
ہمارےمعاشرےمیں بعض حضرات بڑی بڑی عمارتوں والی مساجدتعمیرکرتےہیں ،جس میں بعض تعمیرات بالکل بغیرضرورت کےکھڑی کردی جاتی ہیں ،کوئی بھی عبادت اس میں نہیں کی جاتی ،اسی طرح مساجدکی تزیین وآرائش پربھی بیش بہامال خرچ کرتےہیں ،جب کہ پڑوس یادورکےبعض علاقوں میں مساجدومدارس کی تعمیرمیں دوسرےمسلمانوں کواشدمدداورتعاون کی حاجت ہوتی ہے،باوجودقدرت کےان کی مددونصرت نہ توقولاًکی جاتی ہےاورنہ ہی فعلاً۔
اب سوال یہ ہےکہ کیاایساکرناگناہ اورخلاف شریعت نہیں ہے؟اوران کایہ عمل کس زاویہ سےدیکھاجائےگا؟اوروہ تعمیرجوبغیرضرورت کےکھڑی کردی گئی ہوکھلااسراف نہیں ہے؟اورایسےلوگوں کےمتعلق شریعت کا کیاحکم ہے؟
مساجدکی تعمیربہت بڑےثواب کاکام ہے،اوراللہ کی رضاکےلئےمسجدبنانےوالےشخص کےمتعلق کئی فضائل واردہوۓہیں ، مسجد کی تعمیر کےمتعلق ضابطہ یہ ہے وہ مسجد جس محلے میں واقع ہو، اس محلے میں موجود گھروں سےشاندارہونی چاہیےتاکہ گھروں سےزیادہ مسجدمیں وقت گزارنےکوترجیح دیں ،البتہ ضرورت سےزائد تزیین و آرائش کے لیے وقف کے پیسوں کا استعمال جائز نہیں، اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مال سے اس تزیین و آرائش کا اہتمام کرتا ہے، تو گنجائش ہے، الغرض مسجد علاقے کے مکانات سے عمدہ و اچھی ہو نی چاہیے۔
لہذا اگر کسی معاشرے میں مندرجہ بالا اصول کے تحت خوبصورت اور عمدہ مساجد تعمیر کی جاتی ہیں ، جیساکہ عموماً شہروں میں عمدہ مکانات بنائے جاتے ہیں، تو وہاں مساجد ان سے زیادہ عمدہ تعمیر کی جائیں، تو یہ مستحسن عمل ہے۔
نیز مساجد کئی منزلہ تعمیر کرنا بھی جائز ہے ، اگر پنج وقتہ نمازوں میں مساجد کی یہ منزلیں خالی ہوں لیکن جمعہ میں اتنا مجمع موجود ہو کہ ان منزلوں پر نماز ادا کی جاتی ہو، تو کئی منزلہ مسجد کی تعمیر جائز ہے ،جو حضرات اس طرح مساجد تعمیر کرتے ہیں ان پر طعن کرنا یا دوسری جگہ تعاون نہ کرنے کی وجہ سے انہیں موردالزام ٹھہرانادرست نہیں ہے۔
البتہ دور دراز کے علاقوں میں جہاں مساجد یا مدارس کی تعمیر ہورہی ہو ان کے ساتھ بھی اہل خیر مسلمانوں کو بھرپور تعاون کرنا چاہیے ، اور اس کارخیر میں خوب حصہ لینا چاہیے ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"فِي بُيُوتٍ أَذِنَ ٱللَّهُ أَن تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُ"
(وہ نور)ایسےگھروں میں ہے(کہ)اجازت دی ہےاللہ تعالی نےکہ بلندکئےجائیں وہ اورلیاجاۓان میں اللہ کانام۔( ہدایت القرآن)
اس آیت کےتحت تفسیرہدایت القرآن میں ہے:
"اللہ تعالی نےاجازت دی ہےکہ مسجدیں بلندکی جائیں۔اس میں رفعت ظاہری وباطنی دونوں شامل ہیں۔
رفعت ظاہری یہ ہےکہ مسجدوں کوشانداراورلوگوں کےگھر سےبہتربنایاجاۓ۔میناروں کارواج غالباًاسی لئےپڑاہےکہ مسجدیں سب مکانوں سےبلندنظرآئیں۔اوریہ حکم غالباًپچھلی امتوں کےلئےبھی ہوگا،چنانچہ عیسائیوں کےچرچ اورہندؤوں کےمندرمینارہ نمابناۓجاتےہیں،تاکہ دورسےنظرآئیں۔
اوررفعت باطنی سےمرادیہ ہےکہ مسجدوں کوہربری چیزسےپاک رکھاجاۓ،ان کاادب واحترام کیاجاۓ،اوران کوانہی مقاصدکےلئےاستعمال کیاجاۓجس کےلئےوہ بنائی گئی ہیں۔
اوریہ دونوں باتیں لفظ"أذن"سےبیان کرنےکامقصدحکم کوہلکا کرناہے،کیونکہ بعض مرتبہ مسلمانوں کےحالات ایسےنہیں ہوتےکہ وہ مسجدوں کوشانداربنائیں،اس وقت جھونپڑابھی مسجدکاکام دےگا۔مسجدنبوی شروع میں جھونپڑاہی تھی،پھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےاس کوشانداربنایا۔
البتہ مساجدکی غیرضروری ٹیپ ٹاپ اورنقش ونگارکرنےکی حدیث میں ممانعت آئی ہے،اوریہ توبہت ہی نامناسب طریقہ ہےکہ دنیابھرمیں چندہ کرکےمسجدوں کوعالی شان بنایاجاۓ،بلکہ چاہئےیہ کہ جس طرح بستی والےاپنےگھربناتےہیں،سب مل کراللہ کاگھراپنےگھروں سےعالی شان بنائیں،اسی حدتک رفعت مطلوب ہے۔"
(سورۃالنورآیت: 36،ج: 6،ص: 83،ط: مکتبہ غزنوی)
البحرالرائق میں ہے:
"(قوله ولا نقشه بالجص وماء الذهب) أي ولا يكره نقش المسجد وهو المذكور في الجامع الصغير بلفظ لا بأس به وقيل يكره للحديث إن من أشراط الساعة تزيين المساجد وقيل مستحب لأنه من عمارته وقد مدح الله فاعلها بقوله {إنما يعمر مساجد الله} [التوبة: 18] وأصحابنا قالوا بالجواز من غير كراهة ولا استحباب لأن مسجد رسول الله كان مسقفا من جريد النخل وكان يكف إذا جاء المطر وكان كذلك إلى زمن عثمان ثم رفعه عثمان وبناه وبسط فيه الحصى كما هو اليوم كذلك ومحل الاختلاف في غير نقش المحراب أما نقشه فهو مكروه لأنه يلهي المصلي كما في فتح القدير وغيره قال المصنف في الكافي وهذا إذا فعل من مال نفسه أما المتولي فإنما يفعل من مال الوقف ما يحكم البناء دون النقش فلو فعل ضمن حينئذ لما فيه من تضييع المال فإن اجتمعت أموال المساجد وخاف الضياع بطمع الظلمة فيها لا بأس به حينئذ اهـ."
(كتاب الصلاة،باب مايفسدالصلاة ومايكره فيها،ج: 2،ص: 64،ط: سعيد)
الموسوعۃالفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"وقال القليوبي: عمارة المسجد هي البناء والترميم والتجصيص للإحكام ونحو ذلك، وأجرة القيم ومصالحه تشمل ذلك. وقال: لو زاد ريع ما وقف على المسجد لمصالحه أو مطلقا ادخر لعمارته، وله شراء شيء به مما فيه زيادة غلته ولو زاد ريع ما وقف لعمارته ولم يشتر منه شيء، ويقدم عمارة عقاره على عمارته وعلى المستحقين وإن لم يشترطه الواقف."
(حرف الميم،مسجد،تزويق المسجد،ج: 37،ص: 203،ط: دارالصفوة مصر)
الفقہ المیسرمیں ہے:
"والواجب على جميع المسلمين أن يتعاونوا فيما بينهم في إنشاء مرافق أخرى من مساجد ومدارس إسلامية وغير ذلك مما يحتاجون إليه، مع العناية بأن تكون الولاية والإشراف على المساجد والمدارس ونحوها التي تبنيها لهم الحكومة، للمسلمين لا لغيرهم؛ حتى لا يحدثوا فيها ما يخالف الشرع."
(قسم النوازل،النوازل في العبادات،المساجد التي تبنيها دولة كافرة لشعبها،ج: 9،ص: 29،ط:الرياض)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101340
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن