڑ کر دوسری منزل میں مستقل باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم


سوال

عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد میں نیچے نماز مستقل طور پر پڑھی جارہی تھی   پھر نیچے مناسب وضو کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے  اور  رمضان میں معتکفین کو مسجد سے نکل کر اوپر وضو کے لیے جانا پڑتا تھا، اس وجہ سے اہل محلہ کے مشورہ سے سابقہ امام صاحب نے اوپر نماز پڑھانا شروع کر دی، اب تقریبا 5سال ہوگئے ہیں، نیچے والی مسجد میں بچے سبق پڑھتے ہیں اور بوقت ضرورت نمازی نماز بھی پڑھ لیتے ہیں ۔کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مسجد کی نچلی منزل کو چھوڑ کرکسی عذر کی بنا پر عارضی طور پر  با جماعت نمازیں بالائی منزل پر ادا کرنا جائز تو ہے،لیکن مستقل طور پر اس کا معمول بنا لینا مناسب نہیں ہے ؛اس لیے کہ یہ مسجد کی اصل وضع اور امت کے تعامل و توارث کے خلاف ہے ،لہذا بہتر یہ ہے کہ جماعت کی نماز نچلی منزل پر ہی کرائی جائے ،نچلی منزل بھر جائے تو باقی مقتدی پہلی منزل پر کھڑے ہوسکتے ہیں ،نچلی منزل میں  وضو کے لیے مناسب انتظام کا نہ ہونا ایسا عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے  مسجد کی نچلی منزل میں جماعت ترک کردی جائے، نیز مسجد میں تعلیم دینے سے عموما مسجد کے آداب کی رعایت نہ رکھنے کی وجہ سےمسجد کی بے حرمتی لازم آتی ہے،البتہ اگر کہیں اور انتظام کرنا مشکل ہو تو مسجد کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے مسجد  کی نچلی منزل میں بچوں کو تعلیم دینے کی گنجائش ہے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن واثلة بن الأسقع، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: جنبوا مساجدكم ‌صبيانكم، ومجانينكم، وشراءكم، وبيعكم، وخصوماتكم، ورفع أصواتكم، وإقامة حدودكم، وسل سيوفكم، واتخذوا على أبوابها المطاهر، وجمروها في الجمع."

(کتاب المساجد والجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد، ج:1،ص:247، ط: دار احیاء الکتب العربیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"يجوز الدرس في المسجد، وإن كان فيه استعمال اللبود والبواري المسبلة لأجل المسجد، كذا في القنية."

(کتاب الکراهية،الباب الخامس فی آداب المسجد،ج:5،ص: ،320،ط:رشيدية)

 وفیہ ایضا:

"الصعود على سطح كل مسجد مكروه، ولهذا إذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لا يكره الصعود على سطحه للضرورة، كذا في الغرائب."

(کتاب الکراهية،الباب الخامس فی آداب المسجد،ج:5،ص:322،ط:رشيدية)

احسن الفتاوی میں ہے:

"سوال:ایک مسجد دو منزلہ ہے،نچلی منزل میں حبس ہوتا ہے ،اس لیے گرمیوں میں اگر بالائی منزل میں جماعت کرلی جائےتو شرعا اس میں کوئی قباحت تو نہیں ؟

جواب:اگر مسجد کے اوپر مسقف منزل نہ ہو تو ایسی حالت میں بلا ضرورت مسجد کی چھت پر چڑھنا اور حبس وغیرہ کی وجہ سے چھت پر منفردا نماز پڑھنا یا جماعت کرنا مکروہ ہے ،البتہ مسجد کے اندر جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کچھ مقتدیوں کا مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ نہیں ،قال فی الہندیہ...

صورت مسئولہ اس سے کچھ مختلف ہے ،اس لیے کہ اس میں مسجد کی بالائی منزل مسقف ہےاور نماز کی نیت سے بنائی گئی ہے اس لیے اس میں ویسی کراہت تو نہیں مگر نفس کراہت سے خالی نہیں ،اس لیے کہ نچلی منزل کو چھوڑ کر بالائی منزل میں جماعت کرنا مسجد کی اصل وضع اور امت کے متوارث تعامل کے خلاف ہے ،نیز نچلی منزل کا جماعت سے خالی رہنا مسجد کے احترام کے خلاف ہے ،البتہ بعذر حبس و غیرہ بلا کراہت جائز ہے۔"

(کتاب الصلوۃ،باب الامامۃ و الجماعۃ،ج:3،ص:287،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701102203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں