
ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جو ابھی تعمیر ہوئی ہے۔ مسجد کی چار دیواری کے اوپر خوبصورتی کے لیے گھنٹیاں لگائی گئی ہیں، جو عام طور پر جانوروں کے گلے میں باندھی جاتی ہیں۔ جب ہوا چلتی ہے تو یہ گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد کی چار دیواری کے اوپر محض زیب و زینت اور خوبصورتی کے لیے اس طرح کی گھنٹیاں لگانا شرعاً جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں مسجد کی دیوار پر اس طرح کی گھنٹیاں لگانا کہ ہوا کےچلنے وہ بچتی رہیں ، شرعاً جائز نہیں ، اس طرح کی گھنٹیاں لگانے سے مسجد میں عبادت کرنے والوں کی عبادت میں خلل ہوگا، ان کی یکسوئی متاثر ہوگی، نیز یہ گھنٹیاں ناقوس سے مشابہت رکھتی ہیں ، اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی آواز سے ساز کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جس سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے، اور اسلام میں ایسی آواز کا سننا بھی ناجائز ہے۔ نیزاس طرح کی گھنٹیاں لگانے سے دیگر غیرمسلموں (جیساکہ ہندو اپنے مندر میں لگاتے ہیں)کی عبادت گاہوں سے بھی مشابہت ہے۔ لہذا مذکورہ مسجد کی دیوار سے اس طرح کی گھنٹیاں ہٹادی جائیں ۔
صحیح البخاری ميں هے:
"حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا عبد الرزاق قال: أخبرنا ابن جريج قال: أخبرني نافع: أن ابن عمر كان يقول: كان المسلمون حين قدموا المدينة، يجتمعون فيتحينون الصلاة، ليس ينادى لها، فتكلموا يوما في ذلك، فقال بعضهم: اتخذوا ناقوسا مثل ناقوس النصارى، وقال بعضهم: بل بوقا مثل قرن اليهود، فقال عمر: أولا تبعثون رجلا ينادي بالصلاة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (يا بلال، قم فناد بالصلاة)."
كتاب الأذان، باب: بدء الأذان، ج:1، ص:219، ط:دار ابن كثير)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
" و عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «لايحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس» ". رواه مسلم.
(ولا جرس) : بزيادة لا للتأكيد. قال الطيبي: جاز عنه على قوله فيها كلب، وإن كان مثبتا ; لأنه في سياق النفي. في المغرب: الجرسبفتحتين ما يعلق بعنق الدابة وغيره فيصوب. قال النووي: وسبب الحكمة في عدم مصاحبة الملائكة مع الجرس أنه شبيه بالنواقيس، أو ; لأنه من المعاليق المنهي عنها لكراهة صوتها، ويؤيده قوله ; أي: الآتي مزامير الشيطان، وهو مذهبنا، ومذهب مالك وهي كراهة تنزيه، وقال جماعة من متقدمي علماء الشام: يكره الجرس الكبير دون الصغير اهـ.
وقال بعض العلماء: جرس الدواب منهي عنه إذا اتخذ للهو، وأما إذا كان فيه منفعة فلا بأس. وفي شرح السنة: روي أن جارية دخلت على عائشة، وفي رجلها جلاجل فقالت عائشة: أخرجوا عني مفرقة الملائكة، وروي أن عمر رضي الله عنه قطع أجراسا في رجل الزبير، وقال: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: إن مع كل جرس شيطانا . (رواه مسلم) : وكذا أحمد، وأبو داود والترمذي."
(كتاب الجهاد، باب آداب السفر، ج:6، ص:2511، ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
" (قوله: وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام وإن سمع بغتة يكون معذورا ويجب أن يجتهد أن لا يسمع قهستاني."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:385، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802102042
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن